Wed, September 16, 2026

5 اگست: جیل کا سناٹا چھوڑ جائے گا

5 اگست: جیل کا سناٹا چھوڑ جائے گا

اصولی طور پر تو افغانستان جنگ میں شمولیت کا فیصلہ ہی غلط تھا لیکن جنرل ضیا الحق کے پاس کوئی اور آپشن بھی نہیں تھا کہ وہ اسی وعدے پر امریکہ کا منظور نظر بنا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے انکار کے بعد امریکہ کے پاس اب ضیا الحق ہی دوسرا آپشن تھا ان باتوں کا ذکر ہنری کسنجر اپنی زندگی میں بارہا کرتے رہے ہیں۔ آج طالبانی بلائیں انہی پاکستانیوں کے خون کی پیاسی ہیں جنہوں نے انہیں پناہ دی، روزگار دیا، اُن کے بچوں کو زندگی کے بہترین مواقع فراہم کیے اور یہاں سے یورپ اور امریکہ تک پہنچنے کی رسائی انہو ں نے جعلی دستاویزات پر خود لے لی ۔ قبل از نائن الیون اور بعد از نائن الیون کے بعد ہونے والی افغان جنگ نے افغانیوں کو بہت کچھ سکھا دیا ہے اور وہ عالمی سرمایہ داری کا حصہ بننے کیلئے بے چین پھر رہے ہیں لیکن تحریک طالبان پاکستان جنہیں عمران نیازی ایک بہتر زندگی دینے کے پلان کے تحت پاکستان لے آیا اور وہ جو اب بھی افغانستان میں بے روز گار ہیں انہی کی ملی بھگت سے اب وہ ملیشیا جو عمران نیازی نے بنانا تھی اب افواج ِ پاکستان کے ساتھ برسر پیکار ہے اور گزشتہ ایک سال سے ہزاروں شہری، پولیس ملازمین، افواج پاکستان کے جوان و افسران، ڈسٹرکٹ مینجمنٹ اس جنگ میں کام آ چکے ہیں گو کہ اس جنگ میں طالبان کے دہشت گرد جن کو ’’اہل خیر‘‘ آج بھی فنڈنگ کر رہے ہیں، بڑی تعداد میں مارے جا چکے ہیں لیکن اُن کے مارے جانے کی وجہ موجود ہے کہ وہ بھارت، اسرائیل اور یہاں کے مقامی سول یا سیاسی دہشتگردوں کے ساتھ مل کر اس جنگ میں مصروف ہیں۔ ضیا الحق کی شروع کی ہوئی جنگ میں اُس وقت مقامی جنگجو، جرگے اور پختونوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی لیکن آج امن کی خواہش کرنے کے باوجود وہ آتشیں بلائیں قابو نہیں آ رہی جن کو ہم نے خود کبھی بوتل سے باہر نکالا تھا۔ رنجیت سنگھ کے علاوہ پنجاب کا کوئی حکمران کبھی خیبر پختونحوا پر حملہ آور نہیں ہوا لیکن ہمارے پٹھان اور افغانی بھائی سکندر اعظم سے لے کر ابدالی اور نادر شاہ تک ہر حملہ آور کے ساتھ ہی پنجاب کو لوٹنے آئے ہیں اور آج بھی وہ اس پر شرمندہ نہیں بلکہ اسے اپنی غیرت 
اور افغان دوستی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اب حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور وہی دہشت گرد جو ہمیشہ جنگجو سپاہی رہے ہیں اور یہ ہزاروں سال کی تاریخ ہے اب مقامی لوگوں اور مقامی جرگوں کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے جس کا دوسرا مطلب مقامی لوگوں کی وہاں سے ہجرت یا ان کے خلاف مسلح جنگ ہو گی۔ کبھی جن لوگوں کو جہاد کے نام پر عورتوں نے اپنے زیور دے کر بھیجا تھا آج وہ اُن سے اپنے علاقے خالی چاہتے ہیں لیکن کسی نے سچ کہا ہے جو آگ سے کھیلتا ہے آگ ہی میں جلتا ہے۔ ہم بندوق مرضی سے کسی کو دے تو سکتے ہیں لیکن بندوق لینے والا شخص بندوق واپس مرضی سے ہی کرے گا اور اس کا اندازہ ہمیں ہو چکا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے بھارت کو بدترین شکست دی اور اسرائیل کے خلاف بہترین حکمت ِ عملی اپنائی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی فتح اُسی دن ہو گی جس دن بلوچستان کے پہاڑ سلگنا بند ہو جائیں گے، خیبر پختون خوا میں امن ہو جائے گا، کچے اور پکے کے ڈاکووں کو نکیل ڈال دی جائے گی۔ ہمیں اس وقت ایک قومی اتحاد کی ضرورت ہے اور وہ عوام میں جائے بغیر ممکن نہیں ہے۔ عمران نیازی کی پاکستان میں نہ سہی لیکن پاکستان سے باہر بہت گہری جڑیں ہیں اور جب ہمارے سیاستدان جو اقتدار میں بیٹھے ہیں عوام میں نہیں اتریں گے اور فتنہ خوارج کے خلاف ایک بھر پور عوامی تحریک نہیں چلے گی، جب تک ہم آنے والی نسلوںکو ان جرائم پیشہ کے خلاف نہیں پڑھائیں گے یہ جنگ طویل ہوتی رہے گی اور طویل جنگ ہمیشہ ریاست کیلئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ یہ کبھی ریاست کے مفاد میں ختم نہیں ہوتی کیونکہ قبائلی جنگ کی یہ خوبی یا خامی ہوتی ہے کہ اس میں جوں جوں لاشیں گرتی رہیں جنگ پھیلتی رہتی ہے۔
آج 5 اگست ہے یہ وہی منحوس دن ہے جب بھارت نے عمران نیازی کے دورِ حکومت میں اپنی آئینی شقیں ختم کر کے کشمیر کو ریاستِ ہندوستان میں 
ضم کر لیا تھا۔ اصولی طور پر تو تحریک انصاف کو یہ دن کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منانا چاہیے تھا لیکن انتہائی بے شرمی سے آج کے دن پاکستان کے طول و عرض میں سزا یافتہ قومی مجرم عمران نیازی کی رہائی کیلئے احتجاج کی کال دی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کچھ بھی کر لے میری ایک بات لکھ لیں کہ عمران نیازی اِن ہتھکنڈوں سے رہا ہونے والا نہیں۔ تحریک انصاف سُکڑ چکی ہے اور مزید اس احتجاج کے بعد سُکڑ جائے گی کہ مسلسل ناکامی سیاسی ورکروں کو مایوس کر دیتی ہے اور یہ مایوسی اُس وقت اور زیادہ ہو جاتی ہے جب سیاسی ورکر کو یہ یقین ہو جائے کہ دونوں اطراف میں اسٹیبلشمنٹ کھیل رہی ہے۔ 9 مئی کے حوالے سے ہونے والی سزائوں کے نتیجے میں نا اہل ہونے والے اراکین اسمبلی کے بارے میں شنید ہے کہ بانی چیئرمین ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اب یہ مشورہ کوئی عقل مند تو نہیں دے سکتا کہ ان حالات میں عوام کے پاس جانے کا یہی ایک موقع ہے جسے وہ ضائع کر رہے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود ہمیشہ 1985ء کے انتخابات کو اپنی سیاسی غلطی تسلیم کرتی رہیں کیونکہ یہی پاکستان کی تاریخ کا وہ الیکشن تھا جس میں نواز شریف اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوا اور آج بھی اُس کی سیاسی جماعت پاکستان کے اقتدار میں براجمان ہے۔ آج کچھ بھی ہونے والا نہیں کیونکہ تنظیمی ڈھانچے کے بغیر آپ کے پی کے میں تو جلسہ جلوس کر سکتے ہیں لیکن پنجاب اور سندھ میں اس کا کوئی امکان نہیں جبکہ بلوچستان کے حالات ہی آپ کو کسی قسم کے احتجاج کی اجازت نہیں دے رہے۔ تحریک انصاف بغیر کسی ایجنڈے کے چند بیوقوف، سو کالڈ سیاستدانوں کے ہاتھ لگی ہوئی ہے جو جمہوریت کی جنگ انقلابی طریقے سے لڑنا چاہتے ہیں جبکہ ایسا کسی صورت میں ممکن نہیں ہے۔ یہ ریاست کے خلاف جاری ایک مہم ہے جو دم توڑنے کے قریب ہے اور دیے بجھنے سے پہلے تھرتھراتے ضرور ہیں۔ 5 اگست بھی خیریت سے گزر جائے گا اور پیچھے بچ جائے گا جیل کے تاریک سیلوں کا سناٹا، جس کے بارے میں ہمارے مستند، تجربہ کار سیاستدان آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جیل محسوس ہی دو سال بعد ہوتی ہے شاید عمران نیازی کے دو سال پورے ہونے کو آئے ہیں کہ جیل کے دو سال ہر قیدی کے اپنے ہوتے ہیں۔

ٹیگز: