دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں دہشت گردی کسی ایک خطے، ایک قوم یا ایک مذہب تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک عالمی عفریت بن چکی ہے جو سرحدوں، پاسپورٹس اور قومیتوں سے بے نیاز ہو کر انسانیت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ سڈنی میں ہونے والا حالیہ حملہ اسی تلخ حقیقت کی ایک اور کڑی ہے، مگر اس بار کئی پردے ایک ساتھ چاک ہوئے ہیں۔ عالمی میڈیا میں آنے والی رپورٹس، پولیس کی ابتدائی تفتیش اور سامنے آنے والے شواہد نے ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جنہیں اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور بھارتی پاسپورٹ کا حامل تھا، جس نے اس سے قبل منیلا سمیت مختلف ممالک کا سفر کیا۔ بی بی سی، دی گارڈین اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں شائع ہونے والی رپورٹس میں اس کے پس منظر، سفری ریکارڈ اور روابط پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ پولیس کمشنر کے بیان کے مطابق حملہ آور کی گاڑی سے دیسی ساختہ بم اور داعش کے دو جھنڈے برآمد ہوئے، جبکہ برطانوی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ حملہ آوروں نے فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کی۔
یہ تمام تفصیلات محض اتفاق نہیں لگتیں۔ بلکہ یہ اس منظم نیٹ ورک کی جانب اشارہ کرتی ہیں جو برسوں سے پردے کے پیچھے کام کر رہا ہے۔ بھارت، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا خواہاں ہے، طویل عرصے سے دہشت گردی کے الزامات سے دامن بچاتا آیا ہے۔ مگر اب شواہد کی کڑی مضبوط ہوتی جا رہی ہے کہ بھارتی ریاست یا اس کے اندر موجود انتہا پسند عناصر نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر عدم استحکام پھیلانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔دوسری جانب داعش کے جھنڈوں کی برآمدگی ایک اور سنگین پہلو ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک بھارتی شہری کا داعش جیسے عالمی دہشت گرد نیٹ ورک سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ جنوبی ایشیا میں سرگرم تنظیموں، افغان سرزمین پر عدم استحکام، اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ساتھ مبینہ روابط پر پہلے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سڈنی حملے کے بعد یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ کہیں یہ سب ایک بڑے کھیل کے مہرے تو نہیں؟۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ بھارت خطے میں پراکسی جنگ کے ذریعے دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں میں بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس سلسلے کی ایک نمایاں مثال تھی۔ اب جب یہی رجحان عالمی سطح پر دکھائی دینے لگا ہے تو دنیا کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ اصل خطرہ کہاں سے جنم لے رہا ہے۔یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک یا قوم کی میراث نہیں، مگر جب بار بار ایک ہی سمت سے دھواں اٹھتا نظر آئے تو آگ کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں رہتا۔ بھارت کے اندر پنپنے والی انتہا پسندانہ سوچ، اقلیتوں کے خلاف نفرت، اور ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے گروہ اب عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
سڈنی حملہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ ایک وارننگ ہے۔ دنیا اگر اب بھی خاموش رہی، اگر سیاسی و معاشی مفادات کی خاطر ان حقائق پر پردہ ڈالا گیا، تو کل یہ آگ مزید پھیلے گی۔ آج سڈنی ہے، کل کوئی اور شہر ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب، کوئی قوم نہیں ہوتی، مگر دہشت گردی کو سہولت فراہم کرنے والوں کی شناخت ضرور ہوتی ہے۔پاکستان جو ابھی کل ہی سانحہ اے پی ایس پشاور کی تلخ یادوں کو تازہ کیے بیٹھا تھا، جہاں معصوم بچوں کے بستے خون میں نہلا دیئے گئے تھے اور پوری قوم نے ایک ساتھ سسکی لی تھی، آج ایک بار پھر دہشت گردی کے اسی بھیانک چہرے کو عالمی منظرنامے پر دیکھ کر لرز اٹھا ہے۔ اے پی ایس کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، وہ پاکستان کے صبر، حوصلے اور انسانیت پر حملہ تھا۔ وہ زخم آج بھی ہرا ہے، وہ مائیں آج بھی اپنے بچوں کی راہ تکتی ہیں، اور وہ قوم آج بھی اس عہد پر قائم ہے کہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان نے اس سانحے کے بعد صرف بیانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہم نے اپنے شہروں، قبائلی علاقوں اور سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑی۔ ستر ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی، معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کیا، مگر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان امن کے ساتھ کھڑا ہے مگر بدقسمتی سے، جن طاقتوں کو اس جنگ سے سبق سیکھنا چاہیے تھا، وہ آج بھی نفرت، انتہا پسندی اور پراکسی جنگوں کے بیج بوتی دکھائی دیتی ہیں۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ دوہرے معیار ترک کرے، حقائق کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے، اور ان ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کو کٹہرے میں لائے جو نفرت اور تشدد کی اس آگ کو بھڑکا رہے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک اس آگ کی تپش پہلے ہی محسوس کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے اصل سرپرستوں کو بے نقاب کیا جائے، ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