Wed, September 16, 2026

وصل سے ہجر تک سفر

وصل سے ہجر تک سفر

ماضی، وہ خواب ہے جو آنکھوں نے دیکھا اور دل نے محسوس کیا، مگر وقت کے ہاتھوں کہیں کھو گیا۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں کبھی مسکراہٹیں جھلکتی تھیں، مگر اب نمی کی دھند چھائی ہے۔ ماضی ہمیشہ قریب لگتا ہے، مگر چھونے جاؤ تو ریت کی طرح انگلیوں سے پھسل جاتا ہے۔
کبھی بچپن کی شرارتیں یاد آتی ہیں، کبھی دوستوں کی بے فکریاں، کبھی ماں کی دعائیں، کبھی کسی پیارے کی مسکراہٹ۔ سب کچھ آنکھوں کے سامنے آتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب گزرا وقت ہے، جو لوٹ کر نہیں آتا۔ ماضی کی یادیں دل کو سہلاتی بھی ہیں اور چبھتی بھی۔ کبھی ایک پرانی تصویر دیکھ کر ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے، اور کبھی ایک خاموشی دل کے اندر طوفان برپا کر دیتی ہے۔ ماضی ہمیں وہ سب کچھ یاد دلاتا ہے جو ہم کھو چکے ہیں، اور وہ بھی جو ہم بن سکتے تھے مگر بن نہ سکے۔ زندگی کی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ ماضی ہی وہ خزانہ ہے جس میں ہماری پہچان چھپی ہے۔ مگر افسوس، وقت کے دریا نے اسے اپنے بہاؤ میں بہا دیا۔ اب بس یادوں کے کچھ جزیرے ہیں جو دل کے ساحل پر ابھر آتے ہیں۔ کبھی مسکان بن کر، کبھی آنسو بن کر۔ ماضی دراصل دل کا وہ کمرہ ہے جس کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، مگر وہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ آٹھ بازاروں کے شہر فیصل آباد کے کوتوالی روڈ سے تاریخی گھنٹہ گھر کی طرف جائیں تو امین پور بازار آتا ہے۔ جہاں کپڑے کی دکانوں سے لے کر ریسٹورنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی بازار میں دائیں ہاتھ چار پانچ دکانیں چھوڑ کر ایک ایسی دکان تھی جو پاکستان اور ہندوستان میں موسیقی کے فروغ کے حوالے سے ایک یادگار تھی ۔
رحمت گراموفون ہاؤس (آر جی ایچ) جسے تقسیم کے بعد امرتسر سے ہجرت کرنے والے چودھری رحمت علی نے 1949 میں شروع کیا تھا، اسے ملک بھر کے موسیقی کے شائقین جانتے ہیں۔ آر جی ایچ کے پاس نہ صرف گراموفون ریکارڈوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تھا (جسے پنجابی میں توے کہا جاتا ہے) بلکہ یہ ایک ریکارڈنگ سٹوڈیو بھی تھا جو کلاسیکی اور لوک موسیقی کے بہت سے گلوکاروں کیلئے لانچنگ پیڈ کی حیثیت رکھتا تھا۔ نصرت فتح علی خان، عطا اللہ خان عیسی خیلوی بلکہ (عطا اللہ خان  کے پاس تو چودھری رحمت علی خود چل کر گئے تھے) منصور ملنگی، اللہ دتہ لونے والا اور عزیز میاں قوال تک سبھی نے اپنی پہلی آڈیو کیسٹس یہاں ریکارڈ کیں۔ ان سے پہلے عالم لوہار، فتح علی خان اور مبارک علی خان جیسے دوسرے موسیقار بھی یہاں سارنگی (وائلن) کے ساتھ ریکارڈنگ کراتے رہے۔ سرائیکی اور پوٹھو ہاری بیلٹ میں معروف گلوکار احمد نواز چھینہ، ماسٹر حسین بخش، خوشحال خاں اور رحمت خاں وغیرہ کو بھی یہیں سے متعارف کرایا گیا۔ شریف راگی نے 1980 کی دہائی کے اپنے مشہور البم یہیں ریکارڈ کرائے جنہیں بہت سے ہندوستانی پنجابی گلوکاروں نے نقل کیا۔ آر جی ایچ نے معروف نعت خواں بھی متعارف کرائے جن میں عبد الرؤف روفی، سعید بھٹی اور عبد الستار نیازی مرحوم شامل ہیں۔
چودھری رحمت علی کے بیٹے چودھری اسد کے بقول: ایک بار ایک شخص نے ہندوستان سے فون کیا کہ لتا منگیشکر مجھ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ یہ ناقابل یقین تھا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ان کا پہلا گانا کون سا ہے جو ہمارے پاس موجود تھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہ گانے فلم ’’آپ کی سیوا میں‘‘ کے تھے۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئی تھیں۔ چودھری اسد مزید بتاتے ہیں کہ 2012 میں ہنس راج ہنس ہماری دکان پر آئے اور دروازے پر احترام سے اپنے جوتے اتارے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مدت سے خواہش تھی کہ وہ یہاں آئیں۔ جاتے وقت انہوں نے نیاز کے طور پر ایک ہزار روپے بھی پیش کیے۔ یہ کمپنی اپنے زمانہ عروج میں ایک مہینے میں ایک البم کی لاکھوں کاپیاں تیار کرتی تھی۔ موسیقی کی انڈسٹری میں چھ عشروں سے زیادہ عرصے تک اپنا لوہا منوانے کے بعد بالآخر 2016 میں یہ کمپنی جدید ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، موبائل وغیرہ کی ترقی کے ساتھ وقت کے بدلتے تقاضوں کی وجہ سے بند ہو گئی اور اب اس دکان میں کپڑوں پردوں وغیرہ کا کاروبار ہوتا ہے۔
چودھری اسد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ہزاروں کیسٹس اور گراموفون کے ریکارڈ موجود ہیں جنہیں وہ اپنی آرکائیوز میں شامل کر چکے ہیں۔ چودھری رحمت علی کا انتقال 2005 میں ہوا۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ چودھری صاحب مرحوم کے توسط سے متعارف گلوکاروں کو تو انعامات سے نوازا گیا اور سڑکیں اور مقامات ان کے نام پر رکھے گئے لیکن سرکاری سطح پر چودھری صاحب کو میوزک انڈسٹری میں خدمات کیلئے کوئی پہچان اور پذیرائی نہیں ملی۔ اگرچہ آر جی ایچ اب کاروبار ختم کر چکی ہے لیکن اس کے پاس اب بھی بھی آڈیو کیسٹوں اور گراموفون ریکارڈوں کی صورت میں نادر موسیقی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ریاست پاکستان کی وزارت ثقافت کو کم از کم اس موسیقی کو ڈیجیٹلائز کر کے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ آنے والی نسلیں اپنی موسیقی کی تاریخ سے آگاہ ہوں اور ہماری تہذیب و ثقافت محفوظ رہ سکے۔

ٹیگز: