Wed, September 16, 2026

وژن پاکستان 2047ء: قیام پاکستان کے 100سال

وژن پاکستان 2047ء: قیام پاکستان کے 100سال

پاکستان کو قائم ہوئے 79 سال ہو چکے ہیں گزری صدی میں مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت عثمانیہ کاخاتمہ ہوا‘ تین براعظموں تک پھیلی ہوئی عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ سانحہ عظیم تھا اس سے پہلی صدی میں مسلمانوں کی عظیم مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہو چکا تھا عالم اسلام پر مایوسی چھائی ہوئی تھی برصغیر انگریزی استعمار تلے کچلا جا رہا تھا ہندی مسلمانوں نے محمدعلی جناح کی قیادت میں مسلمانوں کی ایک نئی ریاست قائم کر دکھائی‘ یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست تھی مسلمانوں کے لئے امید کا نشان‘ آزادی کا نشان‘ استعمار کے خلاف کامیابی کا نشان‘ قیام پاکستان مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔
قیام پاکستان کے 24 سال بعد پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا‘ بلکہ پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا پاکستان توڑنے میں جہاں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی منظم سازش اور فوج کشی کا کردار ہے وہاں ہماری اپنی غلطیوں کا بھی اہم کردار ہے‘ بہرہال 1971ءمیں عالم اسلام کی سب سے بڑی ریاست پاکستان دوٹکڑوں میں تقسیم کر دی گئی۔ اندرا گاندھی نے نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کرنے کا بھی اعلان کیا تاہم بچا کھچا پاکستان 73ءکے آئین اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ایک نئے سفر پر روانہ ہو گیا‘ اس سفر میں 55 سال مزید گزر چکے ہیں‘ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے آبادی ایک بہت بڑی نعمت بھی ہے اگر اس کا درست استعمال کیا جائے چین کو ہی دیکھ لیں اس نے آبادی کو تعمیروترقی کے ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کیا تو وہ عظیم طاقت بن گیا چینی قیادت نے ہر پیدا ہونے والے چینی بچے کے منہ کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ سائل خرچ کرلے گا اور معیشت پر بوجھ بنے گا بلکہ اس کے دو ہاتھوں کی طرف توجہ دی جسے بروئے کار لا کر معیشت میں بڑھوتی لائی جا سکتی تھی انہوں نے چینی قیادت کے دو ہاتھوں کو استعمال کیا اور معاشی تعمیروترقی کا ذریعہ بنایا انڈیا‘ انڈونیشیا وغیرہ کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں جہاں آبادی‘ افرادی قوت بنی اور ملک معاشی طور پر ترقی کرتا چلا گیا‘ پاکستان صرف زبانی کلامی طور ہی عطیہ خداوندی نہیں ہے بلکہ اسکی آبادی کا 67 فیصد 30 سال سے کم عمر کے شہریوں پر مشتمل ہے اس حوالے سے یہ دنیا کا پہلا بڑا ملک ہے جس کی 67 فیصد آبادی جوانوں پر مشتمل ہے گویا پاکستان عملاً بھی عطیہ خداوندی ہے خدا نے اسے کارآمد افرادی قوت سے مالامال کر رکھا ہے‘ اسکی 26 یا 27 فیصد آبادی 15-29 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے یہ ایک بہت بڑی کارآمد افرادی قوت ہے جسے استعمال کر کے بروئے کار لا کر معاشی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ابھی تک کوئی ایسا حکومتی یا ریاستی نظام ترتیب ہی نہیں دے سکے ہیں جو افرادی قوت کو بروئے کار کر پیداوار مشین میں تبدیل کر سکے‘ ہمارے ہاں 1947ءتا 1956ءیعنی 9 سال تک آئینی