لاہور: اردو ادب کے ممتاز شاعر اور معروف نغمہ نگار قتیل شفائی کی 25ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ادبی شخصیات اور شائقینِ ادب کی جانب سے ان کی لازوال تخلیقی خدمات کو یاد کیا جا رہا ہے۔
قتیل شفائی کا پیدائشی نام محمد اورنگزیب تھا، تاہم شاعری کی دنیا میں وہ اپنے قلمی نام قتیل شفائی سے پہچانے گئے۔ اپنی سادہ مگر اثر انگیز شاعری، جذبات کی عکاسی اور منفرد طرزِ اظہار کے باعث انہوں نے اردو ادب میں ایک الگ مقام بنایا۔
اپنے ادبی سفر کے دوران قتیل شفائی نے کئی یادگار تخلیقات پیش کیں۔ انہوں نے 20 سے زائد شعری مجموعے تحریر کیے جبکہ پاکستانی فلموں کے لیے بھی بڑی تعداد میں نغمے لکھے۔ ان کے لکھے ہوئے 900 سے زیادہ گیت 200 سے زائد فلموں کا حصہ بنے، جنہیں آج بھی موسیقی کے شائقین پسند کرتے ہیں۔
قتیل شفائی کی شاعری میں محبت، انسانی احساسات، زندگی کے مختلف پہلوؤں اور معاشرتی موضوعات کی خوبصورت ترجمانی نظر آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام کئی دہائیوں بعد بھی اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ادب اور فنونِ لطیفہ میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے 1994 میں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔
عظیم شاعر قتیل شفائی 11 جولائی 2001 کو لاہور میں وفات پا گئے تھے۔ ان کی ادبی میراث آج بھی اردو ادب کا اہم حصہ ہے اور ان کی شاعری آنے والی نسلوں کے لیے باعثِ تحریک ہے۔