گزرا ہفتہ انتہائی ہنگامہ خیزاورہیجان آمیزرہا۔ ہندوستان کی طرف سے بنائے جنگی ماحول کا اثر ابھی ختم نہیں ہوا لیکن ہمارے ملک میں کچھ لوگوں کو لگے مغالطے البتہ ختم ہوگئے ہیں ۔ہم ابھی تک تو صرف یہ نغمہ ہی سنتے آئے تھے کہ اس پرچم کے سائے کے تلے ہم ایک ہیں لیکن اس وقت ہم وطن عزیزمیں اس اتحاد اور ایکتا کا عملی مظاہرہ دیکھ رہے ہیں۔کچھ لوگوں کو یہ زعم تھا کہ پاکستان میں تقسیم بہت زیادہ ہے۔ایک بڑی اوراپنے تئیں مقبول جماعت ریاستی اداروں کے خلاف برسر پیکار ہے ایسی صورت میں اگر اس طرح کا جنگی چیلنج آتا ہے تو عوام پاک فوج کے ساتھ نہیں ہوں گے لیکن ایسے لوگوں کا زعم ہوا ہونے میں چند سیکنٖڈ بھی نہیں لگے۔ جوں ہی ہندوستان نے پہلگام میں ہوئے واقعہ کا جھوٹا الزام پاکستان پر لگاکر جارحیت کی بات کی تو پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کی پشت پر کھڑی ہوگئی ۔ہر طرف سے ایک ہی آوازآئی کہ ’’ہم تیار ہیں آزمانا نہیں‘‘۔
دنیا میں دہشت گردی کے واقعات ہونا اب عام اور معمول کے حادثات بن چکے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے ۔ہمیں بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ہم ان چینلجز کا مقابلہ خود کرتے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ بلوچستان میں افراتفری کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے ہم اس ہاتھ کو بے نقاب بھی کرتے ہیں ۔ہم اسی طرح دنیا کو دکھاتے ہیں جس طرح ڈی جی آئی ایس پی آر نے دنیا کے سامنے ثبوت رکھے کہ کس طرح ہندوستان کی فوج کے افسر پیسے دے کر پاکستان میں دہشتگردی کرواتے ہیں۔ہم نے اپنے ملک سے اس گروہ میں ملوث شخص کو گرفتار کیا اور دنیا کو بتادیا کہ یہ کام بھارت کا ہے لیکن ہم نے جنگ کی بات نہیں کی ۔
بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کویرغمال بنانے کا سانحہ ہوا تو پاکستان نے ہندوستانی اسپانسرڈ دہشت گردی کا مقابلہ کیا ۔ حملہ آوروں میں سے کسی ایک کو بھی زندہ واپس نہیں جانے دیا ۔ ہم نے اس وقت بھی دنیا کو بتایا کہ کس طرح بھارت بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد کررہا ہے ۔ہم نے سب کچھ کیا لیکن جنگ کی بات نہیں کی ۔ اب ہمارے اپنے ہی کچھ تجزیہ کرنے والے سوال کرتے ہیں کہ ہم اپنے ملک میں دہشت گردی پر بھارت کے ساتھ جنگ والی بات کیوں نہیں کرتے۔موجودہ صورتحال میں یہ سوال جائز لگتا ہے لیکن یہی وہ فرق ہے جو پاکستان جیسے ذمہ دار اور ہندوستان جیسے غیر ذمہ دارملک میں ہے۔
پہلگام ایک فالس فلیگ تھا اور اس کو فالس فلیگ پاکستان نے ثبوتوں کے ساتھ ثابت بھی کیا ۔ویسے دیکھا جائے تو اس طرح کے واقعات پر بغیر ثبوت دوسرے ملک پر الزام لگانے سے ممکن ہے ہندوستان اپنے ملک میں کچھ سیاسی فوائدتوحاصل کرلے لیکن اس طرح دہشت گردی کا مقابلہ ہرگز ممکن نہیں بلکہ ایسی صورت میں دہشت گرد توخوش ہوں گے کہ کام ہم نے کیا ہے اور الزام ایک ملک دوسرے پر لگارہا ہے ۔
اس سوال کا جواب اب سامنے ہے کہ ہندوستان نے پہلگام واقعہ کا الزام پاکستان پر کیوں لگایا۔اس الزام تراشی کے محرکات پر بہت بات ہوچکی ۔پاکستان نے ثابت کردیا کہ یہ وقعہ کروایا ہی پاکستان پر الزام لگانے کے لیے گیا تھا۔ میرے نزدیک یہ واقعہ بڑی تصویر کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ۔بڑی تصویر یہ ہے کہ اس سال ستمبر میں آر ایس ایس (راسشٹریہ سیوک سَنگھ) کو بنے ہوئے سوسال مکمل ہورہے ہیں اور مودی کی قیادت میں اس سال آر ایس ایس کی تخلیق کا سوسالہ جشن منایا جائے گا ۔آر ایس ایس نے جن مقاصد کے لیے نریندر مودی کو بی جے پی کا قائد بنایا وہ مقاصد پورے نہیں ہورہے ۔وہ مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ بھارت کو مکمل ہندو ریاست میں تبدیل کرنا ہے ۔بھارت کی سیکولر حیثیت کو ختم کرنا ہے۔جب سے نریندر مودی نے ملک سنبھالا ہے ہندو بالادستی کے لیے بہت سی کاوشیں کی جارہی ہیں لیکن اس کام میں مکمل کامیابی نہیں مل رہی ۔ اسی وجہ سے پہلگام حملے کے فوری بعد یہ بات کی گئی کہ حملہ آوروں نے مارنے سے پہلے لوگوں سے ان کے مذہب کی شناخت کی ۔یہ بھی جھوٹ تھا لیکن واقعہ ڈیزائن ہی ایسے کیا تھا اس لیے یہ کہہ دیا گیا کہ ٹارگٹ صرف ہندو تھے۔ یہ ہندو ٹارگٹ والا ڈرامہ بھی اس ویڈیو سے بے نقاب ہوگیا جس ویڈیو کو خود ہندوستان نے اپنے فائدے کے لیے جاری کیا تھا۔ یہ ویڈیو ’’زپ لائن‘‘ پر ایک سیاح کے کیمرے سے بنائی گئی ہے ۔ہندوستان نے تو اس کو جاری کیا تھا تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ مقامی کشمیری اور زپ لائن کے آپریٹر کواس حملے کا پہلے سے علم تھا لیکن اس ویڈیو میں نیچے زمین پر حملہ آوروں کو لوگوں کے پیچھے بھاگتے اور بلا تفریق گولیاں چلاتے دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس سے ثابت ہورہا ہے کہ حملہ آوروں نے وہاں کوئی شناخت پریڈ نہیں کروائی ۔
اس واقعہ کا ایک پہلو ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر حملے اور جنگ کا ماحول بنانا ہے تو دوسرا پہلو پاکستان کا رسپانس ہے۔پاکستان نے اس صورتحال کو بہترین اور حکمت کے ساتھ ڈیل کیا ہے اور مسلسل کررہا ہے۔یہ بات سامنے رہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے کیونکہ ہندوستان اپنی بے وقوفی اور جذباتی ردعمل سے حالات کو جس سطح پر لے گیا ہے وہاں سے واپسی آسان اس کے لیے بھی نہیں ہے اس لیے وہ فیس سیونگ کے لیے کوئی شرارت کرسکتا ہے ۔یہ شرارت کس طرح کی ہوگی اس کا اندازہ پاکستان کو بھی ہے اور ہم اس شرارت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ہردم تیار ہیں۔ہندوستان نے پاکستانی یوٹیوبر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کرکے اپنے ہی سر میں خاک ڈالی ہے ۔دوسری طرف پاکستان نے ایسا کوئی اقدام نہ اٹھا کر بھی دنیا کو بتادیا ہے کہ ہم ہندوستان سے ہر لحاظ سے بہتر ہیں۔
ہندوستان نے جذباتی اور ناقابل عمل اقدامات کیے جبکہ پاکستان نے سوچ بچار کے بعد وہ کام کیے جن سے ہندوستان کو براہ راست نقصان ہو۔ہندوستان نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا زبانی اعلان کیا تو پاکستان نے بھارتی ایئر لائنز کے لیے اپنے فضائی حدود بند کرکے ہندوستانی ایئر لائنز کو دیوالیہ کرنے کا پیغام دیا۔ایئر انڈیا نے اپنی حکومت کو خط لکھا ہے کہ آپ کے ایک کام سے ہمیں سالانہ چھ سو ملین ڈالر کا خسارہ ہورہا ہے تو اب یہ خسارہ حکومت پورا کرے۔پاکستان کے اس اقدام نے ہی ایوی ایشن انڈسٹری کو یہ سوچنے پر مجبورکردیا ہے کہ پاک بھارت جنگ صرف اور صرف خسارے کا سودا ہے۔ہندوستان کو بھی معلوم کہ جنگ کی صورت میں اس کی معیشت برباد ہوگی اور وہ جو دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے وہ بھی چکنا چور ہوگا ۔بڑھک تو ماربیٹھے ہیں لیکن نریدمودی کے لیے یہ جنگی بڑھک آگے کنواں پیچھے کھائی والی صورتحال بناگئی ہے ۔دوسری طرف پاکستان سے پیغام ہے کہ ’’ہم تیار ہیں آزمانا نہیں‘‘۔