Wed, September 16, 2026

علماءکے قاتل مردہ باد

علماءکے قاتل مردہ باد

ہم نے توکبھی سوچابھی نہ تھاکہ اس مٹی اور دھرتی پرپاک فوج اورپاکستان کانام لینااتنابڑاجرم اور گناہ بن جائے گا کہ ”پاکستان پاکستان“ کہنے اورپکارنے والے کواس طرح بیدردی اورسفاکیت سے خون میں نہلا دیا جائے گا۔ ظالمو۔ وطن کے بوڑھے سپاہی پرہاتھ اٹھاتے ہوئے تمہیں ذرہ بھی شرم نہیں آئی۔ دن دیہاڑے شہیدہونے والے ہزاروں نہیں لاکھوں علمائ،صلحاءاورطلباءکے بوڑھے استادشیخ الحدیث مولانامحمدادریس کابس یہی جرم اورگناہ توتھاکہ وہ اس زمانے میں بھی پاک فوج اورپاکستان کانام لیتے تھے۔کیاپاک فوج اورملک سے محبت اتنابڑاجرم اورگناہ ہے کہ اس پروقت کے ایک ولی کوبھی گولیوں سے بھون ڈالاجائے۔یہ توہم نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ قیام پاکستان سے پہلے کالے ہندو پاکستان کانام لینے اورنعرہ لگانے پر مسلمانوں کوآگ میں جلایا اور خون میں نہلایا کرتے تھے۔ اللہ بخشے ہمارے آبائی گاو¿ں کے قلندر شاہ باجی جب تحریک پاکستان کے واقعات اورکالے ہندوو¿ں کے ایسے مظالم کا ذکر کرتے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ اکثرکہتے کہ پاکستان کے دشمن بڑے ظالم ہیں، پاکستان کی نفرت میں انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ہروہ بندہ جنہوں نے پاکستان کانعرہ لگایااورحضرت قائداعظم کاساتھ دیاان ظالموں نے اسے نہیں بخشا۔نوجوان کیا۔۔؟پاکستان سے محبت کرنے والے بوڑھے،بزرگ اوربچے بھی ان کے شر اور مظالم سے نہیں بچے۔مودی اورموذیوں کے دیس میں یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتارہااوراب بھی ہو رہا ہے لیکن ہزاروں ولاکھوں شہداءکے مبارک خون اورلازوال قربانیوں کی برکت سے بننے والے اس ملک میں ایک درویش اوربزرگ کوپاکستان کی محبت پرخون میں نہلانایہ سوچ،عقل اورسمجھ سے بالاترہے۔کیاہزاروں اورلاکھوں مسلمان اس لئے پاکستان پرکٹے،مرے اورقربان ہوئے کہ ان کے خون سے بننے والے گلستان میں پاک فوج کانام لینے اورپاکستان کانعرہ لگانے والوں کے ساتھ پھریہ سلوک کیاجائے گا۔؟وہ درویش اورفرشتہ صفت مولاناادریس شہیدجن کی ساری زندگی قال اللہ اورقال رسول اللہﷺ کی صدابلندکرتے اورامن وبھائی چارے کے نعرے لگاتے گزری۔ اس نے پاک فوج کانام کیالیاکہ ہندوبنیاکی روحانی اولاد کو وہ مرچیں لگیں کہ انہوں نے مولاناادریس کے خلاف پھرتمام حدودکراس کردیئے۔شہادت سے پہلے مولاناادریس کے خلاف سوشل میڈیاپرایسی مہم چلائی گئی کہ اس مہم کودیکھ کرشیطان بھی شرم سے پانی پانی ہوجائے مگرمہم چلانے والے جاہلوں واندھوں کو ذرہ بھی شرم نہیں آئی۔مولاناادریس کوکیاپتہ تھاکہ ہندوستان میں پاکستان کانعرہ لگانے پرمسلمانوں کوکاٹنے،مارنے اورزندہ جلانے والے دشمنان پاکستان کے وارث اورپیروکاریہاں بھی ہے۔کوئی مانیں یانہ پرحقیقت یہی ہے کہ مولاناادریس شہیدجیسے محب وطن پاکستانی پرہاتھ اٹھانے والوں کے تانے بانے، رشتہ اور خون سو فیصد دشمنان پاکستان سے ملتاہوگا۔کوئی محب وطن پاکستانی مولانا ادریس جیسے پاکستان کے ایک سچے وفاداراورقوم کے حقیقی غمخوار پرہاتھ اٹھانے کاسوچ بھی نہیں سکتا۔ اس واقعہ اورسانحہ کے پیچھے انہی لوگوں اورقوتوں کا ہاتھ ہے جن کے دامن میں پاک فوج اورپاکستان سے نفرت اورعداوت کے سواکچھ نہیں۔ مولانا ادریس کاجرم اورگناہ ہی یہ تھاکہ وہ پاک فوج پر فخر اور پاکستان سے محبت کرتے تھے اسی لئے تواسے نشانہ بنایاگیاورنہ پاک فوج وپاک مٹی سے محبت کے سوااس کااورکوئی جرم اورگناہ تھاہی نہیں۔وہ تومسجداورمدرسے کے خادم اوردین کے ایک غلام تھے،وہ ایک مدرسے سے نکلتے تودوسرے میں پہنچ جاتے۔نہ وہ کوئی جاگیردارتھے نہ سرمایہ دار اور نہ کوئی خان اورنواب۔لین دین کااس کاکوئی تنازعہ تھااورنہ اس کی کسی سے کوئی دشمنی تھی۔وہ تو درس وتدریس کے ذریعے عمرکے آخری حصے میں بھی اندھوں کے شہر میں شیشے بیچ رہے تھے۔ تحریک پاکستان میں تو ہزاروں بوڑھے اوربزرگ وطن پر قربان ہوئے لیکن مولانا ادریس اس دورکے وہ خوش قسمت شہید اور بزرگ ہیں جنہیں پاک فوج اورملک سے محبت کے جرم میں ہندوستان نہیں پاکستان کی سرزمین پر شہید کیا گیا۔ دشمن سمجھ رہاہوگاکہ بوڑھے شیخ کوخون میں نہلا کر انہوں نے پاکستان سے محبت والاباب بندکردیاہے لیکن یہ ان کی بھول ہے۔ مولاناادریس کی دردناک شہادت سے علماءاوراولیاءکاپاکستان سے محبت کاباب بندنہیں ہوا بلکہ اصل کہانی تو اب شروع ہوگئی ہے۔مولاناادریس کے تاریخ سازجنازے نے یہ ثابت کردیاہے کہ پاک فوج اورپاکستان سے محبت میں مولاناادریس شہیداکیلے نہیں تھے۔ شہیدکے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روحانی فرزند اپنے شیخ اورمربی کی طرح ملک کی محبت پرقربان ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ تم نے ایک مولاناادریس کووطن سے محبت کی سزا دے کرہزاروں ولاکھوں نہیں بلکہ ان کے کروڑوں مریدوںکووطن پرقربان ہونے کے لئے تیار کر دیا ہے۔ ملک اور فوج سے محبت میں مولانا ادریس شہیداکیلے نہیں تھے اس ملک کے چوبیس کروڑ عوام اتنی محبت اپنی جان سے نہیں کرتے جتنی محبت اور عقیدت یہ اپنے ملک اورپاک فوج سے کرتے ہیں۔یہاں صرف بچوں اورجوانوں کونہیں بلکہ مولاناادریس شہیدجیسے بوڑھوں کوبھی ملک وفوج سے عشق ہے جہاں مولاناادریس جیسے وطن کے عاشق ہوں وہاں خون کی ندیاں بہانے اورسوشل میڈیاپردن رات مہم چلانے وپراپیگنڈے کرانے کے باوجودپاک فوج اورپاکستان زندہ بادکے نعرے گونجتے رہتے ہیں۔ امریکہ اورایران کے تنازعے کے دوران فیلڈمارشل جنرل عاصم منیر، پاک فوج اورحکومتی محنت،کوشش اور قربانیوں سے عالمی سطح پرپاکستان کا وقار بلند ہوا اور قوم کوعزت ملی یہ اعتراف اگرجرم اورگناہ ہے تو مولاناادریس شہیدکواس جرم میں شہادت کاجام پلانے والے سن لیں پھر اس ملک کابچہ بچہ مجرم اور گناہ گارہے ۔ تمہیں اگرمودی اورموذیوں کی طرح پاک فوج وپاکستان زندہ بادکے نعرے لگانے پرتکلیف ہوتی ہے توپھریہ بھی سن لیں ہم ایک نہیں ہزارولاکھ باربلکہ باربارکہیں گے پاک فوج وپاکستان زندہ باد۔۔علماءکے قاتل مردہ باد ۔

ٹیگز: