Wed, September 16, 2026

سوڈان: جہنم ارضی

سوڈان: جہنم ارضی

آج سوڈان میں گورے نہیں کالے مارے جا رہے ہیں، لہٰذا یہ انسانی المیہ نہیں؟ مجھے عظیم باکسر اور قابل تقلید انسان محمد علی یاد آ رہے ہیں۔ محمد علی صرف ایک عظیم باکسر ہی نہیں بلکہ شعور، خودی اور مزاحمت کی علامت بھی تھے۔ انہوں نے گورے معاشرے کی لسانی اور نسلی برتری کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ کیوں ہر اچھی چیز وائٹ اور ہر بُری چیز بلیک کہلاتی ہے؟ وائٹ ہاؤس طاقت کی علامت، وائٹ کالر جاب عزت کی نشانی، مگر بلیک میل، بلیک شیپ اور بلیک لسٹ ہمیشہ منفی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ محمد علی نے ان تضادات کو اجاگر کر کے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک سوچ کی عکاسی ہیں وہ سوچ جو صدیوں سے سفید کو برتر اور سیاہ کو کمتر ثابت کرتی آئی ہے۔ ان کی بصیرت نے یہ پیغام دیا کہ انسان کی اصل پہچان رنگ نہیں، کردار اور انصاف ہے۔
سوڈان، جو کبھی افریقہ اور عرب دنیا کے سنگم پر امید کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا، آج خانہ جنگی، انسانی المیے اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ اپریل 2023 سے شروع ہونے والا یہ بحران نہ صرف سوڈان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ یہ جنگ دو طاقتور عسکری قوتوں کے درمیان ہے سوڈانی فوج جس کی قیادت جنرل عبدالفتاح البرہان کر رہے ہیں، اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) جس کی قیادت محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کے ہاتھ میں ہے۔ دونوں کبھی اتحادی تھے، مگر اقتدار کی ہوس نے انہیں دشمن بنا دیا۔ یہ بحران دراصل 2019 کے سوڈانی انقلاب کی نئی شکل ہے جب عوام نے تین دہائیوں سے حکمران آمر عمر البشیر کو اقتدار سے بے دخل کیا تو دنیا نے سمجھا کہ شاید سوڈان میں ایک نیا جمہوری دور شروع ہو رہا ہے۔ مگر جلد ہی امیدیں مایوسی میں بدل گئیں۔ فوج اور نیم فوجی گروہ آر ایس ایف نے عبوری حکومت سنبھالی، 2021 میں فوجی بغاوت نے دونوں طاقتوں میں بداعتمادی کی فضا بنا دی۔ آر ایس ایف نے غیر ملکی روابط بڑھا کر اپنے وسائل اور ہتھیار بڑھا لیے۔ 15 اپریل 2023 کو خرطوم میں گولیاں چلیں اور اگلے چند روز میں سوڈان بھر میں آگ بھڑک اٹھی۔ آر ایس ایف نے ابتدائی طور پر کئی شہروں پر قبضہ کر لیا، یوں ملک ایک تباہ کن خانہ جنگی میں ڈوب گیا، جس کا اختتام تاحال نظر نہیں آ رہا۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان سوڈانی عوام کو پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 15 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، لاکھوں زخمی یا لاپتہ اور تقریباً 1.2 کروڑ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ سوڈان کے شہروں جیسے خرطوم، دارفور اور الابیض میں ہسپتال تباہ، بجلی و پانی کا نظام درہم برہم اور غذائی قلت نے قحط کا منظر پیدا کر دیا ہے، پناہ گزینوں کی سب سے بڑی لہر جنوبی سوڈان، چاڈ، مصر اور ایتھوپیا کی طرف گئی ہے۔ ان ممالک پر دباؤ بڑھنے سے علاقائی استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے۔ آر ایس ایف اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں پر الزام ہے کہ وہ نسلی بنیادوں پر حملے کر رہی ہیں، خصوصاً افریقی قبائل کے خلاف۔ سیکڑوں دیہات جلائے جا چکے ہیں، عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں۔ دنیا نے دارفور کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وعدہ کیا تھا مگر بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی اور کوئی مؤثر ردِعمل سامنے نہیں آ رہا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اور افریقی یونین کی اپیلیں کاغذ کے ٹکڑے، امریکہ اور یورپی یونین نے دونوں فریقوں پر پابندیاں لگائیں، مگر زمینی حقائق پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ مصر فوج کا حامی جبکہ متحدہ عرب امارات پر آر ایس ایف کو اسلحہ اور مالی امداد دینے کے الزامات ہیں۔ اس طرح یہ خانہ جنگی ایک علاقائی پراکسی جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں جدہ، ایتھوپیا اور کینیا میں کئی امن مذاکرات ہوئے، مگر ہر بار جنگ بندی چند دنوں میں ٹوٹ گئی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر عدم اعتماد کرتے ہیں اور کسی سیاسی حل کے لیے تیار نہیں۔ آر ایس ایف کا ملک کے مغربی اور جنوبی حصوں پر عملی کنٹرول جبکہ فوج شمال اور مشرق میں نسبتاً مضبوط ہے۔ اس تقسیم نے سوڈان کو عملاً دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، جیسے لیبیا یا یمن میں ہوا تھا۔ جنگ جاری رہی تو سوڈان مکمل طور پر ٹوٹ سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے خاص طور پر مصر، چاڈ، جنوبی سوڈان اور بحیرہ احمر کے ممالک پر پڑیں گے ۔ سیاسی طور پر، جب تک سوڈان میں ایک جامع سویلین حکومت قائم نہیں ہوتی اور دونوں فوجی قوتوں کو جوابدہ نہیں بنایا جاتا، پائیدار امن کا امکان نہیں۔ اس اندھیرے میں ایک روشنی سوڈانی عوام کی ہے جو تمام تر مظالم کے باوجود جمہوریت اور انسانی وقار کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ رزسٹینس کمیٹیوں کے نوجوان کارکن اب بھی مقامی سطح پر امداد، تعلیم اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کا عزم بتاتا ہے کہ سوڈان کا مستقبل ابھی ختم نہیں ہوا، اگر دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ سوڈان کے جاری بحران نے عالمی برادری اور میڈیا کی دوہری پالیسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جہاں یوکرین یا غزہ جیسے تنازعات کو عالمی توجہ اور سیاسی ہمدردی حاصل ہے، وہیں سوڈان جیسے افریقی ملک کی تباہی پر دنیا تقریباً خاموش ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل درجنوں اجلاس کے باوجود کوئی مؤثر قرارداد منظور نہ کر سکی، کیونکہ بڑی طاقتوں کے مفادات اس جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ ادھر بین الاقوامی میڈیا کی خاموشی حیران کن ہے۔ لاکھوں جانوں کے زیاں اور اجتماعی آبرو ریزی جیسے جرائم عالمی شہ سرخیوں میں جگہ نہیں پاتے۔ یہ خاموشی دراصل اس عالمی نظام کی عکاس ہے جس میں انسانی جان کی قیمت جغرافیائی مفاد سے کم ہے۔ سوڈان کی تباہی صرف ایک ملک کا سانحہ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی شکست ہے، جو طاقتور کے جرم پر خاموش اور کمزور کے درد سے بے نیاز ہو۔ آج سوڈان میں گزرنے والے المیے کو دیکھ کر عظیم باکسر محمد علی یاد آتے ہیں، جنہوں نے سچائی، انصاف اور انسانی وقار کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ رنگ اور نسل سے نہیں بلکہ کردار اور انسانیت سے انسان کی پہچان ہوتی ہے۔ سوڈانی عوام بھی انہی اصولوں پر جدوجہد کر رہے ہیں، اور دنیا پر فرض ہے کہ ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دے۔

ٹیگز: