وی آئی پی کلچر، پرٹوکول، سفارش، کرپشن اور میرٹ کو مسلسل نظر اندار کیے جاتے رہنے سے صورتحال یہ بن چکی ہے کہ دھونس دھاندلی ، دوسروں کی حق تلفی اور قانون کا مذاق اڑانا مراعات یافتہ طبقہ کے لیے ایک روٹین کی کاروئی بن چکا ہے اور وہ اس سلسلہ میں روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ غریب آدمی جو پہلے سے ہی محرومیوں کا شکار ہے اس کے رہے سہے حقوق بھی سکڑ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کی صورتحال میں ایک عام آدمی کو مکمل طور پر مایوس ہو جانا چاہیے،یا پھر اس کے لیے اب بھی امید کی کوئی کرن باقی ہے؟۔
یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک طرف تو اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ منظور کیے جاتے ہیں تو دوسری طرف (بالخصوص پنجاب کے علاوہ تینوں صوبوں میں) شہروں کی حالت ایسی ہے جیسے برسوں سے کسی نے ان کی خبرہی نہ لی ہو۔ کہیں بارش چند گھنٹوں میں پورا شہر ڈبو دیتی ہے، کہیں گلیاں کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں، کہیں کچرے کے ڈھیر شہری زندگی کا معمول بن چکے ہیں اور کہیں پینے کا صاف پانی بھی لوگوں کی پہنچ سے دور ہے۔ عوام حیران ہیں کہ اتنا بڑا بجٹ خرچ تو ہو رہا ہے لیکن اس کے اثرات کہیں نظر نہیں آتے۔
ماضی میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ عوام چاہیے بھوکی مر رہی ہو یا بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہو لیکن ہمارے اراکین اسمبلی(حکومت اور اپوزیشن یا کسی بھی سیاسی جماعت کی تخصیص کے بغیر) اپنے لیے مراعات لینے کا سلسلہ تھمنے نہیں دیتے۔ حتیٰ کہ جس سیاسی جماعت نے سرکاری مراعات، پرٹوکول اور حکمرانوں کی عوام پر برتری جیسے معاملات کے خلاف مستقل پر ایک بیانیہ بنائے رکھا ہے آج و ہ بھی ان دعووں کاقتل عام کرنے میں پیش پیش ہے۔
ا گرچہ ان سب باتوں کا اثر تو عارضی اور وقتی ہوتا ہے لیکن چلوصوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی جانب سے خود اپنی ہی تنخواہوں اور مراعات میں غیر معمولی اضافہ کیے جانے کی خبروں نے بھی ایک عوامی بحث کو جنم تو دیا ہے۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں آج بھی ہزاروں بچے ٹوٹی چھتوں والے اسکولوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں مریض دوائی سے پہلے پرچی اور سفارش ڈھونڈتے ہیں، کئی دیہات آج بھی پینے کے صاف پانی، مناسب سڑکوں اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، نوجوان روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں، حکومت ہر روز مالی مشکلات، خسارے اور وسائل کی کمی کا رونا روتی ہے وہاں کے ارکین اسمبلی اپنے لیے نئی نئی مراعات کے دروازے کھولنے لگیں تو سوال صرف سیاسی نہیں رہتابلکہ اخلاقی بھی بن جاتا ہے۔ کسی بھی منتخب نمائندے کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے مناسب تنخواہ، سفری سہولت یا دفتری معاونت ضرور ملنی چاہیے لیکن یہ سہولیات استحقاق میں اور استحقاق، بادشاہت میں نہیں بدلنی چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس قسم کی حرکت کی کیوں گئی؟۔ تاحیات بلیو پاسپورٹ، وہ بھی اپنے اہلِ خانہ سمیت۔ سرکاری ریسٹ ہا¶سز میں مفت قیام۔ ٹول پلازوں پر ادائیگی سے استثنیٰ۔ مختلف قانونی معاملات میں خصوصی رعایتیں۔ اسپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتاری پر پابندی۔ اور اس کے علاوہ بھی ایسی متعدد سہولتیں جن کا تصور ایک عام شہری اپنے خواب میں بھی نہیں کر سکتا اراکین اسمبلی نے اپنے لیے حاصل کرنے کی کیونکر کوشش کی۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ عوامی مفاد کے قوانین پر مہینوں بلکہ بعض اوقات تو برسوں بحث ہوتی رہتی ہے، لیکن جب معاملہ ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات یا اختیارات کا ہو تو سیاسی اختلافات اچانک ختم ہو جاتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن، جو ہر معاملے پر ایک دوسرے کی نیت پر شک کرتی ہیں، اس ایک معاملے پر حیرت انگیز ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
سیاسی معاملات میں اتار چڑھاو پر تشویش ابھی جاری ہی تھی کہ ملک کی ایک اہم ترین سیاسی شخصیت کے انتہائی قریبی رشتہ دار اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانے والی ایک ایسی حرکت منظر عام پر آ گئی کہ جس نے باقی تمام خبروں کو شیڈو کر کے رکھ دیا۔بتایا جاتا ہے کہ دو غیر ملکی خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں ان کے ساتھ اغوا، بھتہ خوری، تاوان اور جنسی تشدد جیسے سنگین معاملات پیش آئے ہیں۔
حقیقت کیا ہے اور کیا نہیں ، سچائی تفتیش میں نہیں تو کسی اور ذریعہ سے سامنے آ جائے گی لیکن ہمیں اس بنیادی اصول کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ کسی بھی شخص کو عدالتی فیصلہ سے پہلے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی قانون کی روح ہے اور یہی انصاف کا تقاضا۔ تاہم ایسے مقدمات میں ریاست کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تحقیقات مکمل طور پر شفاف، آزاد نہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں ہوں تاکہ نہ کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی ہو اور نہ کسی بااثر شخص کو قانون سے بالاتر سمجھا جائے۔ ہم نے ماضی میں بارہا دیکھا ہے کہ جب طاقت اور قانون آمنے سامنے آتے ہیں تو اکثر سوال یہی اٹھتا ہے کہ آخر انصاف کس کے لیے ہے؟ غریب کے لیے یا امیر کے لیے بھی؟اگر قانون صرف کمزور پر لاگوہو اور طاقتور بچ نکلے پھر مایوسی تو جنم لے گی ہی۔سوشل میڈیا کے بارے میں مجھ جیسے لوگوں کے لاکھ تحفظات سہی لیکن یہ بات تو تسلیم کرنا ہی پڑے کی کہ اس کے آنے کے بعدایک مثبت تبدیلی بھی نظر آئی ہے۔ پہلے کئی معاملات خاموشی سے دبا دیے جاتے تھے، لیکن اب سوشل میڈیا ہر قسم کے معاملات کو منظر عام پر لے آتا ہے اور اس کے نتیجہ میں طاقتور لوگوں سے بھی سوال پوچھے جاتے ہیں۔ اس قسم کے معاملات اداروں کے لیے بھی کڑا امتحان ہوتے ہیں۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ احتساب صرف مخالفین کے لیے ہو اور اپنے لوگوں سے نرمی اختیار کی جائے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میںریاست اور قانون پر اعتماد برقرار نہیں رہ سکے گا۔
آج پاکستان کو نئے منصوبوں کی ہی نہیں بلکہ نئی سوچ کی بھی ضرورت ہے۔ ایسی سوچ جس میں عوامی خدمت ذاتی مفاد پر مقدم ہو، قانون رشتوں اور عہدوں سے بالاتر ہو، اور بجٹ کی رقم عوام کی زندگی آسان بنانے پر خرچ ہو، اور یہ سب کچھ ملکی معاملات میں عوام کی بھرپور انداز میں شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