تہران : ایران کی عسکری قیادت نے تصدیق کی ہے کہ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (IRGC) کے مرکزی ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی ایک بزدلانہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکام نے اس ہائی پروفائل شہادت کا براہِ راست ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو قرار دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے مطابق جنرل علی محمد نائینی دشمن کی ایک ٹارگٹڈ کارروائی کا نشانہ بنے۔ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ایران کے دفاعی اور ابلاغی محاذ کو نقصان پہنچانا ہے۔ جنرل نائینی آئی آر جی سی کے ترجمان کے طور پر انتہائی کلیدی عہدے پر فائز تھے اور وہ تنظیم کی میڈیا حکمتِ عملی اور نفسیاتی جنگ کے ماہر تصور کیے جاتے تھے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر عہدیدار کی شہادت سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ ایرانی دفترِ خارجہ اور پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ "خونِ شہید رائیگاں نہیں جائے گا" اور دشمن کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
تہران سمیت تمام اہم تنصیبات پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور اعلیٰ سطح کے عسکری اجلاس جاری ہیں۔