Wed, September 16, 2026

مودی حکومت کا ریاستی دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب، امریکہ میں سکھ کمیونٹی کی بڑی کارروائی

مودی حکومت کا ریاستی دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب، امریکہ میں سکھ کمیونٹی کی بڑی کارروائی

امریکا: بھارت کی مودی سرکار پر بیرونِ ملک سیاسی مخالفین، خاص طور پر سکھوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ بڑھانے کے الزامات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اب امریکہ کے شہر فریمانٹ کے معروف سکھ گوردوارے نے کھل کر سامنے آتے ہوئے ’’ہندو امریکن فاؤنڈیشن‘‘ کو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کا ایجنٹ قرار دے دیا ہے۔

گوردوارے کی انتظامیہ نے امریکی محکمہ انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تنظیم کو مودی حکومت کا غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر اس کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

فریمانٹ گوردوارے کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم امریکہ میں بی جے پی کے نظریات کو فروغ دے رہی ہے اور بھارتی حکومت کے نمائندوں کو مختلف پروگرامز میں پلیٹ فارم مہیا کر کے سیاسی فائدہ پہنچا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ تنظیم امریکہ میں بھارتی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے، جو امریکی قوانین کے خلاف ہے۔

یہ سب ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب بھارت پر پہلے ہی کینیڈا اور امریکہ میں سکھ کارکنوں کے خلاف حملوں اور سازشوں کے سنگین الزامات لگ چکے ہیں۔ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور سکھ کارکن گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی نے بھارت کے ریاستی نیٹ ورک کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

دوسری طرف، ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے الٹا گوردوارے پر الزام لگا دیا کہ یہ سب کچھ خالصتان تحریک کے حامیوں کی سازش ہے۔ تاہم، بین الاقوامی رپورٹس جیسے الجزیرہ اور دی گارڈین اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد اس تنظیم کی سرگرمیاں واضح طور پر سیاسی ہو چکی ہیں۔

ٹیگز: