Wed, September 16, 2026

بے مثال شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کو ہم سے رخصت ہوئے 24 سال ہو گئے

 بے مثال شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کو ہم سے رخصت ہوئے 24 سال ہو گئے

لاہور: آج معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار قتیل شفائی کو ہم سے رخصت ہوئے 24 سال ہو گئے۔ قتیل شفائی کا نام اردو شاعری اور نغمہ نگاری میں ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا، کیونکہ ان کی تخلیقات نے نہ صرف پاکستان کی فلم انڈسٹری کو سنوارا بلکہ اردو ادب کو بھی ایک نیا رنگ دیا۔

قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا، مگر انہوں نے اپنے تخلص "قتیل" کے ساتھ اپنے استاد شفا کے نام کی مناسبت سے "شفائی" لگایا۔ 24 دسمبر 1919ء کو خیبرپختونخوا کے علاقے ہری پور میں پیدا ہونے والے قتیل شفائی نے بہت کم عمری میں شاعری شروع کر دی تھی، اور صرف 13 سال کی عمر میں اپنے احساسات کو اشعار کی شکل میں ڈھالنا شروع کیا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہریالی 1942ء میں شائع ہوا، جو ان کی شاعری کا آغاز تھا۔

قتیل شفائی کا فلمی سفر 1948ء میں پاکستان کی پہلی فلم "تیری یاد" کے نغمات سے شروع ہوا، اور اس کے بعد انہوں نے 201 فلموں میں 900 سے زیادہ گیت لکھے۔ ان کے لکھے ہوئے گیت آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں، اور ان کی نغمہ نگاری کو پاکستانی فلموں کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔

وہ نہ صرف اپنے وقت کے مشہور موسیقاروں کے ساتھ کام کرتے رہے، بلکہ ان کے گیتوں نے نائلہ، نوکر، انتظار اور عشق لیلیٰ جیسی شہرہ آفاق فلموں کو سرفراز کیا۔ ان کے گیت صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ بھارت میں بھی مقبول ہوئے، اور وہ پہلے پاکستانی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز حاصل ہوا۔

قتیل شفائی کے شعری مجموعوں میں ہریالی، جل ترنگ، روزن، جھومر اور پیراہن شامل ہیں۔ ان کی شاعری کی گہرائی اور سادگی نے انہیں ایک منفرد مقام دلایا، اور ان کا کلام آج بھی سننے اور پڑھنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا، اور مختلف ایوارڈز جیسے آدم جی ایوارڈ اور نقوش ایوارڈ بھی انہیں ملے۔

قتیل شفائی کی شاعری اور نغمہ نگاری آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے، اور ان کی تخلیقات کا اثر وقت کے ساتھ اور بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی، لیکن ان کا کلام ہمیشہ ہماری یادوں میں باقی رہے گا۔

ٹیگز: