Wed, September 16, 2026

ترتیب اور حسنِ ترتیب

ترتیب اور حسنِ ترتیب

شاعر نے کہا تھا … اور شاعروں کو تلامیذ الرحمن بھی کہا جاتا ہے:
زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے؟ انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
یہ کلیہ، یہ مشاہدہ ظاہری زندگی ہی پر موقوف نہیں، بلکہ معنوی زندگی پر، روحانی زندگی پر بھی درست پایا گیا ہے۔ افکار میں ترتیب انسان کو مفکر بناتی، الفاظ میں ترتیب اسے ادیب بناتی ہے، اور الفاظ، افکار اور جذبات ہم آہنگ ہو جائیں تو اسے شاعر کہتے ہیں۔
افکار کی ترتیب کسی الہامی ہدایت کے تابع ہو جائے تو اسے عقیدہ کہتے ہیں۔ عقیدہ افکار کو رفعت آشنا کرتا ہے۔ زمینی علم اور آسمانی ہدایت جب ایک خاص حسنِ ترتیب اختیار کرتے ہیں تو انسان پر رموزِ تصوف آشکار ہوتے ہیں۔ یہاں علم اور عمل میں ایسی ترتیب کا تقاضا کیا جاتا ہے کہ عمل ہر آن علم کے تابع رہے۔ کوئی حال ایسا نہ گزرے کہ عمل علم کی تجویز شدہ ترتیب سے تجاوز کرے، سرتابی کرے، یا کسی کوتاہی کا مرتکب ہو۔ یہاں عمل سے پہلے خیال پر گرفت کی جاتی ہے۔ خیال اگر بے ترتیب ہو گیا، تو سمجھو صاحبِ خیال اپنے حال سے گیا۔ حق کو ناحق اور ناحق کو حق سمجھنا اور کہنا تو دور کی بات، اگر سوچا بھی تو حق پامال ہو گیا۔ یہاں شرکت میانِ حق و باطل قبول نہیں کی جاتی۔ یہاں قبولیت اور مقبولیت کو گڈ مڈ نہیں کیا جاتا۔ یہاں فرض کے نام پر احسان سے روگردانی کرنے کا رواج نہیں۔ یہاں نوافل سے کم درجے پر بات نہیں کی جاتی۔ نوافل سے مراد انسانوں کے وہ حقوق ادا کرنا ہیں تو قانون کی کتابوں میں درج ہی نہیں … اور یہ اسی صورت ممکن پذیر ہوتے ہیں جب رب کا جلوہ ہر آن مشاہدے کے پردہِ بصارت پر متجلی ہو … ’’احسان یہ ہے کہ تُو اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے جیسے تُو اسے دیکھ رہا ہو‘‘۔ 
ہماری زندگی میں ترتیب اسے پُرمعنی بناتی ہے … اور بے ترتیب اس سے معنویت اور معنویت کا شعور چھین لیتی ہے۔ کائنات سے قبل سب کچھ ’’ھبائ‘‘ تھا … بکھرا ہوا دھواں تھا … زمان و مکاں میں ترتیب، ترتیب نہ تھی۔ اِسے ایک صدائے کُن نے ترتیب آشنا کر دیا … اور یہ کائنات ظہور پذیر ہونا شروع ہو گئی۔ کائنات زمان و مکاں میں ترتیب ہی کا نام ہے، اور قیامت اس ترتیب کے برہم ہو جانے کا نام ہے۔ راقم کی پہلی کتاب ’’پہلی کرن‘‘ مطبوعہ 1987ء میں، کائنات کی ترتیب کے حوالے 
سے ایک جملہ رقم ہوا، اور بہت معروف ہوا۔ جملہ یوں تھا: ’’یہ کائنات ایک حادثہ نہیں … حادثے میں اس قدر حسن نہیں ہوتا … کیونکہ حسن، حسنِ ترتیب کا نام ہے … اور حادثہ کسی ترتیب کے بکھر جانے کا نام!‘‘۔ اس کتاب کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کے حکم پر اشاعت پذیر ہوئی اور اس کا ایک ایک جملہ آپؒ کے دستِ مبارک سے اصلاح شدہ ہے۔ سوشل میڈیا کی ایجاد سے بعض اوقات حوالوں کی ترتیب تبدیل ہو جاتی ہے، پھر ہوا یوں ہوا کہ کسی واصفی دوست نے یہ جملہ حضرتِ واصفؒ سے منسوب سوشل میڈیا کے انجن پر چلا دیا … اور پھر چل سو چل! بطور ایک مرید اور شاگرد میرے لیے اس سے بڑی اعزاز کی کوئی بات نہیں ہو سکتی اس کی تحریر مرشد سے منسوب ہو جائے … یہ نسبت کے اَمر ہونے کی دلیل بھی ہے۔ بحمدللہ، ثم الحمد للہ! آج کے نوجوان کے فہم میں اس مثال سے یہ بات بتائی جا سکتی ہے: پکاسو کے شاگرد کے لیے اس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی اس کی پینٹنگ دیکھ کر یہ کہے کہ یہ تمہارے استاد کا شاہکار ہے۔ تعلیٰ کے لیے نہیں، فقط ریکارڈ کی درستی کے لیے اس موقع پر یہ اظہار ضروری تھا۔
آمدم برسرِ مطلب! لفظوں میں ترتیب، افکار میں ترتیب، افکار کے اظہار میں ترتیب زندگی کو معنویت عطا کرتی ہے اور یہ ترتیب درہم برہم ہو جائے تو معنویت خاک میں مل جاتی ہے۔ الفاظ اور جذبات اگر اپنے اظہار میں ترتیب کھو دیں تو انسان بے ادب کہلاتا ہے۔ ضبط … لفظوں میں ترتیب پیدا کرنے کا ہنر ہے۔ لفظوں کی نشست و برخاست بے ترتیب ہو جائے تو کئی نشستیں دم بھر میں برخاست ہو جاتی ہیں۔
ترتیب زندگی کے ہر شعبے میں اہم ہے۔ عبادت بھی ترتیب مانگتی ہے۔ ہر وقت کی ایک عبادت ہے اور ہر عبادت کا ایک وقت ہے۔ حج، اپنے ہی وقت پر ہو گا۔ روزہ رمضان کے مہینے ہی میں فرض ہو گا۔ ہر نماز کا ایک مخصوص وقت ہے … وقت نکل جائے تو نماز قضا ہی ادا ہو گی۔ فجر سورج نکلنے سے پہلے ہے، مغرب ڈوبنے کے بعد۔ زکوٰۃ ادا کرنے کی بھی ایک ترتیب بتا دی گئی ہے … پہلے اپنے مستحق اعزاء و اقربائ، پھر آس پاس محلے دار … یعنی خدمت سے لے کر تبلیغ تک، ہر جگہ ’’اوّل خویش بعد درویش‘‘ کا کلیہ قابلِ عمل ہو گا۔
آداب کے میدان میں بھی ترتیب ہی کام آتی ہے۔ ٹوپی کی جگہ سر ہے، اور جراب پاؤں کے لیے ہوتی ہے۔ والدین سر کا تاج ہوتے ہیں، جائے عزت و احترام میں ان کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا … والدین اپنے بچوں کے لیے مقامِ احسان کی جگہ پر ہیں … جہاں احسان نافذ ہو جائے، وہاں فرائض کے نام پر راہِ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی۔ بھائی بہنوں کی جگہ دوست نہیں لے سکتے۔ عمل کی یہ ترتیب، بلکہ حسنِ ترتیب، خالق و مالک نے عطا کی ہے۔
اسی طرح ہماری عقیدتیں بھی ایک ترتیب طلب کرتی ہیں … تاکہ ہمارا عقیدہ درست رہے۔ توحید کی جگہ رسالت اور رسالت کی جگہ ولایت سے عقیدت روا نہیں۔ ہر دائرے کا ایک الگ مقام، الگ تقدس اور تشخص ہے … یہاں حسنِ ترتیب ترک ہو جائے تو عقیدہ بے ترتیب ہو جاتا ہے۔ ہر مقام کی ایک عقیدت ہے۔ عقیدتوں کے باب میں حسنِ ترتیب اُس آفاقی پیغام کو ہمارے گوشِ شعور تک لے کر آتی ہے جو اللہ مالک الملک سے ہمیں بذریعہ رسالت اور بواسطہ ولایت ارسال کیا ہے۔ انبیاء سب کے سب برحق ہیں، ہم ان میں سے کسی کی تفریق نہیں کرتے، یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح کسی کو منفی نہیں کرتے، لیکن اللہ ہی کا ارشاد ہے کہ ’’یہ سب رسول ہیں، ہم نے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے‘‘۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم پیغمبرِ آخرالزماں محمد مصطفیؐ کو سب نبیوں کا امام نہ کہیں، انہیں سب نبیوں سے افضل نہ جانیں، بلکہ سب کو برابر کہیں تو یہ بات افضلیت کی ترتیب کے خلاف ہے۔ آدم صفی اللہ ہیں، نوح نجی اللہ ہیں، ابراہم خلیل اللہ ہیں، اسماعیل ذبیح اللہ ہیں، عیسیٰ روح اللہ ہیں … اور ہمارے رسولِ کریمؐ رسول اللہ ہیں … محبوبِ خدا ہیں … اللہ کے آخری رسول ہیں، جامع، کامل اور مکمل ہدایت لے کر آئے ہیں … اب قیامت تک کسی اور رسول کی بعثت خارج از امکان ہے، خارج از بحث ہے۔ فضیلتِ رسولِ کریمؐ کا اقرار درحقیقت ختم نبوتؐ کا اعلان ہے۔ اسی طرح ولایت کے باب میں بھی ترتیب اور حسنِ ترتیب کا اقرار اور اظہار لازم ہے … بصورتِ دیگر ہمارے لیے ولایت قابلِ عمل راہِ فکر و عمل کی بجائے ایک نظری بحث بن کر رہ جاتی ہے۔
بہرطور ترتیب ترتیب ہے۔ ترتیب عناصر میں ہو تو زندگی ہے، الفاظ میں ہو تو ادب ہے، افکار میں ہو تو معنویت ہے، عقیدتوں میں ہو تو صحتِ عقیدہ ہے، عمل میں ہو تو حسنِ کردار ہے … اور عبادت میں ہو تو چہرے کا نور ہے۔ ترتیب تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔ تعلق قائم ہو تو ترتیب دائم رہتی ہے … تعلق برہم ہو جائے تو ترتیب درہم ہو جاتی ہے۔ وما علینا الّا البلاغ!۔

ٹیگز: