Wed, September 16, 2026

ہمارے آج کے نوجوان میں کلیریٹی کی عادت نہیں،ڈسپلن کی کمی ہے،پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان

ہمارے آج کے نوجوان میں کلیریٹی کی عادت نہیں،ڈسپلن کی کمی ہے،پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان

گوجرانوالہ: پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان جو چیئرمین ایپ سپ ہیں، نے پاکستان کی تعلیمی اور سماجی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں اور تعلیم کے نظام پر مزید غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کا اصل مقصد صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ اچھے انسانوں کی تربیت کرنا ہے۔ اس کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے طلبا کو کیا سکھا رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے نوجوانوں میں ڈسپلن کی کمی اور مستقبل کے بارے میں واضح سوچ کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، آج کے نوجوان زیادہ تر راتوں رات امیر بننے کی کوشش میں ہیں، جو ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے نوجوانوں کے لیے رول ماڈلز کی اہمیت پر بھی بات کی اور کہا کہ ہمیں اپنے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے رول ماڈلز کی ضرورت ہے۔ نبی پاک ﷺ کا کردار ہر لحاظ سے بہترین رول ماڈل ہے، اور انہوں نے ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی سکھائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو قوم اپنے ہیروز نہیں بناتی، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے میاں عامر محمود کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات پاکستان کے لیے بہت اہم ہیں، اور لاکھوں طلبا ان کی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان  نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بہتر بنانے کے لیے نئے صوبے بنانا ضروری ہیں تاکہ نئے ایڈمنسٹریٹر آئیں اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کی مقامی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان علاقوں کو اپنی قیادت سامنے لانے کا موقع نہیں دیا گیا، حالانکہ یہاں بڑا پوٹینشل ہے۔

آخر میں، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان  نے نبی ﷺ کی ہدایت پر عمل کرنے کی بات کی اور کہا کہ اگر ہم سب سے پہلے خود میں تبدیلی لائیں تو معاشرے میں بھی تبدیلی آئے گی، اور پاکستان کو ایک بہتر ملک بنایا جا سکتا ہے۔

ٹیگز: