Wed, September 16, 2026

کیا پاکستان میں ریٹیل کاروبار جرم ہے؟

کیا پاکستان میں ریٹیل کاروبار جرم ہے؟

دو دن قبل ایک نہایت ذمہ دار کاروباری شخصیت نے ایک وڈیو شیئر کی جس سے یہ تاثر سامنے آیا کہ اسلام آباد میں بڑی ریٹیل آئوٹ لیٹس کے ملازمین کو”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے“ کے تناظر میں مخصوص سرخ اور سبز رنگ کی لائٹس لگا کر دکان سجانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی بولے کہ بلاشبہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے کسی بھی مثبت معاہدے پر ہر پاکستانی کو خوشی ہے۔ ایسے مواقع پر خوشی کا اظہار بھی ہونا چاہیے اور کاروباری ادارے بھی قومی جذبات اور خوشیوں میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خوشی منانے کا مالی بوجھ زبردستی کاروباری افراد پرڈالنا زیادتی نہیں؟ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ریٹیل برانڈز کو کسی خاص موقع، تہوار یا مہم کے لیے مخصوص سجاوٹ، لائٹنگ یا دیگر انتظامات کرنے کے لیے کہا گیا ہو۔ ماضی میں بھی مختلف مواقع پر ایسی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں۔ بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں لگتی ہوں گی۔ لیکن جب ایک ہی کاروبار کو مختلف اداروں کی جانب سے مسلسل ہدایات، فیس، ٹیکس، سائن بورڈ، سجاوٹ اور دیگر تقاضوں کا سامنا ہو تو مجموعی بوجھ بہت بڑا بن جاتا ہے۔ اصل مسئلہ چند لائٹس یا سجاوٹ کا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا منظم ریٹیل سیکٹر اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ریٹیل صرف دکان کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے سیکڑوں کاروبار، لاکھوں ملازمتیں، مقامی صنعت، مینوفیکچرنگ، سپلائی چین، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، رئیل سٹیٹ اور حکومت کی ٹیکس آمدن جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں ہول سیل اور ریٹیل تجارت کی مجموعی مالیت تقریباً 22.6 ٹریلین روپے بنتی ہے، جو کہ مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 17.8 فیصد ہے۔ اس بڑے شعبے میں منظم ریٹیل کا حصہ ابھی بھی محدود ہے۔ اگر منظم ریٹیل کا حصہ صرف 15 سے 20 فیصد تک پہنچ جائے تو اگلے دو سے تین سال میں تقریباً ساڑھے پانچ ٹریلین روپے کا باقاعدہ اور دستاویزی کاروباری چینل تشکیل پا سکتا ہے۔ یہ صرف ریٹیل کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہوگا۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ریٹیل کو صرف ایک ایسے شعبے کے طور پر نہ دیکھے جس سے صرف ٹیکس لیا جائے۔ 
وہ تواتر سے بول رہے تھے۔ گزشتہ چند ماہ میں کئی ایسے مسائل کا مشاہدہ سامنے آیا ہے جنہوں نے پاکستانی ریٹیل سیکٹر کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مثلاً پہلے 8 بجے اور پھر 9 بجے مارکیٹس بند کرنے کے فیصلے نے ریٹیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ بڑے شہروں کے شاپنگ مالز اور اہم تجارتی مراکز میں روزانہ کی آمدنی میں 20 سے 30 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ شام کے 8 بجے سے 10 بجے تک کا وہ وقت جس میں روایتی طور پر سب سے زیادہ خریداری ہوتی ہے کو پابندی کا سامنا ہے۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں عام طور پر لوگ شام 7 بجے سے رات 11 بجے تک خریداری کے لیے نکلتے ہیں۔ اس کی وجوہات بہت سادہ ہیں۔
