Wed, September 16, 2026

27ویں ترمیم : جسٹس اطہر من اللہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط

27ویں ترمیم : جسٹس اطہر من اللہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو 8 اکتوبر کو ایک کھلا خط لکھا ہے، جس میں عدلیہ کے موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں اکثر طاقتور طبقات کا ساتھ دیا ہے اور عوام کے حقوق کی پامالی کی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف عدالتی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک ہی تسلسل کا حصہ ہیں۔

خط میں جسٹس اطہر من اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو عوامی اعتماد حاصل کرنے کی کوششوں پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور سچ کو صرف نجی محفلوں تک محدود رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی مداخلت اب ایک کھلی حقیقت بن چکی ہے اور وہ ججز جو سچ بولتے ہیں، انہیں انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب، سپریم کورٹ کے 38 سابق قانونی ماہرین نے بھی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں عدلیہ کی موجودہ صورتحال پر فل کورٹ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ عدلیہ آج 2007 کے مقابلے میں زیادہ سنگین بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کا ردعمل طے کرے گا کہ آیا وہ سپریم کورٹ کا دفاع کریں گے یا اسے دفن ہونے دیں گے۔

ٹیگز: