Wed, September 16, 2026

اسلام آباد ائیر پورٹ....!

اسلام آباد ائیر پورٹ....!

سعودی عریبین ائیر لائینز کے طیارے کے اسلام آباد ائیر پورٹ پر رکنے کے ساتھ ہی طیارے کے اندر کچھ شور شرابا ہی نہ شروع ہو گیا بلکہ ایک طرح کی بد نظمی اور افرا تفری کی کیفیت بھی پیدا ہو گئی۔ یہ دیکھے بغیر کہ طیارے کا دروازہ ابھی کھلا ہے یا نہیں جلد باز مر د و خواتین مسافر اپنی سیٹوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی سیٹوں کے اوپر طیارے کی چھت کے ساتھ سامان رکھنے کی جگہ یا کمپارٹمنٹ میں رکھے اپنے دستی سامان کے بیگ یا پیکٹ وغیرہ ، کھٹا کھٹ باہر نکالنے شروع کر دئیے۔ میں اور اہلیہ محترمہ اپنی سیٹوں پر بیٹھے رہے کہ رش اور افراتفری کا عالم کچھ کم ہو گا تو ہم اپنے دستی سامان کے بیگ اوپر سے نکال کر طیارے کے دروازے کی طرف بڑھیں گے۔ پندرہ بیس منٹ یا اس سے کچھ زیادہ وقت میںطیارے کے سیٹوں کے درمیانی راستے میں رش کچھ کم ہوا اور آگے طیارے کے دروازے کی طرف جانے کا راستہ کچھ کھلا تو میں اور اہلیہ محترمہ طیارے کے دروازے کی طرف بڑھے۔ دروازے میں سے باہر نکل کر طیارے کے ساتھ جُڑی بے (Bay) یا راہداری میں آ گئے اور وہاں سے آگے چلے۔
اب ہم نے امیگریشن کاﺅنٹر سے اپنے پاسپورٹوں پر EXITکی مہریں لگوانا تھیںاور پھر اپنے سامان کا انتظار کرنا تھا ۔ امیگریشن کاﺅنٹر ز پر جو کچھ مشاہدے میں آیاہے اسے کسی حد تک افسوس ناک ہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم کیسی قوم کے افرادہیں کہ ہم سے ذرا بھی صبر یا اپنی باری کا انتظار نہیں ہو سکتا۔ امیگریشن کے تین چار کاﺅنٹرز کے سامنے قطاریں بنی ہوئی تھیں۔ ایک کاﺅنٹر سینئرسٹیزن کے لیے تھاجس کے سامنے بنی مختصر قطار میں اہلیہ محترمہ اور مَیں جا کر کھڑے ہو گئے۔ وہاں ڈیوٹی پر موجود امیگریشن اہلکار کچھ تھکا تھکا اور بیزار سا لگ رہا تھا۔ ہم اپنے ہاتھوں میں پاسپورٹ اٹھائے کاﺅنٹر کے نزدیک پہنچے تو اسی دوران پورٹر کی وردی پہنے ایک نوجوان ہاتھوں میں پانچ چھ پاسپورٹ اٹھائے آگے آ گیا ۔ اس نے قطار سے ہٹ کر کچھ فاصلے پر کھڑی ایک بڑی عمر کی خاتون کی طرف اشارہ کیا اور پاسپورٹ کاﺅنٹر پر آگے بڑھا دئیے۔وہاں ڈیوٹی پر کھڑے صاحب نے ان پاسپورٹوں پر مہریں لگا دیں جبکہ ہم اپنی جگہ پر ہی کھڑے رہ گئے۔ میرے لیے یہ امر قابلِ اعتراض تھا لیکن میں خاموش رہا اور اپنی باری پر ہم آگے بڑھے۔ اس دوران یہ ہوا کہ کاﺅنٹر پر بیٹھے صاحب اپنی سیٹ سے اُٹھ کر چلے گئے۔ اس پر مجھے کچھ غصہ آیا اور افسوس بھی ہوا اور میں امیگریشن عملے کے کچھ فاصلے پر کھڑے ایک باوَردی صاحب جو سینئر لگتے تھے کے پاس چلا گیا اور انگریزی میں انہیں بتایا کہ یہ کیا مذاق ہے کہ پہلے اپنی باری سے ہٹ کر (Out of Turn ) کسی اور کو Entertain کیا گیا اور اب ہماری باری آئی تو کاﺅنٹر پر موجود صاحب اُٹھ کر چلے گئے ہیں۔اس پر وہ صاحب کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں کاﺅنٹر پر بیٹھے صاحب کئی گھنٹوں سے ڈیوٹی کر رہے تھے اور سخت تھکے ہوئے تھے ۔ شاید واش رُوم میں گئے ہیں۔ میں دوسرے کاﺅنٹر سے آپ کے پاسپورٹوں پر مُہریں لگوا دیتا ہوں۔ اسی دوران وہ نوجوان پورٹر بھی ادھر آ گیا جس نے ہم سے آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ میں اٹھائے پاسپورٹوں پر مہریں لگوائی تھیں۔ ان صاحب نے اس سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا وہ کچھ تسلی بخش جواب نہ دے سکا ۔ خیر اِن با وَردی صاحب نے دوسرے کاﺅنٹر سے ہمارے پاسپورٹوں پر Exitکی مہریں لگوا دیں اور ہمیں چلتا کیا۔ 
سچی بات ہے کہ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم کیسی قوم ہیں کہ ہم میں رولز، ریگولیشنز کی کوئی پابندی نہیںہے۔ کوئی نظم و ضبط، کوئی ڈسپلن، کوئی صبر و تحمل اور اپنی باری کا انتظار ہم میں کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ ہم سڑکوں پر چلتے ہیں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہم ٹریفک رولز کی پابندی کریں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں کلف لگے کپڑے پہنے اور قیمتی موبائل کانوں کے ساتھ لگائے نوجواںبیٹھے ہوتے ہیں جو اپنی گاڑیاں ایسے چلاتے ہیںکہ جیسے سڑکیں صرف اُن کے لیے بنی ہیں۔ رانگ سائیڈ سے اوور ٹیک کرنا یا ٹریفک سگنلز (اشاروں) کی پابندی نہ کرنا ان کے لیے معمول کی بات ہے ۔ پھر موٹر سائیکل سواروںکے اژدہام کے کیا کہنے، وہ جدھر سے چاہتے ہیں اور جیسے چاہتے ہیں سڑکوں پر اپنے موٹر سائیکل چلاتے ہیں۔ اکثر موٹر سائیکلوں پر سائیڈ والے شیشے Mirrorنہیں ہوتے اور نہ ہی پچھلی لائٹیںBack lights درست حال میں ہوتی ہیں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ ٹریفک سگنلز کی پابندی کریں۔ان کے ساتھ رکشے والوں کا بھی اس سے برا حال ہے ۔ ٹریفک رولز کی پابندی ان کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ اگر کوئی ان کی غیر قانونی اور ٹریفک رولز کی خلاف ورزی پر سمجھانے کی کوشش کرے وہ لڑنے اور مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ پھر سامان سے لدی ٹریکٹر ٹرالیاں اور پانی کے ٹینکر زاِس بے رحمی اور لا پروائی کے ساتھ سڑکوں پر چلائے جاتے ہیں کہ آئے روز ان کی وجہ سے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ سب کچھ معمول بنا ہوا ہے لیکن اس کے تدارک اور بہتری کے لیے کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ حکومتی اہلکار اور ذمہ داران کو اس طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں تو بحیثیت قوم ہم سب بے حسی اور بے نیازی کا شکارہیں۔ اس کا نتیجہ نئی نسل کی تباہی اور بربادی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جس کے نزدیک نظم و ضبط ، رُولز ریگولیشنز اور قانون اور ضابطوں کی پابندی کی کچھ بھی اہمیت نہیں۔
اسلام آباد ائیر پورٹ پر امیگریشن کے عملے کی بے ضابطگی کا ذکر کرتے ہوئے بات کچھ دور نکل گئی۔ واپس اسلام آباد ائیر پورٹ کی طرف آتے ہیں ۔ ہمیں جہاز پر لدے اپنے سامان کے آنے کا انتظار تھا جس کے لیے ہم دستی بیگ اٹھائے جہاز سے اتارے جانے والے سامان کی متحرک بیلٹ کے پاس آگئے ۔ میں نے اہلیہ محترمہ کو ذرا فاصلے پر لگی کرسیوں کی طرف بھیج دیا اور خود وہاں کھڑے ایک پورٹر سے ٹرالی لانے کو کہا۔ وہ ٹرالی لے آیا تومیں نے اُس پر دستی سامان کے دونوں بیگ رکھے اور اس کے کہنے پر سامنے کاﺅنٹر پر جہاز سے اتارے جانے والے اپنے سامان کے چار بیگز کے چھ سو روپے جمع کرا کر رسید لے لی۔ اہلیہ محترمہ کچھ فاصلے پر کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی اور دور لاﺅنج کے شیشوں کے باہر بیٹا حارث ملک ، بیٹی ےُسریٰ ، داماد جیلانی ملک اور نواسہ اور نواسی محمد ابوبکر اور عائشہ جیلانی ملک ہاتھ ہلاتے نظر آ رہے تھے۔ سامان کی بیلٹ مستقل چل رہی تھی لیکن ہمارے سامان کے بیگ سامنے نہیں آ رہے تھے۔ کافی دیر کے بعد ہمارے سامان کے بیگ اور آبِ زم زم کی بوتلوں والے کرٹن کچھ اکٹھے ہی آ گئے۔ پورٹر صاحب نے میر ا اشارہ کرنے پر ان کو بیلٹ سے اتار کر ٹرالی پر رکھا اور سامان سمیت لاﺅنج سے باہر آ گئے۔ میں اور اہلیہ محترمہ بچوں سے بڑے پرتباک طریقے سے ملے اور دو گاڑیوں میں بیٹھ کر راولپنڈی میں اپنے گھر جانے کی راہ اختیا ر کی۔ حرمین شریفین کے سفر کی رُوداد تو کسی حد تک مکمل ہو گئی ہے لیکن دیارِ حرمین میں اپنے قیام کے دوران وہاں قیام پذیر پاکستانیوں کے ساتھ میل ملاپ میں جس طرح کے کچھ تجربات اور مشاہدات حاصل ہوئے اس کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ (جاری ہے)

ٹیگز: