اللہ کریم کی پاک ذات بڑی بے نیاز ہے ، اس کے حکم اور اس کے اِذن سے ایسے ایسے فیصلے ہو جاتے ہیں اور ایسے واقعات رُو نما ہو جاتے ہیں جن کے بارے میں کسی نے سوچا تک بھی نہیں ہوتا۔ ربِ کریم کی مرضی اور منشا کہ اچانک حالات و واقعات کا کوئی سلسلہ چل پڑتا ہے جو بتدریج آگے بڑھتا ہے اور پھر وہ کچھ وقوع پذیر ہو جاتا ہے،جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ بلا شبہ مقدر، تقدیر، حکمِ ربی، اُس کا فضل، اس کا کرم، اس کی رحمت ِ خاص، اس کے پیارے حبیب کی نظرِ کرم، کچھ خاص لوگوں کی دعائیں ، اخلاصِ نیت، عاجزی، انکساری، صلاحیت ، کارکردگی اور سب سے بڑھ کر منشائے الٰہی کہ جسے چاہے وہ نواز دے، عطا کردے، ایسی کارگر بنیادیں ہیں کہ جو اپنا اثر دکھائی دیتی ہیں اور ایسا کچھ ہو جاتا ہے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو حکومت ِ پاکستان نے فیلڈ مارشل کا رینک (اعزاز) دیا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ منشائے الہی ، مقدر، تقدیر ، ربِ کریم کی طرف سے نوازے جانے اور دعاﺅں کی قبولیت کا ایسا ہی فیصلہ ہے کہ جس کے بارے میں ماضی قریب تک کم ہی لوگوں نے سوچا ہو گا کہ ایسے ہو سکتا ہے۔
آرمی چیف سید جنرل عاصم منیر کو فائیو سٹار جنرل فیلڈ مارشل کا اعلیٰ ترین رینک (اعزاز) مبارک ہو۔ لا تعداد پاکستانیوں کی طرح میرا بھی انہیں مبارک باد دینا فرض بنتا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ معرکہ آرائی میں انہوں نے قیادت کے منصب پر فائز آگے بڑھ کر دشمن کی جارحیت کا کمال ہمت، جرا¿ت، دلیری ، حوصلہ مندی، اعلیٰ منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ مقابلہ ہی نہیں کیا بلکہ اسے ناکامی سے بھی دو چار کیا۔ اس سے ہٹ کر بھی مجھے انہیں اس اعلیٰ ترین اعزاز کے ملنے پر مبارک باد دینے کے ساتھ خوشی کا اظہار بھی کرنا چاہیے کہ ان کے والد گرامی سید سرور منیر شاہ مرحوم و مغفور کے ساتھ کچھ نیاز مندی رہی کہ نومبر ۱۹۶۸ ءسے اکتوبر ۱۹۶۹ءکے دوران مختصر وقت کے لیے میں سی بی ٹیکنیکل ہائی سکول طارق آباد لالکڑتی (موجودہ ایف جی ٹیکنیکل ہائی سکول طارق آباد) میں ان کا رفیقِ کار رہا۔ سید سرور منیر شاہ صاحب کا شمار ادارے کے سینئر اور انتہائی بارسوخ اساتذہ میں ہوتا تھا جن کے انتظامیہ کے ساتھ مثالی تعلقات تھے جبکہ راقم جونئیر ٹیچر کے طور پر وہاں تعینات ہوا اور پھر جلد ہی بطورِ سینئر ماسٹر ایک دوسرے ادارے (ایف جی سر سید سیکنڈری سکول دی مال راولپنڈی) کے لیے سلیکشن ہو گئی۔ بہت عرصہ بعد نوے کے عشرے کے درمیانی برسوں میں سید سرور منیر شاہ صاحب ایف جی پبلک سیکنڈری سکول نئی چھاﺅنی(ویسٹریج راولپنڈی) میں پرنسپل تھے تو راقم بھی ایف جی پبلک سکو ل سی ایم ٹی اینڈ
ایس ڈی گولڑہ ڈپو میں بطور پرنسپل تعینات ہوا تو شاہ صاحب محترم سے ایف جی کینٹ اینڈ گیریژن تعلیمی ادارہ جات کے ڈائریکٹوریٹ میں گاہے ، بگاہے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ سید سرور منیر شاہ صاحب بلا شبہ دین کی تعلیمات پر عمل پیرا، صوم و صلوٰة کے پابند ، انتہائی دبنگ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے چہرے پر لمبی گھنی داڑھی خوب جچتی تھی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے والد گرامی سید سرور منیر مرحوم و مغفور کے بارے میں چند ایک باتیں میں نے تحریر کی ہیںتو حاشا و کلاّ اپنی کچھ خود نمائی مقصود نہیں ۔ میں سابقہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھ سکتا ہوں کہ پچھلی صدی کے ستر کے عشرے کے نصف ِ اول کے برسوں میں جب وہ سی بی سر سید سائنس کالج دی مال راولپنڈی (موجودہ ایف جی سر سید سیکنڈری سکول) میں زیرِ تعلیم تھے تو میں اس ادارے میں بطورِ سینئر ماسٹر تعینات تھا۔ قمر جاوید باجوہ سکول کی کرکٹ ٹیم کا حصہ تھے جس کے انچارج مرحوم منظور نسیم اور ان کے معاون سلطان شاہین تھے۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے لڑکے عموماً پڑھائی میں زیادہ اچھے نہیں ہوا کرتے۔ قمر جاوید باجوہ کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا البتہ میچ وغیرہ کھیلنے کے بعد اپنے ٹیم انچارج کی معیت میں ٹیم کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ سکول کینٹین سے © "بن کباب " لے کر کھانے میں وہ بھی پیش پیش ہوا کرتے تھے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے والد گرامی محترم سید سرور منیر شاہ مرحوم و مغفور کا تذکرہ کرتے ہوئے بیچ میں سابقہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ذکر آ گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف کی تین تین سال کی دو معیادوں کل چھ سال تک آرمی چیف کے عہدے پر فائز رہے۔ اس دوران اُن کی "باجوہ ڈاکٹرائن " کی مخصوص سوچ اور اندازِ فکر و عمل کا خوب شہرہ بھی رہا۔ وہ فائیو سٹار جنرل فیلڈ مارشل کا رینک اپنے کندھوں پر لگوانے کے خواہش مند تھے یا نہیں البتہ چیف آف آرمی سٹاف کے اپنے عہدے کی معیاد میں وہ تیسری بار اضافہ کرانے کے خواہش مند ضرور تھے۔ انہوں نے سر توڑ کوششیں کیں کہ انہیں اس عہدے کی معیاد میں زیادہ سے زیادہ نہیں تو کم از کم ایک سال یا آٹھ ماہ کی توسیع مل جائے لیکن کئی با اختیار لوگوں کے چاہنے کے باوجود وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ انہیں یعنی جنرل باجوہ کو اپنے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے میں تیسری بار آٹھ ماہ کے لیے توسیع مل جاتی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ جنرل سید عاصم منیر کی بطورِ چیف آف آرمی سٹاف تقرری کا راستہ بندہوجاتا کہ اس دوران انہوں نے ریٹائر ہو جانا تھا لیکن منشائے الہی ایسے نہیں تھی۔ جنرل سید عاصم منیر کے مقدر ، تقدیر، قسمت ، ان کے لیے منشائے ربانی، ان کے لیے دعاﺅں اور ان کے نوازے جانے کا نتیجہ ہی تھا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف کا منصب ہی نہ سنبھالیں بلکہ بعد میں ایسا وقت بھی آئے کہ انہیں اپنی اعلیٰ کارکردگی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنا پر فائیو سٹار جنرل فیلڈ مارشل کا اعلیٰ ترین رینک بھی عطا ہو۔
مقدر، تقدیر اور اَمرِ ربی کی بات ہو تو جنرل قمر جاوید باجوہ سے قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی مثال دی جا سکتی ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی حکومت تھی اور جنرل راحیل شریف کی سر توڑ کوشش تھی کہ کسی طرح آرمی چیف کے طور پر ان کی تین سال کی معیاد میں توسیع ہو جائے۔ اس کے لیے انہوں نے ہر طرح کے پاپڑ بیلے لیکن جب بات بنتی نظر نہ آئی تو ان کی طرف سے فیلڈ مارشل کے رینک پر ترقی دیئے جانے کا فارمولا یا مطالبہ سامنے آ گیا ۔ تاہم قدرت کو ایسا منظور نہیں تھا اور جنرل راحیل شریف کی بطورِ آرمی چیف میعادِ ملازمت میں توسیع یا بطور فیلڈ مارشل ترقی کی خواہش نا تمام رہ گئی۔
کسی بھی فوج میں فیلڈ مارشل کا فائیو سٹار جنرل کا رینک حاصل کرنا بلا شبہ خواب و خیال ہی ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں موجودہ آرمی چیف سید عاصم منیر سے قبل فوج کے پہلے پاکستانی کمانڈر ان چیف جنرل محمد ایوب خان نے اپنے لیے فیلڈ مارشل کا رینک اختیار کیا۔ جنرل محمد ایوب خان جنہوں نے ۷ اکتوبر ۱۹۵۸ءکو ملک میں مارشل لاءلا نفاذ کر کے عنانِ حکومت سنبھالی تھی نے اپنے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۹ءکو اپنے لیے فیلڈ مارشل کا عہدہ حاصل کیا۔ ایوب خان صدرِ مملکت بھی تھے ۔ فیلڈ مارشل بننے سے پہلے وہ فوج کے کمانڈر انچیف کا عہدہ چھوڑ چکے تھے اور جنرل محمد موسیٰ بری فوج کے کمانڈر انچیف کے عہدے پر فائز ہو چکے تھے۔ اس طرح تینوں مسلح افواج (بری، بحری اور فضائی) کے سپریم کمانڈر کا عہدہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے پاس تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ ستمبر ۱۹۶۵ءکی جنگ کے دوران صد ایوب خان فیلڈ مارشل کی وردی (جو ان کے جسم پر کسی حد تک ڈھیلی ڈھالی لگتی تھی) میں اگلے مورچوں کا معائنہ کرتے رہے تھے۔
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے اقتدار کا مارچ ۱۹۶۹ءمیں خاتمہ ہوا ۔ اُس وقت سے اب تک تقریباً پچھلے چھ عشروں کے دوران پاکستانی فوج میں کئی فور سٹارز جنرل چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان میں سے ہو سکتا ہے کہ کئی کے دلوں میں فائیو سٹار جنرل (فیلڈ مارشل)کا رینک حاصل کرنے کی خواہش موجود رہی ہو ۔ لیکن قدرت کی منشاءاور مرضی اور عطا کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے کہ اس طرح کی خواہش پوری ہو۔ جنرل جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی خواہشات کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ وہ ناتمام رہیں۔ اب اللہ کریم نے چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے رینک سے نوازا ہے تو بلا شبہ وہ مبارک باد کے مستحق ہیں اور اس کے لیے وہ اور پوری قوم جتنا بھی اللہ کریم کا شکر ادا کریں کم ہے۔