پنجاب اور اسلام آباد میں پابندی کے ادوار کے دوران کسٹمر فٹ فال(یعنی گاہک کا دکان میں آنا) میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 8 بجے کی پابندی کے دوران یہ کمی تقریباً 30.54 فیصد ریکارڈ ہوئی، جبکہ 9 بجے کی پابندی کے دوران تقریباً 20.84 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دکانیں جلد بند کرانے سے کوئی مسئلہ تو حل نہیں ہوا البتہ اس نے پورے کاروباری نظام کو متاثرضرور کیا ہے۔ یہ صرف ایک مسئلہ نہیں ہے جو ریٹیل انڈسٹری کو متاثر کررہا ہو۔ایک اہم مسئلہ مشاورت کے بغیر اربن ڈویلپمنٹ یا شہری ترقیاتی منصوبے ہیں۔ دیکھیں سڑکیں بہتر ہوں، مارکیٹیں خوبصورت ہوں، سائن بورڈز منظم ہوں اور شہر بہتر نظر آئیں، اس پر کسی کاروباری شخص کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن مسئلہ طریقہ کار کا ہے۔اکثر انفراسٹرکچر منصوبے تجارتی علاقوں میں شروع تو ہو جاتے ہیں لیکن کاروباری افراد کو نہ مناسب پیشگی اطلاع ملتی ہے اور نہ منصوبے کی تکمیل کی واضح تاریخ۔ بعض اوقات پوری مارکیٹ بند کردی جاتی ہے۔ متبادل راستہ نہیں دیا جاتا اور متاثرہ کاروباروں سے م¶ثر مشاورت بھی نہیں ہوتی۔ عید، بیک ٹو اسکول، موسم سرما کی سیل اور دیگر اہم سیزنز ریٹیل کے لیے سال کے اہم ترین اوقات ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ آزادی کے مہینے میں بھی ریٹیل انڈسٹری پر وقت کی بندش ہے۔ اگر ان سب دنوں میں مارکیٹ بند ہو یا گاہکوں کی رسائی متاثر ہو جائے تو نہ صرف ریٹیلرز کی آمدنی پر انتہائی برا اثر پڑتا ہے بلکہ مطلوبہ ٹیکس بھی اکٹھا نہیں ہوتا۔ 
اسی طرح مختلف بلدیاتی اداروں، جیسے سی ڈی اے، ایل ڈی، واسا، پی ایچ اے، الیکٹرک و گیس کے منصوبوں میں بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے۔ ایک ادارہ سڑک بناتا ہے تو دوسرا کھود کر سیوریج کا کام شروع کردیتا ہے اور تیسرا اسی علاقے میں کوئی اور منصوبہ شروع کردے تو سب سے زیادہ نقصان کاروبار،عوام اور حکومت کی سیاسی ساکھ کا ہوتا ہے۔ ایک اور مسئلہ سائن بورڈ اور بیوٹیفکیشن کا بھی ہے۔ منظم ریٹیل اس عمل پر تو خوش ہے کہ شہر خوبصورت بن رہے ہیں لیکن ان کو شکوہ ہے کہ ایک اہم سٹیک ہولڈر کے طور پران سے مشاورت نہیں ہوتی۔ جس سے مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی برانڈ کو مختلف شہروں میں بیوروکریسی کی جانب سے مختلف تقاضوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ہی کاروبار کے لیے مختلف شہروں میں مختلف قوانین اور شرائط کاروباری لاگت میں اضافہ اور ذہنی کوفت کا باعث ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور ریٹیل سیکٹر مل کر ایسی پالیسی بنائیں جو شہر کی خوبصورتی اور کاروباری ضرورت، دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔
دیکھیں اگر منظم ریٹیل بڑھے گی تو دستاویزی کاروبار بڑھے گا، ڈیجیٹل ادائیگیاں بڑھیں گی، ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا، مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایک مضبوط ریٹیل سیکٹر حکومت کے لیے بھی زیادہ ٹیکس، صنعت کے لیے زیادہ آرڈرز اور نوجوانوں کے لیے زیادہ روزگار پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے حکومت ریٹیل کو ہر مسئلے کا ذمہ دار سمجھنے کے بجائے معیشت کا شراکت دار سمجھے۔

ٹیگز: