Wed, September 16, 2026

پاک بحریہ میں جدید ہنگور کلاس آبدوز کی شمولیت، سمندری دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ

پاک بحریہ میں جدید ہنگور کلاس آبدوز کی شمولیت، سمندری دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ

کراچی،اسلام آباد: پاک بحریہ کے بیڑے میں ایک اور اہم پیش رفت کے تحت ہنگور کلاس کی پہلی جدید آبدوز پی این ایس/ایم ہنگور پاکستان کے ساحلوں کی جانب بڑھ رہی ہے، جسے ملک کی بحری دفاعی صلاحیتوں میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ آبدوز پاکستان کی بحری طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے سمندری حدود کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پی این ایس/ایم ہنگور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک اسٹیلتھ آبدوز ہے جو دشمن کی نگرانی سے بچ کر طویل فاصلے تک مؤثر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ “ہنگور” پاکستان کی بحری تاریخ میں جرات اور کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جس نے 1971 کی جنگ میں بھارتی جنگی جہاز “کھکری” کو غرق کیا تھا جبکہ ایک اور جہاز “کرپان” کو بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔

نئی ہنگور کلاس آبدوز چین میں تیار کی گئی ہے اور اس میں جدید سونار، ریڈار، سینسرز اور کامبیٹ سسٹمز نصب ہیں۔ اس کے علاوہ یہ آبدوز طویل فاصلے تک مار کرنے والے تارپیڈوز اور کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

اس کی اہم خصوصیت ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سسٹم ہے، جو اسے طویل مدت تک زیرِ آب رہ کر آپریشنز جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ خصوصیت اسے جدید بحری جنگی تقاضوں کے مطابق ایک مؤثر پلیٹ فارم بناتی ہے۔

کراچی کے ساحل کی جانب بڑھتی یہ آبدوز پاکستان کی اس دفاعی حکمت عملی کی عکاس ہے جس کا مقصد سمندری سرحدوں کا مضبوط تحفظ اور بحری طاقت میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔

ٹیگز: