Wed, September 16, 2026

دس اپریل اور حسنِ اتفاق 

دس اپریل اور حسنِ اتفاق 

دو دن قبل 10اپریل کی تاریخ گزری ہے۔ 10اپریل کی تاریخ دنیا بھر میں بہت سے واقعات کے اعتبار سے اہم ہے۔ آئیے اِن واقعات کا مختصر مطالعہ کرتے ہیں جو دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ کےلنڈر کا 100 واں دن دس اپرےل کہلاتا ہے جس کے بعد سال مےں 265 دن رہ جاتے ہےں۔ اپرےل کی دس تارےخ نےوکلےئر ٹےسٹ کے حوالے سے نماےاں مقام حاصل کرچکی ہے۔ ےہ محض اتفاق تھا ےا کوئی اور وجہ کہ سووےت ےونےن، امرےکہ اور فرانس نے اپنے نےوکلےئر ٹےسٹ کے لےے مختلف پانچ برسوں مےں دس اپرےل کے دن کو ہی منتخب کےا۔ ترتیب کے مطابق سووےت ےونےن نے دس اپرےل 1957ئ، امرےکہ نے دس اپرےل 1963ئ، دس اپرےل 1968ئ، دس اپرےل 1986ءاور فرانس نے دس اپرےل 1981ءکو اپنے اپنے نےوکلےئر ٹےسٹ کےے۔ نےوکلےئر دھماکوں کے علاوہ کچھ دوسرے دھماکہ خےز واقعات بھی دس اپرےل کو ہی رونما ہوئے جنہوں نے مستقبل کی انسانی تارےخ پر اہم اثرات مرتب کےے۔ مثلاً برطانےہ نے دس اپرےل 1710ءکو کاپی رائٹ کے ضابطہ کار کا پہلا قانون اےشو کےا جس کے بعد اصل مسودے کے مصنف کو قانونی تحفظ ملا۔ امرےکی صحافت کا مشہور اخبار نےوےارک ٹرےبےون نامور صحافی ہورےس گرےلی کی اےڈےٹرشپ میں دس اپرےل 1841ءکو شائع ہونا شروع ہوا۔ امرےکی رےاست لےوزےانا کے شہر نےواورلےنز میں دس اپرےل 1872ءکو سےاہ فام لوگوں کا پہلا ”نےشنل بلےک کنونشن“ منعقد ہوا۔ امرےکہ میں سےاہ فاموں کی دس اپرےل کے دن شروع ہونے والی سےاسی بےداری کے 137 برس بعد باراک اوباما پہلے سےاہ فام امرےکی صدر بنے۔ تفرےح اور مختصر سفر کی سہولت کے لےے کےبل کار کا تصور بھی پہلی مرتبہ دس اپرےل 1878ءکو امرےکہ میں کےلی فورنےا سٹرےٹ کےبل کار رےل روڈ کمپنی پراجےکٹ کے نام سے شروع ہوا۔ جاپان کے سےاسی جمہوری سفر مےں بھی دس اپرےل بڑی اہمےت کی حامل ہے کےونکہ دس اپرےل 1946ءکو پہلی مرتبہ جاپان کی پارلےمنٹ کے لےے انتخابات کا انعقاد کےا گےا۔ ماڈرن ہسٹری میں امرےکہ اور چےن کے درمےان اہم ترےن سفارت کاری کا واقعہ ”پنگ پونگ ڈپلومیسی“ ہے جس کے تحت امرےکی ٹےبل ٹےنس ٹےم دس اپرےل 1971ءکو چےن پہنچی۔ امرےکہ اور چےن کے درمےان ےہ سفارتی تعلقات قائم کرنے مےں پاکستان نے اہم کردار ادا کےا تھا۔ اےران مےں دس اپرےل 1972ءکو سات اعشارےہ صفر شدت کا زلزلہ آےا جس سے صوبہ فارس کی آبادی کا پانچواں حصہ مکمل طور پر زندگی سے ہاتھ دھو بےٹھا۔ اِسی دن ےعنی دس اپرےل 1972ءکو امرےکہ، سووےت ےونےن اور 70 دےگر ممالک بائےولوجےکل 
ہتھےاروں پر پابندی لگانے پر متفق ہوئے۔ دنےا کے افسانوی بحری جہاز کا درجہ رکھنے والے ٹائی ٹےنک نامی شپ نے برطانےہ کے ساحلی شہر ساﺅتھ اےمپٹن سے نےوےارک کے لےے اپنے سفر کا آغاز دس اپرےل 1912ءکو کےا۔ اس مےں تقرےباً دو ہزار دو سو چوبےس مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے۔ ےہ اُس وقت دنےا کا سب سے بڑا، سب سے محفوظ اور سب سے زےادہ لگژری بحری جہاز تھا۔ ٹائی ٹےنک جہاز کے بنانے والے اس کی مضبوطی کو چےلنج کرتے تھے لےکن مضبوطی میں خوش قسمت ترےن کہلانے والا ےہ بحری جہاز بہت جلد بدقسمت ثابت ہوا کےونکہ ےہ اپنے پہلے اور آخری سفر کے دوران ہی سمندر مےں آئس برگ سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگےا جس مےں پندرہ سو سے زائد مسافر ہلاک ہوگئے۔ دلچسپ بات ےہ کہ ٹائی ٹےنک جہاز مےں ہلاک ہونے والوں مےں برطانوی شہرےوں کی تعداد زےادہ تھی جبکہ اس مےں سوار امرےکی شہری زےادہ تر بچ گئے۔ بعد مےں تحقےق کرنے پر معلوم ہوا کہ برطانوی شہری اپنی تہذےب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈوبتے جہاز سے لائف بوٹس مےں سوار ہونے کے لےے بھی قطار بناتے رہے جس سے ان کی ہلاکتوں مےں اضافہ ہوا جبکہ امرےکی قطار کی پروا کےے بغےر لائف بوٹس مےں جمپ کرتے رہے۔ ہالی ووڈ کے شہرئہ آفاق مصری اےکٹر عمر شرےف دس اپرےل 1932ءکو سکندرےہ مصر مےں پےدا ہوئے۔ ان کی مشہور فلموں مےں دا جےول آف دا نائل، فنی گرل، ڈاکٹر ژےواگو، جنگےز خان اور لارنس آف عربےہ وغےرہ شامل ہےں۔ عمر شرےف عربی، انگرےزی، ےونانی اور فرانسےسی پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ وہ جوئے کے دلدادہ تھے۔ جوئے کے شوق مےں وہ اپنی ہرچےز داﺅ پر لگا دےتے لےکن جب انہوں نے امرےکہ کو خےرباد کہہ کر اپنے آبائی ملک مصر مےں مستقل سکونت اختےار کی تو اپنی توجہ صرف اپنے خاندان کی طرف مبذول کرلی اور اپنی وفات تک پھر کبھی جوا نہےں کھےلا۔ پاکستان کے حوالے سے بھی دس اپرےل کی تارےخ خاص اہمےت کی حامل ہے۔ اس کے مطابق د س اپرےل 1973ءکو پاکستان کا تےسرا آئےن پارلےمنٹ سے منظور ہوا جسے 14 اگست 1973ءکو نافذ کےا گےا جو اَب تک نافذالعمل ہے۔ اس کے تحت ذوالفقار علی بھٹو پہلے وزےراعظم منتخب ہوئے۔ بےنظےر بھٹو اپنی جلاوطنی ختم کرکے دس اپرےل 1986ءکو لاہور پہنچےں۔ اُس وقت ملک مےں جنرل ضےاءالحق ہی حکمران تھے جن کے مارشل لاءکے تحت ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ بےنظےر بھٹو کی واپسی کو قابل قبول بنانے اور انہےں محفوظ سےاسی کورےڈور کی فراہمی کے حوالے سے جنرل ضےاءالحق کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لےے کچھ انٹرنےشنل بروکرز نے اپنا اہم کردار ادا کےا۔ عےن اسی دن امرےکہ نے اپنا طاقتور نےوکلےئر ٹےسٹ بھی کےا تھا جس کا ذکر اوپر کےا جاچکا ہے۔ دس اپرےل 1988ءکا دن راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری کبھی نہےں بھول سکتے جب صبح سوےرے پوری فضا مےزائلوں کے دھماکوں سے گونج اٹھی۔ آسمان پر ہرطرف مےزائل اڑنے لگے اور ہرطرف گرنے لگے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہےں آرہا تھا کہ معاملہ کےا ہے۔ جڑواں شہروں کے شہرےوں نے پہلا تاثر ےہی لےا کہ دشمن ملک نے کہوٹہ لےبارٹری پر مےزائلوں سے حملہ کردےا ہے۔ رفتہ رفتہ پتا چلا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع اسلحہ ڈپو اوجڑی کےمپ پھٹ گےا ہے اور اس مےں سٹور کےے ہوئے مےزائل اڑاڑکر گرنے لگے ہےں۔ اس تباہی سے بہت سے شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بےٹھے۔ دس اپرےل 1988ءکا ےہ دن سعودی عرب میں مقےم 29 برس کے نوجوا ن شاہد بھی کبھی نہےں بھول سکتے کےونکہ اسی اوجڑی کےمپ سے نکلنے والے اےک مےزائل نے ان کے والد کی چلتی گاڑی کو ہٹ کےا جس مےں اُن کے والد جاں بحق ہوگئے اور ان کے بڑے بھائی زخمی ہوکر تقرےباً 17 برس تک بےہوشی کی حالت مےں رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ اُس نوجوان شاہد کو ہم شاہد خاقان عباسی کے نام سے جانتے ہےں جو بعد مےں پاکستان کے وزےراعظم بھی منتخب ہوئے۔ اوجڑی کےمپ کے مےزائل سے جاں بحق ہونے والے ان کے والد خاقان عباسی پاکستان اےئرفورس کے رےٹائرڈ افسر تھے اور انتقال کے وقت جونیجو حکومت میں وفاقی وزےر بھی تھے۔ پاکستان کے دستور میں مشہور زمانہ اٹھاروےں ترمےم بھی دس اپرےل 2010ءکو منظور ہوئی جس کے تحت صوبوں کو بہت حد تک مالی اور انتظامی امور مےں خودمختاری دی گئی۔ اِن سب باتوں پر بھاری یہ کہ دس اپریل 2022ءکی تاریخ کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کی قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے منتخب وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کی۔ ملک کی اب تک کی 78برس کی ہسٹری میں وزیراعظم کے خلاف منظور ہونے والی یہ عدم اعتماد کی پہلی تحریک تھی۔ گویا دس اپریل 2022ءکی تاریخ پاکستان میں ایک مزید ریکارڈ بناگئی اور اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف عمران خان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد وزیراعظم بنے۔ پاکستان کی تاریخ میں دس اپریل 2024ءبھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اُس دن پورے پاکستان نے ایک ساتھ عیدالفطر منائی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ آنے والے دس اپریل کے دنوں میں کیا کیا اہم واقعات ہوتے ہیں۔

ٹیگز: