Wed, September 16, 2026

شکاری کا جال

شکاری کا جال

ملکی اور بین الاقوامی افق سے کچھ چنیدہ چنیدہ خبریں اور واقعات قابل توجہ ہیں ۔ ان پر نظر دوڑانے سے مستقبل قریب کی گتھیوں کو سلجھانے میں یقینا مدد ملے گی ۔بین الاقوامی سطح پر غزہ آج بھی مرکزِ نگاہ ہے غزہ کے بے بس اور بے گناہ عوام پراسرائیلی کے مظالم اور وحشیانہ بمباری آج پوری دُنیا کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ یورپ ہو یا امریکہ ایشیا ہو یا مشرق ِبعید عوامی سطح پر ان مظالم کے خلاف شدید ردعمل سامنے آرہا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انڈونیشیا کے حالیہ دورہ کے دوران انڈونیشیا کے عوام نہ صرف ٹرمپ بلکہ اپنی ہی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔انڈونیشیا کی سڑکوں اور گلیوں سے اُبھرنے والے عوامی نعرے اس امر کی بھرپور غمازی کر رہے ہیں کہ انڈونیشیا کے عوام ٹرمپ کو غاصب وظالم اسرائیل کا سرپرست و مددگار سمجھتے ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں ایسے کسی بھی عمل کا حصہ بننے کو تیار نہیں جو امریکہ کے نام نہادامن معاہدے ’ابراہیم اکارڈ‘ کے تحت اسرائیل کو مزید مضبوط بنانے اور فلسطینیوں کو ان ہی کی سرزمین سے بے دخل کرنے کا باعث بنے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ تاحال اس معاہدے کے تحت آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا بلکہ اسرائیل فورس کی جانب سے نام نہاد سیز فائر کے باوجود وہاں جاری وحشیانہ بمباری نے ایک بار پھر سیکڑوں فلسطینیوں کی جان لے لی ہے۔ امن معاہدے کے تحت غیر ملکی بالخصوص مسلم ممالک کی افواج کی غزہ میں تعیناتی کس حد تک ایک دُرست اقدام ہوگا ،کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کے ہمسایہ ملک اُردن نے اس سے لا تعلقی کا اظہار کردیا ہے۔ اردن اس اقدام کے مہلک اثرات سے بخوبی آگاہ ہے ۔ اردن کے شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت ملکوں سے طاقت کے بل پر غزہ میں امن قائم کرنے کا کہاگیا تو وہ منع کر دینگے۔ شاہ عبد اللہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے طاقت کے بل پر امن قائم کرنے کو کہا تو کوئی بھی اس میں ہاتھ ڈالنا نہیں چاہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مصر اور اردن فلسطینی سکیورٹی فورسز کو تربیت فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ تاہم اردن کی فوج کو غزہ میں نہیں بھیجے گا کیونکہ سیاسی طور پر ان کے ملک کا فلسطین سے کافی گہرا تعلق ہے۔
اردن کے شاہ عبداللہ اس ’باریک گیم‘ کو سمجھ چکے ہیں جس کے تحت امریکہ مسلم ممالک کی فورسز سے غزہ میں حماس اور آزادی کی جنگ لڑنے والے دیگرمزاحمتی فلسطینی گروپس کے خلاف کارروائی کرانا چاہتا ہے تاکہ وہ ایک ٹریپ میں پھنس جائیں۔ یوں اسرائیل کے خلاف تو کوئی کارروائی نہ ہو تاہم مسلم ممالک اپنے ہی مسلمان فلسطینیوں بھائیوں کے خلاف کارروائیوں کا حصہ بن جائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کہ یہ مہلک حکمت عملی شاید ہمارے ارباب اختیار کی یا تو سمجھ میں نہیں آئی اور یا پھر وہ اسے سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ایک وفاقی مشیر کا یہ بیان سامنے آیا کہ اگر غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کو موقع ملتا ہے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ۔وہاں پر امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی افواج کو کوئی موقع ملتا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بہتر کوئی اور شے ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے ۔موصوف کو یقینا یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وہ ایک سرکاری شخصیت ہیں اور عوام میں ان کے بیانات ذاتی حیثیت سے زیادہ سرکاری حیثیت میں سمجھے جاتے ہیں۔یہاں سوال یہ بھی ہے کہ ان فورسسز کی موجودگی میں اگر اسرائیل فوج غزہ میں ظلم و ستم جاری رکھتی ہے تو کیا یہ مسلم فورسز اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی کرسکیں گی۔
جہاں ملکی منظر نامہ کا تعلق ہے تو ان دنوں امن و امان کی صورت حال اور سرکاری اداروں کی جانب سے طاقت کا غلط اور بے جا استعمال زبان ِزد عام ہے۔ کراچی میں ایک نوجوان عرفان بلوچ کے پولیس کے ہاتھوں قتل پر عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ پوسٹمارٹم رپورٹ نے یہ ثابت ہوا ہے کہ موت سے قبل مقتول پر بیہمانہ تشدد کیا گیا۔ 
ابھی یہ قضیہ ختم نہیں ہوا تھا کہ لاہور سے یہ خبر منظر عام پر آئی کے لاہور کے تھانے نیو انارکلی میں تعینا ت شاہدرہ میں شہری سے ڈکیتی کرنے والاملزم پولیس افسر نکلا ، سب انسپکٹر عمار نے 10 روز قبل اسلامیہ کالونی میں شہری سے ڈکیتی کی تھی۔ملزم کی ایک ہی شہری سے ڈکیتی کی یہ چوتھی واردات تھی جس میں اس نے لاکھوں روپے لوٹے۔ ملزم نے ایک ریکارڈ یافتہ ڈاکو کے ساتھ مل کر شہری سے 4 لاکھ 70 ہزار روپے چھینے تاہم واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد ملزم کی شناخت کی گئی۔ملزم کو سی سی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا سی سی ڈی اپنے پیٹی بند بھائی کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گی جو ان دنوں اسکی وجہ شہرت کا باعث ہے۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ مذکورہ واردات کوئی پہلی واردات نہیں بلکہ پہلے بھی ایسی متعدد وارداتیں ہوچکی ہیں جن میں پولیس اہلکار براہ راست ملوث رہے ہیں۔ متعدد پولیس اہلکاروں نے تو باقاعدہ اپنے گینگ بنا رکھے ہیں۔ حال ہی میں ایک دوسری واردات میں ایک خاتون کی کار چوری کرنے والا پولیس ہی کا ایک تھانیدار نکلا تھا ملزم دن کو نوکری اور رات کو وارداتیں کرتا ہے۔ ایسی کئی واقعات جن میں پولیس اہلکار شہریوںسے ڈکیتیاں کرتے پائے گئے منظر عام پر آچکے ہیں۔ جہاں پولیس اہلکار ایسی وارداتیں کررہے ہیں تو وہاں سی سی ڈی کا مبینہ پولیس مقابلوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ سی سی ڈی نے Extra judicial killing کے مبینہ واقعہ میںایک جھٹکے میں لاہور سمیت مختلف علاقوں میں زیر حراست 6افراد کو ’پار ‘ لگادیا ہے۔

ٹیگز: