تاریخ پاکستان کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں ہمارے ابا و اجداد نے بے شمار قربانیوں اور انتھک جدوجہد کے بعد پاکستان کے حصول کو ممکن بنایا۔ متحدہ ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ، تاہم بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہ مسلسل پاکستان کے خلاف مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہا۔سانحہ سقوط ڈھاکہ بھارت کے مکروہ کردار کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت کا یہ طرز عمل اور ذہنیت برقرار ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ ا س تناظر میں ہم بھی بھارت کو اپنا ازلی دشمن گردانتے ہیں۔ ہماری اس سوچ کی وجہ بھارت کا منفی طرز عمل ہے۔ یہ چھپ کر اور کبھی سامنے آکر پاکستان پر وار کرتا ہے۔ کبھی افغانستان کو اپنی ڈھال بناتا ہے اور کبھی ناراض بلوچوں کو۔ اس کے باوجود ماضی میں پاکستان کی سفارتی پالیسی یہ رہی ہے کہ دیگر ہمسایوں کیساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم رکھے جائیں۔ماضی میں پاکستان کی کچھ سیاسی حکومتوں نے آگے بڑھ کر بھارت کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی، تاہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی افواج کے مظالم اور بھارت کے سفارتی طرز عمل کی وجہ سے معاملات مثبت سمت میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ اسے اللہ کا فضل ہی کہنا چاہیے کہ بھارت کی تما م تر سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود پاکستان کا وجود قائم و دائم ہے۔ اللہ نے اسے ایٹمی قوت بنایا اور اقوام عالم میں سرخرو کیا۔
معرکہ حق اس سر خروئی اور کامیابی کی ایک اہم کڑی کا نام ہے۔ اس معرکے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ 10 مئی کو ہم نے قومی سطح پر یہ دن منایا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ہماری افواج نے بھارت اور بھارتی افواج کا غرور خاک میں ملا دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے مقام پر نامعلوم دہشت گردوں کے حملے میں 26 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ بھارتی حکومت نے کوئی تحقیق کی اور نہ کسی قسم کے شواہد پیش کئے اور اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ کہا گیا کہ یہ کاروائی پاکستان نے کروائی ہے۔ اس واقعے کو جواز بناتے ہوئے بھارت نے ”آپریشن سندور“کے نام سے فوجی کاروائی کا آغاز کر دیا۔بھارت نے 7 مئی 2025 کو کم و بیش ستر سے زائد طیاروں اور میزائلوں کی مدد سے پاکستان کی حدود میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا اور حملے کئے۔ مساجد اور مدارس پر ہونے والے حملوں میں کم و بیش تین درجن بے گناہ شہری شہید ہو گئے۔ جوابی کاروائی کے طور پر پاکستان نے بھی بھارت کے رافیل طیاروں سمیت پانچ طیارے اور ایک ڈرون مار گرایا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی جنگ میں فرانس کے تیار کردہ جدید رافیل طیارے تباہ ہوئے ۔اس کے بعد بھارت نے اسرائیلی ساختہ ڈرون بھی پاکستان کے مختلف مقامات پر بھیجے جن میں سے بیشتر کو فضا میںہی تباہ کر دیا گیا۔ جمعہ 9 مئی 2025کو بھارت نے مزید جارحیت کرتے ہوئے پاکستان کے تین ائیر فورس بیسوں پر میزائل حملے کئے۔ اس دوران لائن آف کنٹرول پر بھی شدید گولہ باری جاری رہی۔ اس ساری صورتحال میں بھارت نے اپنے میڈیا کے ذریعے بھارتی عوام کو یہ پیغام دیا کہ انہوں نے (خدانخواستہ) پاکستان کو زیر کر دیا ہے۔ اس بات کا پروپیگنڈا کیا گیا کہ بھارتی فوج پاکستان میں داخل ہو گئی ہے۔ بھارتی بحری بیڑے نے کراچی بندر گاہ کو مکمل تباہ کر دیا ہے۔ پاکستان کے ائیر بیس تباہ کر دئیے ہیں۔ پاکستان کے دفاعی نظام کو مکمل ناکارہ کر دیا ہے۔ پاکستان کی حکومت گرا دی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
اس ساری کارروائی کے جواب میں ہفتہ 10 مئی 2025 کو نماز فجر کے بعد پاکستان آرمی نے آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کر دیا۔ بنیان مرصوص کے الفاظ قرآن پاک کی ایک آیت سے ماخوذ ہیں۔ اس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ۔ قرآن پاک کی سورت الصف کی چوتھی آیت میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ : ترجمہ۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ بعد ازاں افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی۔ ایس ۔ پی۔ آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ اس آپریشن کا آغاز فتح ون ، میزائل چلا کر کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 400 کلو میٹر تک کے فاصلے پر مار کرنے والے اس میزائل میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا سکے۔ اور واقعتا فتح ون نے بھارتی اہداف کو ٹھیک نشانہ بنا کر ہمیں فتح سے ہمکنار کیا۔ اس آپریشن میں بھارت کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارت کے فوجی اڈے، ائیر فیلڈز، اور مہنگا دفاعی نظام تباہ ہو گیا۔ بھارت نے اعتراف کیا کہ اس کے 26 مقامات پر حملے ہوئے ہیں۔تاہم یزیمت سے بچنے کے لئے بھارت نے بہت سے مقامات پر حملوں اور بھاری بھرکم نقصانات کی تردید کی۔ بھارت ہی کی درخواست پر امریکی صدر ٹرمپ نے مداخلت کی اور جنگ بندی ہو سکی۔
10 مئی کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے اس دن اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا۔ ہماری افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑی دفاعی طاقت جو ہم سے کہیں زیادہ بجٹ کی حامل ہے، کو صرف پانچ گھنٹوں میں دھول چٹوا دی۔ اس چند روزہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کو شرم ناک شکست سے دوچار کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ جنگیں محض ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں جیتی جاتیں۔ کسی مقابلے کو جیتنے کے لئے اللہ کی مدد اور جذبہ درکار ہوتا ہے۔ اس جنگی صورتحال میں دنیا بھر کے ممالک اور میڈیا کی نگاہیں پاکستان پر مرتکز تھیں۔ زیادہ تر تبصروں میں پاکستا ن اور بھارت کے عسکری وسائل کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ دنیا میں ہتھیاروں اور عسکری طاقت پر نگاہ رکھنے والی ویب سائٹ گلوبل فائر پاور کے 2025 کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں طاقتور ترین عسکری قوتوں میں امریکہ ، روس اور چین کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے۔ بھارت کے پاس 22 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل زمینی فوج ہے۔ فضائیہ کے ارکان کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار جبکہ بحریہ کے 1 لاکھ 42 ہزار اہلکار موجود ہیں۔ اس کے مقابلے مینں پاکستان کی بری فوج 13 لاکھ 10 ہزار، فضائیہ 78 ہزار، جبکہ بحریہ 1 لاکھ 25 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ ان وسائل کے باوجود پاکستان افواج نے جنرل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت جیسے قوی دشمن کو شکست فاش دی۔
آپریشن بنیان مرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر ہم سب کو مبارک باد۔ اللہ کرئے کہ پاکستان ہر مرحلے، ہر شعبے اور ہر موقع پر سرخروئی حاصل کرئے۔ ہمیشہ اپنے دشمنوں کو شکست سے دوچار کرئے اور اقوام عالم میں سربلندی حاصل کرئے۔ آمین۔