Wed, September 16, 2026

معرکہ حق: حکمت عملی کی فتح

معرکہ حق: حکمت عملی کی فتح


مئی 2025ءجنوبی ایشیا کی عسکری و تزویراتی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے نہ صرف خطے کے طاقت کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی بلکہ جنگ، قیادت، ٹیکنالوجی اور قومی تیاری کے قدیم تصورات کو بھی ازسرِ نو جانچنے پر مجبور کر دیا۔ برسوں سے اپنے آپ کو خطے کی فیصلہ کن قوت کے طور پر پیش کرنے والا بھارت اس مرتبہ ایک ایسے امتحان سے دوچار ہوا جس میں محض عسکری حجم، مہنگے ہتھیار اور بلند آہنگ سیاسی بیانات کامیابی کی ضمانت ثابت نہ ہو سکے۔ اس بحران نے واضح کر دیا کہ جدید جنگیں اب صرف بارود، توپ اور طیاروں کی تعداد سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ ان کے پس منظر میں موجود فکری تیاری، ادارہ جاتی ہم آہنگی، تکنیکی انضمام اور قیادت کی بصیرت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
نئی دہلی کی سیاسی قیادت گزشتہ چند برسوں سے بھارت کو”علاقائی محافظ“ اور”نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر“ کے قالب میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس حکمتِ عملی کا ایک نمایاں پہلو جارحانہ قوم پرستی، دفاعی نمائش اور خطے میں عسکری برتری کے تاثر کو مضبوط بنانا تھا۔ مگر مئی 2025 کے واقعات نے اس پورے بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا۔ جنوبی ایشیا کے عسکری مبصرین کے نزدیک یہ بحران صرف دو فضائی افواج کا ٹکراو¿ نہیں تھا بلکہ دو مختلف عسکری فلسفوں، دو مختلف حکمتِ عملیوں اور دو متضاد ادارہ جاتی سوچوں کا مقابلہ تھا۔
پاکستان ایئر فورس نے اس مرحلے پر جس انداز میں اپنے وسائل، تربیت، ٹیکنالوجی اور آپریشنل حکمت عملی کو بروئے کار لایا، اس نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کو متوجہ کیا۔ اس جنگی ماحول میں ایک حقیقت پوری شدت سے ابھر کر سامنے آئی کہ جدید فضائی جنگ اب صرف فضا میں لڑا جانے والا معرکہ نہیں رہی بلکہ زمین، خلائ، سائبر اور الیکٹرانک میدان سب ایک ہی مربوط جنگی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان نے جس مربوط انداز سے کثیرالجہتی آپریشنز کو استعمال کیا، اس نے یہ ثابت کیا کہ مستقبل کی جنگیں ”معلوماتی برتری“ اور”نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر“ کے گرد گھومیں گی۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستان ایئر فورس نے گزشتہ برسوں میں جو نظریاتی اور تنظیمی اصلاحات متعارف کروائیں، ان کے اثرات اس بحران میں نمایاں دکھائی دیے۔ عسکری اداروں کی تاریخ میں بعض شخصیات صرف منتظم نہیں ہوتیں بلکہ وہ اداروں کی فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ PAF نے اپنی روایتی دفاعی ساخت کو محض پرواز اور حملے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مکمل “ملٹی ڈومین فورس” میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اس سوچ نے پاکستان کو محدود وسائل کے باوجود ایک مو¿ثر دفاعی قوت کے طور پر سامنے آنے کا موقع دیا۔
اس معرکے کا ایک اہم ترین سبق خود انحصاری کی اہمیت بھی ہے۔ ریاستیں جب اپنی سلامتی کو مکمل طور پر بیرونی طاقتوں اور درآمدی نظاموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں تو ان کی تزویراتی خودمختاری متاثر ہونے لگتی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں مقامی دفاعی صنعت، ایوی ایشن ریسرچ اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے میدان میں جو پیش رفت کی، اس نے بحران کے دوران فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک جیسے منصوبے محض تحقیقی مراکز نہیں بلکہ وہ مستقبل کے جنگی تصورات کی تجربہ گاہیں ہیں، جہاں مقامی ذہانت اور قومی ضرورت کو یکجا کیا جا رہا ہے۔
یہ جنگ ایک اور قدیم بحث کو بھی نئے انداز میں زندہ کر گئی:”تعداد یا معیار؟“ بھارت کے پاس طیاروں، دفاعی بجٹ اور اسلحے کی تعداد کہیں زیادہ تھی، مگر میدانِ عمل میں برتری اس قوت کو ملی جس کے پاس بہتر ہم آہنگی، مو¿ثر تربیت، فوری فیصلہ سازی اور واضح جنگی تصور موجود تھا۔ تاریخ میں کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ چھوٹی مگر منظم قوتوں نے بڑی طاقتوں کو حیران کر دیا۔ مئی 2025 کا بحران بھی اسی اصول کی ایک نئی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت نے رافیل جیسے جدید طیاروں اور S-400 جیسے مہنگے دفاعی نظاموں کو اپنی عسکری طاقت کی علامت کے طور پر پیش کیا تھا۔ ان نظاموں کے گرد ایک نفسیاتی برتری کا ماحول بھی پیدا کیا گیا۔ مگر جنگی حالات میں صرف مہنگا اسلحہ کافی نہیں ہوتا۔ اگر اس کے ساتھ مو¿ثر حکمت عملی، آپریشنل مہارت اور مربوط دفاعی نظام موجود نہ ہو تو جدید ترین ٹیکنالوجی بھی محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مبصرین کے نزدیک مئی 2025 نے ”ٹیکنالوجی کی نمائش“ اور”ٹیکنالوجی کے مو¿ثر استعمال“ کے درمیان فرق واضح کر دیا۔
اس بحران کا ایک غیرمعمولی پہلو بی وی آر یعنی “بیاںڈ وڑول رینج” فضائی جنگ بھی تھی۔ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا فضائی تصادم جدید فضائی جنگ کے بدلتے ہوئے خدوخال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب جنگی پائلٹ صرف اپنی بصارت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ سینسرز، ڈیٹا لنکس، مصنوعی ذہانت اور ریئل ٹائم معلوماتی نظام فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں تربیت یافتہ انسانی ذہن اور مربوط ڈیجیٹل نظام کا امتزاج ہی اصل برتری پیدا کرتا ہے۔
ڈرون وارفیئر نے بھی اس معرکے میں نئی جہت پیدا کی۔ دنیا پہلے ہی یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں ڈرونز کی افادیت دیکھ چکی تھی، مگر جنوبی ایشیا میں اس پیمانے پر ان کا استعمال پہلی مرتبہ نمایاں انداز میں سامنے آیا۔ اس بحران نے واضح کیا کہ مستقبل کی جنگوں میں کم قیمت مگر ذہین اور مربوط ڈرون سسٹمز روایتی فضائی طاقت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ثابت ہوا کہ ڈرونز کی افادیت صرف تعداد میں نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس پورے بحران نے ایک نفسیاتی حقیقت بھی آشکار کی کہ جنگیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ اعتماد، نظم، قومی عزم اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے جیتی جاتی ہیں۔ قومیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب ان کی عسکری تیاری محض پریڈوں اور بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ علم، تحقیق، منصوبہ بندی اور مسلسل اصلاح کے عمل سے جڑی ہو۔ پاکستان کے لیے اس بحران کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ قومی سلامتی کی بنیاد صرف عسکری قوت نہیں بلکہ سائنسی ترقی، معاشی استحکام، ادارہ جاتی استقلال اور فکری خود اعتمادی ہے۔
مئی 2025 نے جنوبی ایشیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ طاقت کا حقیقی مقصد تباہی نہیں بلکہ استحکام کا تحفظ ہونا چاہیے۔ پاکستان نے اس بحران میں جس تحمل، تیاری اور دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، اس نے اسے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا جو امن کو ترجیح دیتی ہے مگر اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو مستقبل کی جنوبی ایشیائی سیاست اور سلامتی کے مباحث میں دیر تک زیر بحث رہے گی۔

ٹیگز: