دنیا حسب سابق طلوعِ ہلالِ رمضان کے ساتھ دو حصوں (ایمان کفر) میں بٹ گئی۔ جو رب گھپ اندھیروں کی تاریکی مٹا کر چیرتی ہوئی خوبصورت رو پہلی روشنی کی کرنیں چہار جانب پھیلا کر روز روشن لاتا ہے۔ اسی رب نے باطل کے گھپ اندھیروں سے پوری انسانیت کی تقدیر بدل دینے والی یہ رات مقدر کی تھی۔ ہلالِ رمضان، ہر سال جہالت، کفر، گمراہی میں مصنوعی روشنیوں، مصنوعی ذہانتوں میں، حیراں و سرگرداں الجھی، فساد زدہ انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کی سکینت کا سامان کرتا ہے۔ سوئے مادر آکہ تیمارت کند! نااہل، جہل زدہ، فسق و کفر میں ڈوبے بظاہرچمکتے دمکتے ہمہ نوع معاشروں اداروں نے پوری انسانیت کو مریض بنا رکھا ہے....دست ہرنہ اہل بیمارت کند! اللہ نے اس ہلال کے ہمراہ رشد و ہدایت کا نسخہ کیمیا عطا فرمایا ، پوری زندگی نورانی بنا دینے والا!(10اگست 610ئ) رمضان المبارک لیلة القدر کو۔ پونے دو ارب مسلمانوں کو دنیا کو رہنمائی دینے کے لیے قرآن عطا ہوا۔ رمضان ماہِ تربیت ہے گیارہ ماہ دنیا کے بے جہت لق و دق (فکری الجھا¶، ظلم وجور، خلاف طبع انسانیت )صحرا¶ں میں سرگرداں رہنے کے بعد اس با حیات، ہرے بھرے نخلستان میں پڑا¶ کا مہینہ آگیا۔ اخلاق و کردار کی سیاہیاں چھٹ جائیں۔ فکر و نظر کے مغالطے سب دور ہو جائیں۔کفر و فسق، معصیت، گناہوں میں لت پت زندگی سے نفرت و کراہیت راسخ ہو جانے کا نام رشد ہے۔
گزشتہ سوا سال پوری انسانیت نے جنوں کا نام ’خرد‘ پڑھتے سنتے، مسلط ہوتے گزارا۔ انسانیت کی تمام اقدار تہِ تیغ کر دی گئیں۔ بدترین، وحشی جنگی مجرم دنیا میں دندناتے پھرے۔ رہنمایانِ عالم نے انسانوں کو پاگل سمجھا تھا۔ ہر ذی ہوش نے بلا لحاظِ رنگ و نسل و مذہب، حقائق لکھتے صفحے کا لے کر ڈالے۔ پہلے ڈسے ہوئے ممالک آئر لینڈ اور جنوبی افریقہ جیسے چیختے چلاتے رہے۔ پوری فلسطینی قوم کا بدتر ترین استحصال 9 ارب انسانوں کے بیچ کھلی سکرینوں پر ڈٹ کر چلا۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ انسانی خون کی حرمت صفر سے بھی کم ہو گئی۔ معصوم کلیاں روندی گئیں۔ بدترین کردار، الاماشاءاللہ حکمرانوں کا رہا، بلا تخصیص مسلم و غیر مسلم۔ جب ظالموں کی معیشت کے لالے پڑنے لگے۔ فوجی نفری گھٹتی گئی۔ مورال دیوانگی اور احوال معذوری کو چھونے لگا تو دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ بدنصیبی سے یہ مرحلہ پہلے مرحلے سے بڑھ کر دیوانہ، مجنونانہ، متکبرانہ ثابت ہوا۔ اب تو نہ غیروں کی خیر بچی نہ اپنوں کی۔ ٹرمپ نے حیرتوں کے پہاڑ دنیا پر لا توڑے۔ ساتھی بنایا قارونِ دوراں، تکبر سے پھولتا پھٹتا ای لون مسک کو۔ نائب صدر بنایا جے ڈی وینس کو جو خوشامد درآمد میں طاق ۔ٹرمپ امریکی
پالیسی یکسر بدل کر (ابھی مشرق وسطیٰ کے قضیے نمٹے نہ تھے کہ) یورپ سے سینگ الجھا بیٹھا۔ اچانک پوٹن کی گم گشتہ محبت کا دورہ ایسا پڑا کہ دیرینہ امریکی پالیسی کوڑا دان میں ڈال کر یوکرین پر چڑھ دوڑا۔ یورپ، کینیڈا، پاناما، میکسیکو، برازیل کو پہلے للکار چکا تھا۔ یعنی ناوک نے کوئی تیر نہ چھوڑا زمانے میں، تڑپے ہے مرغِ قبلہ نما آشیانے میں!
ٹرمپ منہ بسورے، ناک سکوڑے گردن ٹیڑھی کیے، بھنویں چڑھائے زمین و آسمان سے فساد مول لینے کو تیار بیٹھا ہے! نیتن یاہو کی ذہنی بیماری پورا غزہ اجاڑ کر نہ گئی۔ ٹرمپ نہلے پہ دہلا ہے۔ اور ای لون کی تیزی طراری مال دولت اورسیٹلائیٹوں کی سان چڑھی، غزہ پر ٹرمپ کے ہمراہ آسمان سے نوٹوں کی برسات کے خواب دیکھ رہا ہے۔ پتھر دلی، انسانیت کی رمق سے عاری یہ تینوں (ٹرمپ،نیتن،ای لون مسک) ،غزہ پر انسانی اذیتوں، زخموں، دکھوں، لوتھڑوں، چیتھڑوں کو بہ چشم سر دیکھنے کے باوجود، جو غزہ تہہ در تہہ ملبوں میں دبے عورتوں بچوں خاندانوں کی لاشوں کی سرزمین ہے۔ اس پر یہ اپنی مصنوعی ذہانت کا شاہکار ’ٹرمپ غزہ‘ کی سنگد لانہ، بے رحمانہ ویڈیو ڈٹ کر دنیا کو سنگین ترین بے حسی کے ساتھ فخریہ پیش کر رہے ہیں۔ یہ غزہ پر قبضہ کر کے اسے اپنی خوش باش عیاشی اور سیاحتی مقام بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ واللہ! دنیا کو ضرورت ہے اب اس حیات بخش، انسانیت نواز، مہربان کریم خالق کے رمضان میں نازل کردہ کتاب / نظام کی جو اپنے اندر ہمہ نوع شفا کا سامان لیے ہے۔ قائماً بالقسط: مکمل عدل و انصاف، بے لاگ تمام مخلوق کے لیے بلا امتیاز قائم کرنے والا رب، جس پر 1لاکھ 24 ہزار پیغمبر گواہ ہیں۔ بشمول ابراہیم علیہ السلام، اسحاقؑ،یعقوبؑ، یوسف ؑ، موسیٰؑ، دا¶دؑ (سٹار آف ڈیوڈ کے جھنڈے والوں کے نبی!) و سلیمان و عیسیٰ علیہم السلام اور آخری نبی¿ مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آخری کامل و اکمل صحیفہ عملی نمونہ لیے! عظیم حکمتِ بالغہ.... رشد و ہدایت میں، حکمت میں کامل و اکمل۔ جس کے مقابل مغرب کے سبھی حکیم و فلاسفہ کی دانائی کھوئی گئی۔ علامہ، ڈاکٹر سر محمد اقبال کہہ اٹھے : خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوئہ دانشِ فرنگ، سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف! مغربی فکرونظر کے تاروپود عاشقِ قرآن ورسول ،اقبال نے جس طرح بکھیرے، اسی لیے اسے نصاب بدر کر دیا حکومتوں نے! سازندوںکے حوالے کیا۔
رمضان میں نزولِ قرآن صرف اُس دور کے لیے نہ تھا، اِس دور کی جہالتیں ہر دورسے بڑھ کر اس کی پیاسی ہیں۔ یہ پوری انسانیت کا مقدر بدل دینے والی رات تھی۔ لیلة القدر! قرآن حجة بالغة: ایسی کامل دلیل جس کے سامنے ہر دلیل بے وزن، بے جان۔(الانعام 149) دنیا کے پاس ظن و تخمین کے سوا کچھ نہیں۔ نرے تیر تکے چلاتے ہیں۔ حکمت بالغة: ایسی دانائی، لازوال حکمت جو زمان و مکاں سے ماورا، حقیقی ذہانت و دانائی، مصنوعی نہیں! ہذا صراطی مستقیمًا فاتبعوہ۔ یہی سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو۔ دلیلِ کا ملہ، حکمتِ کا ملہ لیے۔ یہ ہے راز، روزِ اول سے اسلام کی کامیابیوں کا۔ بدر میں جب وہ 313 بے سروسامان تھے تو ایک ہزار کے چھکے چھڑا دیئے۔ احد میں جب 700 تھے (منافقوں کے دھوکا دینے کے بعد!) تو 3 ہزارکفار نکل بھاگے حمراءالاسد تک پیچھا کیا گیا: 3 ہزار جنگ ِموتہ میں لا کھڑے کیے تو پتہ چلا کہ ایک لاکھ رومی لشکر موجود اور مزید ایک لاکھ تیار! مسلمان ہر آن، ہر مرحلہ ا سی حجة بالغة، حکمت بالغة (القرآن) کے فیض سے تربیت یافتہ کامیاب و کامران رہا! 67 جنگوں (10 سال کے عرصے میں) بمشکل 800 افراد مل ملا کر قتل ہوئے اور پورا جزیرہ نمائے عرب فتح ہوا۔( یہاں و حوش نے جہازوں، ڈرونوںسے خود محفوظ رہ کر معصوم پھول خاندانوں کا بموں سے شکار کھیلا۔) قیصرِ روم اپنی سلطنت میں سمٹ سکڑ گیا۔ پھر اگلی ساری صدیاں مسلمانوں کی تھیں۔ خلفائے راشدین نے مسلسل اور بعدازاں 3 مارچ 1924 ءتک 3 براعظموں پر حکمرانی کی۔ غزہ کی شجاعت انہونی نہیں۔ قرآن سے ماخوذ ہے۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، سنت صحابہؓ سے متصل ہے۔ غزہ کا بچہ بچہ قرآن میں غوطہ زن ہے اسی لیے جرا¿تِ کردار ان کا سرمایہ¿ حیات ہے۔ یہ شیروں کے پاکیزہ خون کا ثمرہ ہے۔
ادھر ای لون کا 14 واں بچہ تولد ہوا ۔ ہر بچہ ایک نرالا سائنسی تکنیکی شاہکار۔ حلال بیوی میسر انہیں کم کم آتی ہے۔ سبھی کچھ مصنوعی ہے !دعوتِ عام ہے، راہ گم کردہ انسانیت کواذن عام ہے قرآن کا ماہِ مبارک میں۔ اس وقت دنیا میں یورپ امریکہ کی جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ وائٹ ہا¶س میں کل تک کے محبوب و مطلوب زیلنسکی کی چٹنی گھر بلا کر بنائی گئی۔ وہ بھی ڈٹ کر جواب دیتا رہا۔ بالآخر(جبراً) رخصت کر دیا گیا۔ اس پر سارا یورپ زیلنسکی پر قربان اور ٹرمپ پر غضب ناک ہے۔ انہیں اپنی پڑ گئی ہے۔ بہر طور ٹرمپ کی ہر چال اسی پر آن الٹتی ہے! اب تک کے سارے پلان، دھمکیاں ٹائیں ٹائیں فش ہی ہوئیں! یہ حماقتیں بتاتی ہیں کہ ہمارے ہاں اصول یہ ہے کہ مال (یتیم کے) حوالے اس وقت کرو جب وہ سن رشد کو پہنچ جائے۔(ٹرمپ ابھی سن رشد کو نہیں پہنچا) کفر، فسق، معصیت کی نفرت و کراہیت راسخ ہوجانے کا نام رشد ہے۔ پختگی¿ کردار!(یہی دعا فتنہ¿ دجال میں مانگنی بھی سکھائی گئی ہے۔ ’ھی لنا من امرنا رشدا‘) نہایت بر محل۔ گناہ عقل کھا جاتا ہے اور ’ہش منی‘ مقد مے والی سرکار کو آپ کل عالم کا چوہدری بنا ڈالیں گے تو یہی سب ہوگا۔ 1924 ءتک نظام خلافت چلا ہمارا۔ 3 مارچ 2025ءکو 100 سال پورے ہو گئے اس کے۔ بے شمار نشیب وفراز کے باوجود، صرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ حکمرانی دیکھ لیجیے تو رُشد، قائماً بالقسط رب کا نظام، دونوں اصطلاحات جان جائیں گے۔ ہماری ور اثت عظیم الشان ہے۔اسے اب لوٹ کر بہر حال آنا ہے!