Wed, September 16, 2026

کہاتھا نا!آزمانا نہیں…

کہاتھا نا!آزمانا نہیں…

مئی کے مہینے کا ہم سے خاص رشتہ ہے اور یہ رشتہ ہے فخر کا،یہ رشتہ ہے ہمارے دفاع کے ناقابل تسخیر ہونے کا، یہ رشتہ ہے ریاست پر ہمارے بھروسے کا،یہ رشتہ ہے ہماری بقا کی ضمانت کا،یہ رشتہ ہے ہماری سالمیت کے تحفظ کی ضمانت کا اور یہ رشتہ ہے ہماری مسلح افواج سے ہر پاکستانی کے اٹوٹ رشتے اور خالص تعلق کا۔یہ بھی مئی کا ہی مہینہ تھا جب ہندوستان نے خطے میں اپنی بالادستی بنانے کے لیے پانچ ایٹمی دھماکے کرکے ہمیں یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ شاید ہم ان سے کم تر ہیں اور وہ ایٹمی قوت ہے لیکن اس کے جواب میں 28مئی 1998کو پاکستان نے پانچ کے مقابلے میں چھ ایٹمی دھماکے کرکے اسے بتادیا کہ اس خطے میں بالادستی کا خواب محال بھی ہے اور جنوں بھی ۔
ایک بات پھر مئی کا مہینہ آیا تو ہندوستان نے پاکستان پر جنگ مسلط کردی ۔پاکستان ایک بار پھر اس دشمن کو ایسا جواب دے رہا ہے جس کی تکلیف اتنی ہے کہ وہ نہ بتاپارہا ہے اور نہ ہی چھپا پارہا ہے۔ہم یہاں بیٹھ کر ہندوستان کی چیخیں سن رہے ہیں اور یہ چیخیں ابھی صرف ہمارے دفاع کی دین ہے ۔ابھی پاکستان نے حملہ تو کیا ہی نہیں ہے ۔سوچیں اگر پاکستان جارحیت کرتا تو ہندوستان کا کیا حال بنتا۔ہندوستان نے پہلگام فالس فلیگ کے بعد پاکستان پر الزام سے جن مقاصد کو حاصل کرنا تھا وہ ان کے حصول میں بری طرح نہ صرف ناکام رہا بلکہ اس جنگی جنون کی وجہ سے اپنی معیشت کے اسی سے سو ارب ڈالر کا نقصان بھی کروابیٹھاہے۔
چھ اور سات مئی کی رات جب ہندوستان نے اپنی سرشت کے عین مطابق رات کے اندھیرے میں ہمارے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ہماری مساجد اور مدارس کو شہید کیا ۔بچوں اور خواتین کو شہید کیا تو جواب میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا اور اپنے مکار دشمن کی طرح کسی ہندوستانی سویلین کو نشانہ بنانے کی بجائے اس کے جہاز مارگرائے۔اور جہازبھی وہ جس پر ہندوستان کو فخر تھا ۔ویسے تو ہندوستان کے غرور کو ہم نے خاک میں ہی نہیں ملایا بلکہ اس کو شرمندگی کے عمیق گڑھے میں پھینک دیا ہے۔میرے تجزیے کے مطابق پاکستان نے کل صبح حملے میں جن اہداف کو حاصل کیا ہے ہندوستان نے شاید اس کا کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ ہندوستانیوں کی وہ آوازیں جو رات کے اندھیرے میں بچے اور خواتین کو شہید کرنے کے بعد خوشی سے بلند ہورہی تھیں وہ کل اس طرح سے خاموش ہیں کہ بلی بھی شاید پانی میں بھیگ کے کچھ سلامت رہ جاتی ہے۔
پاکستان نے ہندوستان کے جس جس غرور کو دھول کھلائی ہے ان کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کو اس بات کا بڑا غرور تھا کہ اس کی فضائی طاقت بہت زیادہ ہے ۔ وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان کی ایئر فورس ان کے ملک کا دفاع ہی نہیں بلکہ پاکستان پر حملہ کرکے ہمیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ پلوامہ کے بعد جہاز کی تباہی اور ابھینندن کے زندہ پکڑے جانے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نے اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے یہ کہا تھا کہ ان کے پاس رافیل طیارے آرہے ہیں اگر وہ پہلے آجاتے تو ہم پاکستان کو سبق سکھاتے۔ لیکن پاکستان پر حملے کی رات ہی اسی وقت جس طرح پاکستان کی فضائیہ نے ان کے رافیل طیاروں کو تباہ کیا اس سے بھارت کا یہ والا غرور بھی خاک میں مل گیا۔
ہندوستان کو یہ بھی غرور تھا کہ اس کے پاس اسرائیل کا ڈرون سسٹم ہے اور اسرائیل جس طرح نہتے ،کمزور اور بے سہارا فلسطینوں کو نشانہ بناتا ہے اسی طرح ہندوستان بھی انہیں ڈرونز سے پاکستان میں جو چاہے کرسکتا ہے لیکن پاکستان نے گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں ہندوستان کی طرف سے آنے والے 77سے زائد ڈرونز کو لوہے کے ٹکڑوں میں بدل کر ہندوستان کا یہ غرور بھی خاک میںملادیا ۔ہندوستان کو یہ بھی غرور تھا کہ ا سکے پاس دنیا کا تیسرا بہترین میزائل دفاعی نظام ہے جو ا س کی حفاطت امریکا اور روس کی طرح یقینی بنائے گا۔ ہندوستان نے یہ دفاعی نظام ایس 400روس سے 6 ارب ڈالر کے عوض حاصل کیا تھا لیکن یہ دفاعی نظام ہمارے شاہینوں کے حملے کیا روکتا ،پاکستان کے جے ایف 17تھنڈر اور الفتح میزائلوں نے اسی شکاری کا سب سے پہلے شکار کرکے پاکستان کے میزائلوں کا راستہ ہی کھول دیا۔ اس دفاعی سسٹم کی ناکامی اور بربادی کے بعد ہندوستان کی چیخیں آسمان تک بلند ہوتی سنی گئیں۔ رافیل کی تباہی پر فرانس ہندوستان کو کوس رہا ہے تو دفاعی نظام کی بربادی پر روس ان کو طعنے دے رہا ہے۔پاکستان نے ہندوستان کے مضبوط دفاعی نظام کا غرور بھی خاک میں ملادیا۔
اچھا !ہندوستان کو ایک اور غرور بھی تھایہ غرور اس کی آئی ٹی انڈسٹری تھا۔ہندوستان کو غرور تھا کہ اس کے ملک کے باشندے دنیا کی بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں کے سی ای اوز ہیں اس لیے اس کو اس میدان میں بھی بہت برتری ہے لیکن پاکستان کے سائبر ماہرین نے اس میدان میں بھی ہندوستان کو شکست دی۔پاکستان نے کل ہندوستان پر سائبر حملے بھی بڑے تاک تاک کیے۔ایک طرف جب ملٹری ہندوستان کا منہ لال کررہی تھی عین اسی وقت پورا ہندوستان ہمارے سائبر حملوں کی زد پر تھا۔ پاکستان نے ہندوستان کی 25سو سے زائد اسٹریٹجک ویب سائٹس کو ہیک کرکے نیا ریکارڈ قائم کردیا ۔یہاں تک کہ مہاراشٹر جو ہندوستان کی بڑی ریاست ہے اسی ریاست میں ہندوستان کا معاشی حب ممبئی بھی ہے۔ پاکستان کے ماہرین نے مہاراشٹر کی اسٹیٹ الیکٹرسٹی کمپنی کا سسٹم بھی ہیک کیا اور پوری ریاست کو اندھیرے میں ڈبودیا۔اس طرح پاکستان نے نہ صرف آئی ٹی کی چالوں میں اپنی برتری ثابت کی بلکہ یہ بھی بتادیا کہ جب جنگ کریں گے تو پھر ہم جنگ صرف فوجی محاذ پر نہیں بلکہ آپ کے ملک کے سسٹم میں گھس کر آپ کو ماریں گے یوں پاکستان نے ہندوستان کے اس غرور کو بھی خاک میں ملادیا۔
اس کشیدگی میں پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت نے انتہائی ذمہ داری اور اسٹیٹس مین شپ کا ثبوت دیا۔ ہماری قیادت کا ہر فیصلہ تیربہدف ثابت ہوا۔ وہ چاہے بھارتی ایئرلائز کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کرنا ہویا تجارتی اور سفارتی تعلقات کو ختم کرنا ہو۔پاکستان کے اسی دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے پوری دنیاپاکستان کو ایک ذمہ دار ملک کے طورپر دیکھ رہی ہے۔ یہ ہماری سفارتکاری کا ثمر ہے کہ دنیا نے ہمارے دفاع کے حق کو تسلیم کیا اور پہلی بار دنیا ہمیں جارح نہیں بلکہ ہندوستان کو جارحیت کا ذمہ دار کہہ رہی ہے ۔اس بات کا ثبوت ہندوستان کے صحافیوں کے آرٹیکلز اور انٹرویوز ہیں جو اس بات کا رونا رورہے ہیں کہ دنیا ہندوستان کا ساتھ نہیں دے رہی ۔ہندوستان اب ہمارے دوست ممالک کے منت ترلے کررہا ہے کہ پاکستان سے ہماری جان بخشی کروادیں ۔ہم نے بدلہ لے کر اپنے عوام کو مطمئن کردیا ہے ۔بھارت کی منت پر امریکی صدر نے پاکستان کو جنگ بندی پر راضی کر لیا ہے اور شام ساڑھے 4 بجے جنگ بندی ہو چکی ہے اور اب بھارت پاکستان سے مذاکرات کرے گا۔

ٹیگز: