پنجاب کی دھرتی ہمیشہ سے صوفیائ، اولیا اور گروو¿ں کا مسکن رہی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں کی مٹی سے محبت، رواداری اور انسانیت کے احترام کی خوشبو آتی ہے۔ آج، سال 2026 میں جب دنیا بھر کی نظریں ایک بار پھر پنجاب پر جمی ہیں، تو اس کی وجہ یہاں کی قدیم روایات اور جدید طرزِ حکمرانی کا وہ حسین سنگم ہے جس کی قیادت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کر رہی ہیں۔ وساکھی میلہ 2026 محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ یہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اس وسیع تر وژن کا عکاس بن چکا ہے جس کا مقصد پنجاب کو بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی سیاحت اور عالمی بھائی چارے کا گہوارہ بنانا ہے۔ وساکھی کا تہوار سکھ مذہب میں ایک غیر معمولی مقام رکھتا ہے۔ یہ 1699میں گرو گوبند سنگھ جی کی جانب سے خالصہ پنتھ کے قیام کی یادگار ہے، جو سکھ برادری کے لیے ایک نئی روحانی اور سماجی شناخت کا نقطہ آغاز تھا۔ 10 اپریل سے 19 اپریل تک جاری رہنے والا یہ 327 واں عالمی وساکھی فیسٹیول پاکستان کے ان تمام مقدس مقامات کی رونقیں بحال کر رہا ہے جو سکھ تاریخ کا اٹوٹ انگ ہیں۔ ننکانہ صاحب کی پاکیزہ فضاو¿ں سے لے کر پنجہ صاحب (حسن ابدال) کی گونج تک، اور کرتارپور کی امن راہداری سے لے کر لاہور کے تاریخی مقامات تک، پورا پنجاب آج ”جی آیاں نوں“ کی صداو¿ں سے مہک رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ پنجاب میں بسنے والی ہر اقلیت ریاست کی محض ذمہ داری نہیں بلکہ اس کا حسن ہے۔ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے میں صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے ایک متحرک دستِ راست کا کردار ادا کیا ہے۔ مریم نواز شریف کی ہدایات پر رمیش سنگھ اروڑہ اور ان کی ٹیم نے جس طرح سکھ یاتریوں کی سہولیات اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے دن رات کام کیا ہے، اس نے حکومتی سنجیدگی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ ان کی قیادت میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اب صرف سرکاری دستاویزات تک محدود نہیں رہا بلکہ زمین پر ایک روشن حقیقت بن کر ابھرا ہے۔ وساکھی 2026 کے انتظامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے مذہبی سیاحت کو ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ دے کر اسے عالمی معیار کے مطابق ڈھال دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایات پر اس سال یاتریوں کے لیے جو ریڈ کارپٹ استقبالیہ تیار کیا گیا، اس نے بھارت سمیت کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ سے آنے والے ہزاروں سکھ یاتریوں کے دل جیت لیے ہیں۔ یہ عالمی اعتماد دراصل اس بیانیے کی فتح ہے جس کی بنیاد مریم نواز شریف نے سب کا پنجاب کے تصور پر رکھی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس سال وساکھی میلے کے لیے جس باریک بینی سے منصوبہ بندی کی ہے، وہ انتظامی تاریخ میں ایک نئی مثال بن چکی ہے۔ واہگہ بارڈر سے لے کر تمام مقدس مقامات تک، یاتریوں کے لیے ایئرکنڈیشنڈ مارکیز اور جدید سہولیات سے آراستہ قیام گاہیں بنائی گئی ہیں۔ لنگر خانوں میں حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری خوراک اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو چوبیس گھنٹے یقینی بنایا گیا ہے۔ صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے خود مختلف اضلاع کے دورے کر کے ان انتظامات کی نگرانی کی، تاکہ وزیراعلیٰ کے مہمان نوازی کے معیار پر کوئی آنچ نہ آئے۔ صحت اور ہنگامی خدمات کے حوالے سے ہر بڑے مقام پر جدید طبی مراکز (Medical Camps) قائم کیے گئے ہیں جہاں تجربہ کار ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف تعینات ہے۔ موبائل ایمبولینس سروسز اور ریسکیو 1122 کی مستعدی نے یاتریوں میں تحفظ کا احساس مزید اجاگر کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی ایک انقلاب برپا کیا گیا ہے، جہاں یاتریوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کے لیے خصوصی لگژری شٹل سروس کا آغاز کیا گیا۔ ان بسوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس اور ڈرائیورز کی خصوصی تربیت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ زائرین کا سفر محفوظ اور آرام دہ ہو۔ موجودہ عالمی تناظر میں سکیورٹی ہمیشہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہوتی ہے، لیکن حکومت پنجاب نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مو¿ثر استعمال سے اس چیلنج کو ایک بہترین موقع میں بدل دیا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے سیف سٹی کے طرز پر مانیٹرنگ، انٹیلیجنس شیئرنگ اور فول پروف سکیورٹی پلان نے یاتریوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ان کے لیے دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے۔ واہگہ بارڈر پر امیگریشن کے عمل کو تیز تر بنانے کے لیے کاو¿نٹرز کی تعداد میں اضافہ اور عملے کی خصوصی تربیت نے طویل انتظار کی کوفت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ مریم نواز شریف کی حکومت کے اقدامات صرف عارضی تہواروں تک محدود نہیں ہیں۔ ان کا مینارٹی کارڈ پروگرام ایک انقلابی قدم ہے جس کے تحت مستحق اقلیتی خاندانوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ رمیش سنگھ اروڑہ کی زیرِ نگرانی اقلیتی حقوق کے قوانین، خصوصاً سکھ آنند کارج ایکٹ کے نفاذ جیسے اقدامات نے سکھ برادری میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ ریاست ان کے حقوق کی محافظ ہے۔ تعلیمی وظائف اور سرکاری ملازمتوں میں اقلیتی کوٹے پر سختی سے عمل درآمد نے نوجوان نسل میں یہ احساسِ تفاخر پیدا کیا ہے کہ وہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ مذہبی مقامات کی بحالی اور ان کی تزئین و آرائش کے لیے مختص کیے گئے خطیر فنڈز اس عزم کا اظہار ہیں کہ پنجاب اپنی تاریخ اور ورثے کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ وساکھی 2026 محض ایک میلہ نہیں بلکہ پاکستان کے سافٹ امیج کی عالمی تشہیر کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ جب ایک سکھ یاتری کرتارپور کی راہداری پر کھڑے ہو کر امن کا پیغام دیتا ہے یا لاہور کی گلیوں میں اسے وہ تپاک اور پیار ملتا ہے جس کی وہ تمنا لے کر آیا تھا، تو وہ دنیا بھر میں پاکستان کا سفیر بن جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صادق ہو اور وژن واضح، تو انتظامی مشینری کو متحرک کر کے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس میلے کی بے مثال کامیابی کے پیچھے تمام صوبائی محکموں کی انتھک محنت اور باہمی رابطہ کاری شامل ہے۔ محکمہ اوقاف، پولیس، ٹورزم، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے درمیان جو ڈیجیٹل ہم آہنگی دے دی گئی، اس نے گورننس کے نئے معیار قائم کر دئیے ہیں۔ ہر محکمے کے فوکل پرسنز کی براہ راست مانیٹرنگ خود وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے کی جا رہی ہے، جس سے انتظامی امور میں شفافیت اور تیزی آئی ہے۔ وساکھی میلہ 2026 کی رونقیں اس حقیقت کا برملا اعلان ہیں کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب ”تعصب سے پاک اور ترقی سے لیس“ صوبہ بن چکا ہے۔ یہ میلہ دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو وہ تمام حقوق، مذہبی آزادی اور تحفظ حاصل ہے جس کا تصور ایک مہذب معاشرے میں کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ وژن کہ ”ہم نے دیواریں نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے والے پل بنانے ہیں“، آج وساکھی کے رنگوں میں حقیقت بن کر جھلک رہا ہے۔ پنجاب کی یہ مثبت تبدیلی نہ صرف پاکستان میں مذہبی سیاحت کو فروغ دے گی بلکہ عالمی برادری میں ملک کے وقار کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ وساکھی کی یہ خوشیاں دراصل اس پُرامن، ترقی یافتہ اور روادار پاکستان کی جیت ہیں جس کا خواب بانیِ پاکستان نے دیکھا تھا اور جسے آج مریم نواز شریف اپنی بصیرت سے عملی شکل دے رہی ہیں۔ پنجاب کا پیغام: محبت جہاں تک پہنچے!