موشگافیوں میں ہی پڑے رہے کہ ریاست اور فرد کے درمیان تعلق کی بنیاد آئین کس طرز کا ہو گا‘ اسلامی ہو گا یا لادینی‘ 9 سال بعد جو دستورالعمل 56 کے آئین کی شکل میں ترتیب دیا گیا وہ دو سال ہی چل سکا اور 1858ءمیں جنرل ایوب خان نے آئینی ریاست کی بساط لپیٹ کر مارشل لاءلگا دیا پھر 1962ءمیں ایک آئین تشکیل دیا گیا جو 1969ءمیں خود ایوب نے لپیٹ دیا اور ملک ایک بار پھر یحییٰ خان کے مارشل لاءمیں گھر گیا جو 1971ءکے سانحہ مشرقی پاکستان پر منتج ہوا۔
73ءکے آئین کو بنے 55 سال ہو چکے ہیں اس دوران ہم جنرل ضیاءالحق کا مارشل لاءبھی بھگت چکے ہیں افغان جہاد اور سوویت یونین کا خاتمہ اسی دور کی یادیں ہیں‘ پھر جنرل مشرف کا مارشل لاءاور دہشتگردی کے خلاف امریکی عالمی جنگ بھی ہم بھگت چکے ہیں‘ امریکہ کی افغانستان سے پسپائی اسی دور کی یادیں ہیں۔ اب ہم ایران امریکہ جنگ بھگتا رہے ہیں‘ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک یا بغاوت اور خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی‘ ٹی ٹی اے اور القاعدہ و داعش کی دہشت گردی بھی نمٹا رہے ہیں‘ کہنے کو ہم عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہیں ہم نے اپنے دیرینہ دشمن بھارت کو حال ہی میں ناکوں چنے چبوا کر دنیا پر اپنی عسکری برتری ثابت کر دی ہے ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں ہیں ہم دشمن کو ناکوں چنے چبوانے پر قدرت رکھتے ہیں ہم دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہیں ہم ہار نہیں مانیں گے ہم انہیں نابود کر کے ہی دم لیں گے یہ سب کچھ درست ہے لیکن بحیثیت قوم ہم کہاں کھڑے ہیں۔
گزرے 55 سالوں کے دوران سقوط ڈھاکہ کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی صورت میں دو بڑی موروثی جماعتیں پاکستان کے سیاسی و ریاستی منظر پر چھائی ہوئی ہیں 55 سالہ تاریخ انہی سیاسی جماعتوں کی کارکردگیوں اور ناکارکردگیوں کا فسانہ ہے‘ عمران خان کی پی ٹی آئی ایک نووارد جماعت ہے لیکن اس نے سیاست میں ہی نہیں پاکستان کی ثقافت میں کچھ اس طرح سے غدر مچا دیا ہے کہ الامان الحفیظ‘ انہوں نے پہلے ریاست کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو سپرد خاک کرنے کی بڑی حد تک کامیاب کاوشیں کیں‘ پھر دیکھتے ہی دیکھتے عمران خان کو سپردخاک کرنے کا منصوبہ روبہ عمل آ گیا‘ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا اتحاد اور موجودہ ہائبرڈ سیٹ اپ اسی منصوبے کا کمال ہے لیکن بیرونی محاذ پر شاندار کامیابیوں کے باوجود معاملات چلتے اور آگے بڑھتے نظر نہیں آ رہے‘ وژن پاکستان 2047ءپاکستان کے سو سال پورے ہونے میں ابھی 21 سال باقی ہیں ہم اپنی نوجوان نسل کو موجودہ نسل کو یقیناً ایک عظیم الشان قوت کی شکل دے سکتے ہیں‘ ہمارے نوجوان فعال ہیں ہمارے پاس قدرتی وسائل کی بہت بہتات ہے لیکن ایک نظام چاہئیے جو یہ سب کچھ مرتب کر سکے ہم ابھی تک اس نظام کے بارے میں متفق نہیں ہو سکے ہیں‘ موجودہ نظام کی ناکامی کی باتیں ہو رہی ہیں کچھ درست بھی ہیں ہمارا موجودہ نظام نتائج پیدا نہیں کر رہا ہے لیکن قوم کو جو نسخہ تجویز کیا جا رہا ہے وہ کارگر نہیں ہو گا‘ جب تک اس پر سب کا اتفاق نہ ہو سکے‘ لگتا ہے آنے والے 21 سال بھی ایسے ہی گزر جائیں گے اور 2047ءکے وقت بھی ہم ایسا ہی کچھ لکھ رہے ہونگے‘ پاکستان کو قائم ہوئے سو سال ہو چکے ہیں۔

ٹیگز: