Wed, September 16, 2026

فیک نیوز… صحافت اور معاشرے پر خطرناک حملہ

فیک نیوز… صحافت اور معاشرے پر خطرناک حملہ

جدید دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے اطلاعات کے تبادلے کو ناقابلِ یقین حد تک تیز کر دیا ہے۔ لیکن اس رفتار کے ساتھ ساتھ جھوٹ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فیک نیوز کا پھیلاؤ بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خاص طور پر جنگی اور تنازعات کے ماحول میں جب قومیں جذباتی طور پر انتہا پسندی کا شکار ہوتی ہیں فیک نیوز کی زہریلی لہر نہ صرف عوامی رائے کو مسخ کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات، حکومتی پالیسیوں اور معاشرتی ہم آہنگی کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات کی بارش اس کی ایک واضح مثال ہے۔ 8 اور 9 مئی 2025 کے دوران بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے 400 ڈرونز کے ذریعے بھارت کے شہروں، فوجی اڈوں اور مذہبی مقامات پر حملے کیے ہیں۔ ان جھوٹے دعوؤں میں سکھ گردواروں اور عیسائی گرجا گھروں کو نشانہ بنانے کی بات بھی شامل تھی۔ تاہم، پاکستانی حکومت نے فوری طور پر ان الزامات کی تردید کی اور واضح کیا کہ یہ محض بھارتی پروپیگنڈا ہے جو اپنی جارحیت کو چھپانے اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ اس دوران، بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (ٹوئٹر) کو 8,000 سے زائد اکاؤنٹس بلاک کرنے کا حکم دیا، جن میں صحافیوں، دانشوروں اور سیاسی مخالفین کے اکاؤنٹس شامل تھے۔ اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نہ صرف جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے بلکہ سچائی کو دبانے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ 
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارتی میڈیا نے جھوٹی خبریں پھیلا کر عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھارتی میڈیا کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جن میں من گھڑت خبروں، جعلی ویڈیوز اور مسخ شدہ حقائق کو پیش کیا گیا۔ 2023 میں بھارتی خبررساں ادارے ANI نے حیدرآباد کی ایک قبر کی تصویر شائع کر کے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں قبروں پر تالے لگائے جاتے ہیں تاکہ مردہ خواتین کی بے حرمتی نہ ہو۔ اس خبر کو بھارتی میڈیا میں بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا اور پاکستان 
کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی۔ تاہم، بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ تصویر دراصل بھارت کی ہی تھی اور قبر کو غیر قانونی تدفین سے بچانے کے لیے تالا لگایا گیا تھا۔ یہ واقعہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی ایک اور کڑی تھی۔ اسی طرح 2019 میں بھارتی نیوز چینل Sudarshan News نے ایک پرانی ویڈیو کو ایڈٹ کر کے یہ تاثر دیا کہ آر ایس ایس کے کارکنوں کے قتل کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ ویڈیو کا آر ایس ایس سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ محض ایک جعلی خبر تھی جسے ہندو انتہا پسند گروپس نے پھیلایا تھا۔ حالیہ دنوں میں بھارتی میڈیا نے جس طرح 400 ڈرونز کے حملے کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا، وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی بھارت کی سرزمین پر ڈرون حملے نہیں کیے لیکن بھارتی میڈیا نے اس جھوٹ کو اس قدر پھیلا دیا کہ عوامی سطح پر غلط فہمیاں پھیل گئیں۔ پاکستان میں بھی لوگوں نے ان خبروں پر یقین کیا۔
فیک نیوز کے پھیلاؤ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا کردار انتہائی اہم ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیے "مبوٹس (خودکار اکاؤنٹس)" اور "جعلی پروفائلز" کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بوٹس ایک ہی خبر کو ہزاروں بار شیئر کرتے ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خبر حقیقی ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب کا الگورتھم ایسی خبروں کو ترجیح دیتا ہے جو زیادہ مشہور ہو رہی ہوں۔ چاہے وہ خبر جھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ اس وجہ سے، فیک نیوز تیزی سے وائرل ہو جاتی ہے اور حقیقی صحافت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ 2021 میں "مکیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل" نے ثابت کیا کہ کیسے ڈیٹا کا غلط استعمال کر کے صارفین کے جذبات کو ہیرا پھیرا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، آج کل "ڈیپ فیک ویڈیوز" اور "AI جنریٹڈ نیوز " نے فیک نیوز کو ایک نئے خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے۔ فیک نیوز صرف آن لائن تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 2017 میں میانمار میں فیس بک پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلایا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا اور لاکھوں کو بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بعد میں فیس بک نے تسلیم کیا کہ انہوں نے نفرت انگیز مواد کو روکنے میں ناکامی کی۔ 2020 کے امریکی انتخابات کے بعد سوشل میڈیا پر انتخابی دھاندلی کے جھوٹے دعوے پھیلائے گئے، جس کے نتیجے میں 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل پر حملہ ہوا۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ فیک نیوز جمہوریت کے لیے کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ 
فیک نیوز کے خلاف لڑنے کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں ، میڈیا تنظیموں اور آزاد اداروں کو چاہیے کہ وہ خبروں کی تصدیق کریں۔"AFP Fact Check"
"Poynter Institute"
اور Snopes جیسی تنظیمیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ عوام کو خبروں کی جانچ پڑتال کرنا سکھایا جائے۔ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں "میڈیا لٹریسی"کے کورسز متعارف کرائے جائیں۔ ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ وہ جعلی خبروں کو روکنے کے لیے سخت پالیسیاں بنائیں۔ ہر فرد کو چاہیے کہ وہ کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرے۔ "شیئر کرنے سے پہلے سوچیں"کا اصول اپنایا جائے۔ فیک نیوز ایک عالمی مسئلہ ہے جو نہ صرف صحافت کی ساکھ کو تباہ کر رہی ہے بلکہ معاشروں میں تقسیم، تشدد اور عدم استحکام کو بھی جنم دے رہی ہے۔ 
بھارت جیسے ممالک میں جہاں میڈیا کا ایک بڑا حصہ حکومتی پروپیگنڈے میں ملوث ہے وہاں سچائی کو دبانے کی کوششیں اور بھی خطرناک ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام، میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مل کر اس خطرے کا مقابلہ کریں۔ صرف ایک باشعور معاشرہ ہی فیک نیوز کے زہر سے بچ سکتا ہے۔اگر ہمیں اپنی قوم کی عزت اور امن کو برقرار رکھنا ہے تو ہمیں جھوٹ کی جنگ کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا۔ میڈیا کی طاقت کا استعمال ہمیں عقل اور ایمانداری کے ساتھ کرنا چاہیے، تاکہ ہم نہ صرف اپنی بلکہ دنیا کی حقیقت کو بہتر بنا سکیں۔

ٹیگز: