Wed, September 16, 2026

پاکستان میں جو پوٹینشل موجود ہے، ہم آج تک اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے ، میاں عامر محمود

پاکستان میں جو پوٹینشل موجود ہے، ہم آج تک اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے ، میاں عامر محمود

لاہور: چیئرمین پنجاب  گروپ میاں عامر محمود نے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو بنے 79 سال ہو چکے ہیں، مگر اب تک پاکستان کی گورننس میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو پوٹینشل موجود ہے، ہم آج تک اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

ایپ سپ کی ملک گیر آگاہی مہم کے سلسلے میں گفٹ یونیورسٹی لاہور میں "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ صرف 1 فیصد نوجوان یونیورسٹیوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں بہت ساری مشکلات اور رکاوٹیں ہیں۔

میاں عامر محمود نے مزید کہا کہ پاکستان میں 1973 کے آئین کے بعد 4 صوبے ہیں، مگر ان میں سے پنجاب پاکستان کی آبادی کا 52 فیصد ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے فیڈریٹنگ یونٹس میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے صوبے ملک کی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں، کیونکہ یہ پورے ملک کی ترقی کو یکساں طور پر نہیں بڑھنے دیتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور انصاف جیسے بنیادی شعبوں میں دنیا کے آخری نمبروں میں شامل ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگر پاکستان نے کچھ مخصوص شعبوں میں بہتری نہیں لائی تو اس کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

میاں عامر محمود نے بلوچستان کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ صوبہ پاکستان کا آدھا رقبہ ہے، مگر وہاں امن و امان کا قیام ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے صوبے میں انفراسٹرکچر اور دیگر سہولتوں کی کمی بھی ہے، جو ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے بڑے صنعتی شہروں کا ذکر کیا اور کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، مگر وہاں کوئی اچھا ہسپتال، یونیورسٹی یا کالج نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فیصل آباد کے لوگ اپنے اہم کاموں کے لیے لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کو بھی انہوں نے "گولڈن ٹرائی اینگل" قرار دیا، مگر افسوس کے ساتھ کہا کہ ان شہروں کو ترقی کے لیے درکار وسائل اور سہولتیں نہیں مل پاتیں۔

میاں عامر محمود نے پنجاب حکومت کی تعلیمی پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پنجاب حکومت لاہور میں بیٹھ کر صوبے کے 60,000 سکولوں کو چلانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر اس کے باوجود تعلیمی معیار میں بہتری نہیں آ رہی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت ایک بچے پر ماہانہ 4,400 روپے خرچ کرتی ہے، اور یہ پیسے بہت زیادہ ہیں، پھر بھی نظام میں بہتری نہیں آتی۔

آخر میں، میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب حکومت پبلک سیکٹر ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر سالانہ 60 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے، مگر اس کے باوجود صحت کے شعبے میں بہتری نہیں آ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود پنجاب میں وسائل کی کمی نہیں ہے، لیکن مناسب حکمت عملی اور گورننس کی کمی کی وجہ سے ترقی نہیں ہو پا رہی۔

میاں عامر محمود نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اگر پاکستان کو واقعی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں اپنے گورننس سسٹم میں تبدیلی لانی ہوگی، چھوٹے صوبوں کی ترقی پر بھی توجہ دینی ہوگی، اور پورے ملک میں یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔

ٹیگز: