Wed, September 16, 2026

پاکستان میں سولر بجلی کا مستقبل؟

پاکستان میں سولر بجلی کا مستقبل؟

ایک وقت تھا جب پاکستان میں سولر توانائی کو ایک انقلابی حل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ بجلی کے بحران، لوڈشیڈنگ اور بڑھتے ہوئے مہنگے بلوں سے تنگ عوام کے لیے سولر ایک نئی امید بن کر سامنے آیا۔ یہ صرف ایک توانائی کا متبادل نہیں تھا بلکہ توانائی میں خود کفالت، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی بچت کا ایک راستہ سمجھا جا رہا تھا۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے سولر ماڈل کو ایک کامیاب مثال کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ نومبر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں قومی گرڈ سے باہر سولر کی مجموعی پیداوار 19 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ ملک میں تقریباً 13 ہزار میگاواٹ آف گرڈ سولر بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ کے تحت 6340 میگاواٹ کے سولر سسٹمز نصب ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 4 لاکھ 24 ہزار 841 سے زائد صارفین نیٹ میٹرنگ کے ذریعے براہ راست فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ سولر توانائی پاکستان کے توانائی بحران کا ایک عملی، قابلِ عمل اور مؤثر حل بنتی جا رہی تھی۔
سولر توانائی نے نہ صرف عوام کو بجلی کے مہنگے بلوں سے نجات دلانے میں مدد دی بلکہ اس نے قومی گرڈ پر دباؤ کم کیا، درآمدی ایندھن پر انحصار گھٹایا اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کا بھی ایک مؤثر ذریعہ  بنی۔ یہی وجہ تھی کہ سولر انڈسٹری کو پاکستان کی توانائی پالیسی کا ایک اہم ستون سمجھا جانے لگا تھا۔ تاہم اب یہ سولر ریولوشن ایک  نازک موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے۔  نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے نظام کو ختم کر کے نیٹ بلنگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت نئے سولر صارفین کو اپنی اضافی پیدا کردہ بجلی گرڈ کو تقریباً ساڑھے گیارہ روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرنی ہوگی۔ اس کے مقابلے میں پہلے نیٹ میٹرنگ کے تحت صارفین فی یونٹ 26  سے 27 روپے فروخت کر رہے تھے۔ اگرچہ یہ نئی پالیسی صرف نئے صارفین پر لاگو ہوگی۔ پرانے صارفین اپنے موجودہ 7 سالہ معاہدوں کے تحت مستفید ہوتے رہیں گے۔ تاہم یہ کیسی منطق ہے کہ سولر صارفین 11 روپے کی بجلی حکومت کو دے کر تین گنا سے بھی زیادہ قیمت میں بجلی  خریدیں گے۔ یقینی طور مستقبل کے صارفین کے لیے یہ پالیسی تبدیلی سولر لگانے میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ایک طرف تو حکومت عام پاکستانی سولر صارفین کے لیے نت نئی پالیسیاں بناکر ان کے لیے مسائل پیدا کررہی ہے تو دوسری جانب آئی پی پیز سے مہنگی اور نہ پیدا ہونے والی مہنگی بجلی خریدی جا رہی ہے۔ کپیسٹی پیمنٹ کی مد ہزاروں ارب روپے کا گردشی قرض ہے۔ 
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی یا تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جیسے ماضی میں پہلے تو سی این جی پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور لوگوں کو مشورہ دیا گیا کہ گاڑیاں سی این جی پر منتقل کریں۔ جب عوام کی بڑی تعداد نے ایسا کرلیا تو حکومت کو یاد آیا کہ اس پالیسی سے تو حکومت کو الٹا نقصان ہورہا ہے۔ اسی طرح پہلے سولر پینل لگانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے نظام میں صارف کو یونٹ کے بدلے یونٹ کا کریڈٹ ملتا تھا، جس سے بجلی کے بل نمایاں طور پر کم ہو جاتے تھے اور کئی صارفین کے بل تقریباً صفر تک آ جاتے تھے۔ اس کے برعکس، نیٹ بلنگ کے نظام میں صارف کو یونٹ کے بدلے کم مالی معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ گرڈ سے لی جانے والی بجلی مہنگے ٹیرف پر ٹیکس لگا کر بیچی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سولر سسٹم لگانے کے بعد بھی صارف کو بجلی پر نمایاں اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ اس فیصلے کے پیچھے حکومت کی منطق یہ بتائی جاتی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے باعث بجلی کے نظام اور قومی خزانے پر مالی دباؤ بڑھ رہا تھا، کیونکہ زیادہ صارفین گرڈ سے کم بجلی لے رہے تھے، جس سے آمدن متاثر ہو رہی تھی۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس پالیسی کے بعد عوام سولر توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہوں گے؟ اندیشہ یہ ہے کہ نیٹ بلنگ کے کم نرخ سولر سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ اس سے سولر لگانے کی رفتار سست پڑ سکتی ہے اور شمسی توانائی کے شعبے میں جو تیز رفتار ترقی گزشتہ چند برسوں میں دیکھی گئی ہے، وہ متاثر ہو سکتی ہے۔ ایک عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی، ٹیکس اور بجلی کے بھاری بلوں کے دباؤ میں ہے، وہ کم مالی فائدے کے باوجود لاکھوں روپے کا سولر سسٹم کیوں لگائے گا؟ 
پاکستان کی سولر انڈسٹری اور پوٹینشل سولر صارفین کے لیے صرف ملکی پالیسیاں مسئلہ نہیں ہیں بلکہ اب سولر مصنوعات کی قیمتیں  بڑھنے کے بھی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ خبروں کے مطابق چینی حکومت نے سولر مصنوعات پر دی جانے والی وی اے ٹی ایکسپورٹ ریبیٹ میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، جو اپریل سے مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں زیادہ تر سولر پینلز چین سے درآمد کیے جاتے ہیں، اس لیے اس فیصلے کے نتیجے میں سولر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ اگر سولر پینلز مہنگے ہو گئے اور ساتھ ہی نیٹ بلنگ کے باعث صارفین کو کم مالی فائدہ ملا، تو یہ دونوں عوامل مل کر سولر انڈسٹری کی ترقی کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں کے اثرات پہلے ہی مقامی مارکیٹ میں محسوس ہونا شروع ہو چکے ہیں، اور آنے والے مہینوں میں یہ اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ سولر توانائی پاکستان کے لیے محض ایک متبادل نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ یہ توانائی کے بحران پر قابو پانے، ماحولیاتی آلودگی کم کرنے، درآمدی ایندھن پر انحصار گھٹانے اور توانائی میں خود کفالت حاصل کرنے کا ایک مؤثر راستہ فراہم کرتی ہے۔ اگر اس شعبے کو مناسب پالیسی سپورٹ، مستحکم قوانین اور سرمایہ کار دوست ماحول نہ ملا تو نہ صرف عوام کا اعتماد کم ہوگا بلکہ پاکستان ایک بڑے معاشی اور توانائی کے موقع سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نیٹ بلنگ اور نیٹ میٹرنگ کے درمیان ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ راستہ اختیار کرے۔ ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو ایک طرف قومی گرڈ کو مالی نقصان سے بچائے اور دوسری طرف عوام اور سرمایہ کاروں کو سولر میں سرمایہ کاری کی ترغیب بھی دیتا رہے۔

ٹیگز: