Wed, September 16, 2026

ایس ایم تنویر کا وژن: پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا عزم، معاشی اصلاحات پر زور

ایس ایم تنویر کا وژن: پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا عزم، معاشی اصلاحات پر زور

فیصل آباد: یو بی جی کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال، تعلیمی نظام، بیروزگاری اور صنعتی ترقی سے متعلق اہم نکات پیش کیے۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف کا بنیادی فوکس معیشت کی بہتری ہے، اور ہم بحیثیت تاجر برادری حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم اس ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کا عزم رکھتے ہیں، اور اسی مقصد کے لیے فیصل آباد آیا ہوں۔"

انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد ڈویژن میں اس وقت 5,651 اسکول فعال ہیں اور ایک سرکاری اسپتال 7 لاکھ 72 ہزار افراد کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ "کیا یہ اسکول واقعی پرفارم کر رہے ہیں؟ اور کیا ہمارے بچے عالمی معیار کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو رہے ہیں؟"

ایس ایم تنویر نے کہا کہ دنیا تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ پاکستان میں تعلیمی معیار پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔ "ہماری فیڈریشن نے ان تمام چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے ایک وژن تیار کیا ہے، جس پر ہم کام کر رہے ہیں۔"

انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کو سالانہ 40 ملین ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے اور بیروزگاری کی شرح 22 فیصد بتائی جا رہی ہے، جبکہ ان کے مطابق یہ شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ "ہم نے پاکستان کے مانچسٹر کو صنعتی ترقی کی بجائے ایک تباہ حال شہر بنا دیا ہے۔" انہوں نے بجلی کی قیمتوں اور شرح سود کے مسائل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ "جب تک آئی ایم ایف پروگرام جاری ہے، بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں۔"

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 80 ٹریلین روپے مقامی طور پر حاصل کیے ہیں، لیکن اس پر 11 فیصد سود ادا کیا جا رہا ہے، جو معیشت کے لیے بوجھ ہے۔ ایس ایم تنویر نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر ہارون اختر خان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط صنعتی پالیسی کی تیاری میں مصروف ہیں، جو مستقبل میں ملکی ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں انہوں نے حکومت، وزیراعظم اور ہارون اختر کے لیے کامیابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب کو مل کر اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔"

ٹیگز: