Wed, September 16, 2026

نوبیل کمیٹی کو بھارت کی دو ٹوک ہدایت: ثالثی کے دعوے پر سوالیہ نشان

نوبیل کمیٹی کو بھارت کی دو ٹوک ہدایت: ثالثی کے دعوے پر سوالیہ نشان


نئی دہلی / اوسلو: بھارت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دینے کی مخالفت کی ، جبکہ پاکستان نے ان کی نامزدگی کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی کے دوران "فیصلہ کن سفارتی کردار" ادا کیا تھا۔

بھارتی حکومت نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی مکمل طور پر دو طرفہ بنیادوں پر طے پائی، اور کسی بھی تیسرے فریق، بشمول امریکہ، نے اس عمل میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق "بھارت کی پالیسی بالکل واضح ہے  بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی براہ راست بات چیت کا نتیجہ تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی نے جون 2025 میں سابق امریکی صدر کے ساتھ ایک فون کال کے دوران بھی واضح کیا تھا کہ بھارت کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرتا، اور امن معاہدے کا کریڈٹ لینے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔

میڈیا میں یہ رپورٹس بھی گردش کر رہی ہیں کہ بھارت کے سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے نوبیل امن مرکز، اوسلو کو ایک تحریری بیان بھیجا ہے جس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے دعووں کی تردید کی گئی ہے۔ تاہم، اس بیان کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ امن انعام دینے کا اختیار یقیناً نوبیل کمیٹی کے پاس ہے، لیکن فیصلے کی بنیاد حقائق پر ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی دعوئوں پر۔

ٹیگز: