اسلام آباد: کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کچھ مہینے 30 دن کے، کچھ 31 دن کے اور فروری صرف 28 دن کا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب قدیم رومی کیلنڈر کی تاریخ میں چھپا ہے۔
آج کل استعمال ہونے والا گریگورین کیلنڈر دراصل جولین کیلنڈر پر مبنی ہے، جو قدیم روم میں استعمال ہوتا تھا۔ اس کیلنڈر کی بنیاد چاند کے مطابق رکھی گئی تھی، جس میں ایک سال 365.25 دنوں پر مشتمل ہوتا تھا۔
738 قبل مسیح میں قدیم رومی باشندے صرف 10 مہینوں پر مشتمل کیلنڈر استعمال کرتے تھے، جس کا آغاز مارچ سے ہوتا تھا۔ اس کیلنڈر میں تقریباً 60 دن شامل نہیں کیے جاتے تھے۔ بعد ازاں 700 قبل مسیح میں باقی دنوں کے لیے جنوری اور فروری کو شامل کیا گیا۔ اُس وقت جنوری سال کا پہلا اور فروری آخری مہینہ تھا۔
424 قبل مسیح میں فروری کو سال کا دوسرا مہینہ بنا دیا گیا۔ بعد ازاں 46 قبل مسیح میں حکمران جولیس سیزر نے کیلنڈر میں اصلاحات کیں۔ ان تبدیلیوں کے تحت، فروری کے علاوہ باقی تمام مہینے 30 یا 31 دن کے کر دیے گئے۔ اس دوران فروری 29 دنوں کا ہوتا تھا، اور ہر چار سال بعد 30 دن کا ہو جاتا تھا۔
بعد ازاں رومی شہنشاہ آگستس نے اگست کو 31 دن کا بنانے کے لیے فروری سے ایک دن کم کر دیا، جس کے بعد فروری 28 دن کا رہ گیا۔ تب سے 7 مہینے 31 دن، 4 مہینے 30 دن اور ایک مہینہ (فروری) 28 دن کا ہوتا ہے۔
قدیم رومی دور میں کیلنڈر کی ان تبدیلیوں کی بدولت آج بھی مہینوں کی یہ غیر مساوی ترتیب برقرار ہے۔