آج دنیا ایک گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جس تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی ہے، ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ پچھلی چند دہائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا بھرکے لوگ ایک دوسرے کے نزدیک آ گئے ہیں، اب ہزاروں میل کی دوری کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ دور دراز بیٹھ کر لوگ بیک وقت اپنے عزیزوں کی آواز کو اپنے کانوں سے سن اور لب ولہجہ وصورت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی تعلقات کی نت نئی شکلیں پیدا کر کے ان کے دائرے کو وسیع ترکردیا ہے۔ یکم جنوری 1983کو انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد دنیا میں ایک انقلاب برپا ہو گیا ۔آن لائن دنیا نے 1990میں مزید ترقی کی منازل اس وقت طے کیں جب کمپیوٹر ماہرین نے ورلڈ وائیڈ ویب (www)کی ایجاد میں کامیابی حاصل کر لی ۔ انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل میڈیا نے جد ید دنیا میں روابط کو ایک نئی شکل دی۔ دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد یورپی ممالک میں پائی جاتی ہے جبکہ براعظم افریقہ اپنی پسماندگی و غربت کے باعث اس آن لائن دنیا سے بہت پیچھے ہے۔ 2000کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں کچھ ایسی سوشل میڈیا سائٹس سامنے آئیں جنہوں نے ناصرف لوگوں کو ایک دوسر ے سے قریب کر دیا بلکہ ہزاروں کلومیٹرز کے فاصلوں کو بھی ختم کر دیا۔فیس بک ،انسٹاگرام ،واٹس ایپ،ٹک ٹاک، ایکس اور سنیپ چیٹ جیسی سائٹس نے مردوخواتین ،نوجوان اوربوڑھوں کیساتھ ساتھ بچوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی آمد نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔
سوشل میڈیا افراد اور اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط ہونے، خیالات کا تبادلہ کرنے، اپنے پیغامات کی ترسیل اور انٹرنیٹ پر موجود دیگر بہت سی چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئرکرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں اس میں انتہائی تیز رفتار ترقی ہوئی ہے اور اب سوشل میڈیا نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی کا محور و مرکز بن چکا ہے۔ آج ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے سیکنڈوں میں دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے۔ جس طرح ہر چیزکے مثبت و منفی اثرات ہوتے ہیں، جو اس کو استعمال کرنے والوں پر منحصر ہوتے ہیں، اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی دونوں قسم کے اثرات ہیں۔ سوشل میڈیا کا مقصد رابطوں کو فروغ دینا تھا لیکن لوگوں نے اس کے مقاصد کو نظر اندازکرنا شروع کردیا گیا۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی اخلاقی و سماجی خرابیوں نے فروغ پایا اور ایسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات اورمکاتب فکر میں ایک دوسرے سے نفرت کو پروان چڑھانے اور انتشار و خلفشار کا سبب بن رہی ہیں۔ معاشرے میں بیشتر افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے کے لیے بے بنیاد خبروں کو پھیلانے، تصاویر اور خاکوں میں ردوبدل جیسے طریقوں کے ذریعے غلط استعمال کررہے ہیں اے آئی نے یہ کام بہت آسان کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پرکسی بھی خبر یا افواہ کی تحقیق سے بھی پہلے وہ پوری دنیا میں نشر کردی جاتی ہے۔ معلومات درست ہوں یا غلط، کوئی اس جھنجھٹ میں پڑتا ہی نہیں ہے۔ نوجوان نسل کے ذہن ودماغ پرسوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہوچکا ہے، وہ اپنے کام اور پڑھائی کے اوقات بھی سوشل میڈیا پر صرف کر رہا ہے جس سے ان کی تعلیم پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پرکسی قسم کی کوئی روک تھام کا نظام موجود نہیں ، ہر شخص اچھی بری بات کہنے اور لکھنے میں آزاد ہے۔ کوئی شخص بلاروک ٹوک کسی بھی مذہبی شخصیت اور مذہبی نظریات کو مطعون کرسکتا ہے اور مخالف مذہبی سوچ کی محترم شخصیات پرکیچڑ اچھال سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر مخالفین کے خلاف پروپیگنڈے کی مکمل آزادی کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے معاشروں میں پاکستانی سماج بھی شامل ہے جہاں ہر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات اس کے مثبت اثرات کے مقابلے میں زیادہ شدت سے فروغ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کا منفی استعمال دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے افراد فیس بک پر مخالف سیاست دانوں کیلئے انتہائی نازیبا زبان استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ فیس بک سمیت بیشتر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اس طرح کی زبان استعمال کرنے اور اس نوعیت کی تصاویر اور وڈیوز اپ لوڈ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ اس رجحان کے باعث نہ صرف فیس بک پر بلکہ عملی زندگی میں بھی مختلف سیاسی و مذہبی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان کدورتیں اور دوریاں بڑھ رہی ہیں جس کی روک تھام اشد ضروری ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونیوالی ان منفی سرگرمیوں کو روکا کیسے جائے جو ہمارے معاشرے میں اقدار کی تباہی، غیراخلاقی سرگرمیوں کے فروغ اور انتشار پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں؟ جبکہ اس طرح کی زیادہ تر سرگرمیاں فیک آئی ڈیز کی مدد سے سرانجام دی جاتی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی آئی ڈی بنانے والے صارفین کی لوکیشن کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا اور خاص طور پر مقبول ترین سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر جاری منفی اور غیراخلاقی سرگرمیاں ہمارے معاشرے میں نفرت، انتشار اور بے راہ روی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں، متعلقہ اداروں کو اس پر سخت ایکشن لینا چاہئے جبکہ اساتذہ کرام اور والدین کی یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور نئی نسلوں پر کڑی نظر رکھیں کہ وہ سوشل میڈیا کا کیا استعمال کر رہے ہیںاور کیا وہ انتہاپسندانہ نظریات کی طرف مائل تو نہیں ہو رہے ہیں ۔آج کل انتہاپسندانہ تنظیمیں کا اصل ہدف نئی نسل ہی ہے اور وہ اپنے نظریات کا پرچار کررہی ہیں۔ نئی نسل ان سے ہوشیار اور محتاط رہے اور اپنی مکمل توجہ تعلیم پر دے۔ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس کی مدد سے ہم تمام انتہاپسندانہ نظریات کو شکست دیکر ایک ترقی یافتہ ملک کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اب یہ سوشل میڈیا رابطوں کا پل ہے یا تنہائی کا جال، اس کا فیصلہ آپ خود کریں۔