لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہی نہیں بلکہ سیاسی، ثقافتی، تعلیمی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ ایسے شہر میں پولیسنگ محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان ہے۔ یہاں ہر روز لاکھوں افراد کی نقل و حرکت، اہم سرکاری و نجی تقریبات، سیاسی سرگرمیاں اور سکیورٹی چیلنجز پولیس کی توجہ چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں فیصل کامران کی ذمہ داریاں مزید اہم ہو جاتی ہیں۔ ان کی قیادت میں لاہور پولیس نے جرائم کی روک تھام، شہری تحفظ اور فوری رسپانس کے نظام کو مزید مو¿ثر بنانے کی کوشش کی ہے۔
محمد فیصل کامران پاکستان پولیس سروس کے ان افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے انتظامی صلاحیتوں اور عملی قیادت کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ 2009ءمیں پاکستان پولیس سروس میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع اور اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وزیراعظم پاکستان کے اسسٹنٹ سکیورٹی آفیسر کے طور پر ذمہ داریاں نبھانا بھی ان کے کیریئر کا ایک اہم باب ہے۔ اپریل 2024ءمیں انہیں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تعینات کیا گیا، جہاں وہ صوبائی دارالحکومت کے امن و امان، جرائم کی روک تھام اور آپریشنل معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
فیصل کامران کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ روایتی دفتری افسر کے بجائے فیلڈ میں موجود رہنے والے افسر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ مسائل کو فائلوں میں نہیں بلکہ زمینی حقائق میں تلاش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں مختلف تھانوں، پولیس چوکیوں اور آپریشنل یونٹس کی نگرانی کے عمل کو مزید فعال بنایا گیا۔ انہوں نے پولیس فورس میں احتساب اور جوابدہی کے تصور کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی کیونکہ ایک ایسی پولیس جو خود احتسابی کے عمل سے گزرے، وہی عوام کا اعتماد حاصل کر سکتی ہے۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ماضی میں یہ رشتہ
مختلف وجوہات کی بنا پر کمزور ہوا، لیکن موجودہ دور میں پولیس قیادت اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فیصل کامران بھی اسی سوچ کے حامل افسر ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام دوست پولیسنگ ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ ان کے نزدیک پولیس کا اصل مقصد صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ شہریوں کو تحفظ، سہولت اور اعتماد فراہم کرنا بھی ہے۔ چند روز قبل ساو¿تھ ایشین کالمسٹ کونسل کے وفد کو ان کی دعوت پر لاہور پولیس کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ دورہ محض رسمی ملاقات نہیں تھا بلکہ پولیس کے نظام، اس کی کارکردگی اور عوامی خدمات کو قریب سے سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔ اس وفد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم شامل تھے جنہوں نے پولیس کے کام کو براہ راست دیکھا اور اس کا مشاہدہ کیا۔ دورے کا آغاز پولیس لائنز لاہور میں یادگارِ شہداءپر حاضری سے ہوا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پولیس کے ان بہادر سپوتوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے وطن اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پولیس شہداءکی قربانیاں دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ امن اور قانون کی حکمرانی کسی قیمت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ ہمارے پولیس افسران اور جوان روزانہ ایسے خطرات کا سامنا کرتے ہیں جن کا عام شہری تصور بھی نہیں کر سکتا۔
وفد نے بعد ازاں شادمان خدمت مرکز کا دورہ کیا جہاں شہریوں کو ایک ہی چھت تلے مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جدید سروس ڈلیوری سسٹم، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور شہریوں کے لیے آسان طریقہ کار اس بات کا ثبوت تھے کہ پولیس محض قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ایک اہم مرکز بھی بن رہی ہے۔ خدمت مراکز نے ہزاروں شہریوں کو بروقت سہولیات فراہم کرکے پولیس کے بارے میں مثبت تاثر پیدا کیا ہے۔ دورے کے اختتام پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے وفد کو تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کھلی کچہریوں، عوامی شکایات کے ازالے، محکمانہ احتساب، جدید پولیسنگ اور عوام دوست اقدامات کے حوالے سے معلومات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور میڈیا کے درمیان مضبوط رابطہ وقت کی ضرورت ہے کیونکہ درست اور بروقت معلومات ہی افواہوں اور غلط فہمیوں کا سدباب کر سکتی ہیں۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ فیصل کامران میڈیا کو محض خبروں کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی اصلاح کے ایک مو¿ثر شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اہلِ قلم معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔ اگر پولیس اور صحافت دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو نہ صرف جرائم کے خلاف مو¿ثر ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے بلکہ عوامی شعور میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ساو¿تھ ایشین کالمسٹ کونسل کے چیئرمین میاں سیف الرحمن، اشرف سہیل،شیر علی خالطی راقم سمیت دیگر ممبران نے اس دورے کو معلوماتی، مفید اور مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا خیال تھا کہ ایسے روابط سے نہ صرف پولیس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوں گی بلکہ شفافیت، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ درحقیقت جدید دنیا میں اداروں کی کامیابی صرف ان کی کارکردگی سے نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ان کے تعلقات سے بھی ناپی جاتی ہے۔
محمد فیصل کامران کی پیشہ ورانہ زندگی اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ اگر نیت خدمت کی ہو، وژن واضح ہو اور قانون کی بالادستی پر یقین ہو تو ریاستی ادارے عوام کے لیے امید اور اعتماد کی علامت بن سکتے ہیں۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں امن و امان کا قیام، جرائم کا تدارک اور شہریوں کے اعتماد کی بحالی کوئی آسان کام نہیں، لیکن یہ سفر اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب قیادت میں خلوص، اہلیت اور خدمت کا جذبہ موجود ہو۔
آج جب معاشرہ بے شمار سماجی اور سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے تو ایسے افسران کی موجودگی یقین دلاتی ہے کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں۔ فیصل کامران جیسے افسر اس سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں کہ پولیس کا اصل چہرہ خوف نہیں بلکہ تحفظ، خدمت اور اعتماد ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قانون کی حکمرانی کو مضبوط، شہریوں کو مطمئن اور معاشرے کو پرامن بنا سکتا ہے۔ اور شاید یہی ایک کامیاب پولیس افسر کی اصل پہچان بھی ہے۔