ویلنگٹن/کینبرا : فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے عالمی حمایت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز کا کہنا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر میں وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کی کابینہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی۔
دوسری طرف، آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آسٹریلیا ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔
ان ممالک کے اس فیصلے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے شدید ردعمل دیا ہے اور فلسطین کو تسلیم کرنے کے اقدامات کو شرمناک قرار دیا ہے۔
ادھر فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ جب تک ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، مزاحمت جاری رہے گی۔ عرب میڈیا کے مطابق، حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو چکے ہیں۔
عالمی سطح پر فلسطین کو تسلیم کرنے کی کوششیں ایک نئی سفارتی فضا پیدا کر رہی ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہیں۔