Wed, September 16, 2026

سب جانتے ہیں تو کوئی بولتا کیوں نہیں؟

سب جانتے ہیں تو کوئی بولتا کیوں نہیں؟


پاکستان میں ایک عجیب اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ سیاستدان، ریٹائرڈ جرنیل، بیوروکریٹ، جج، صحافی، پروفیسرز، کاروباری اور درمیانے زمیندار، یہ سب، اپنی اپنی باری پر، ایک بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ موجودہ نظام پاکستان کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ لیکن جیسے ہی سوال آتا ہے کہ ''پھر کیا ہونا چاہیے؟'' خاموشی چھا جاتی ہے۔ یہ خاموشی اتفاقی نہیں، اور اس کے پیچھے ایک پوری کہانی ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ خاموشی مایوسی ہے یا خوف؟ دو وجوہات سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ بہت سے لوگوں کے پاس واقعی کوئی متبادل تصور نہیں،صرف موجودہ نظام سے بیزاری ہے، آگے کا کوئی نقشہ نہیں، صرف مایوسی ہے۔ دوسری وجہ زیادہ سنگین ہے۔کچھ لوگوں کے ذہن میں جزوی سوچ اور صلاحیت تو موجود ہے، مگر یہ خوف بھی ہے کہ نظام میں موجود طاقتور طبقات کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اور پھر ایک تیسرا طبقہ بھی ہے شاید سب سے خطرناک۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اصلاح کے نقطہ نظر سے پہلے نظام کا حصہ بنتے ہیں، اور پھر اس میں شامل ہو کر وہی سب کچھ کرتے ہیں جو استحصال، ناانصافی، جبر اور لوٹ مار کا سبب بن رہا ہے۔ ان میں سے چالاک لوگ کچھ عرصہ بہتی گنگا سے ہاتھ دھو کر آخرکار یہ کہہ کر باہر نکل جاتے ہیں،ہم نے بہت کوشش کی، مگر یہ نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔یوں مایوسی بھی پھیلا دی، بہتی گنگا سے ہاتھ بھی دھو لیے، اور ذمہ داری بھی نہیں لی۔ چنانچہ اس کرپٹ اور ناکارہ نظام میں رہنا ہم سب کا مقدر بن جاتا ہے۔ متفقہ طور پر اور اعلانیہ طور پر۔ ایک طرف نظام کی طرف سے مایوسی پیدا کی جاتی ہے، تو دوسری طرف یہ خوف بھی بٹھا دیا جاتا ہے کہ تبدیلی ناممکنات میں سے ہے۔
اٹھہتر سال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس ملک کو لوٹنے والوں پر سرکاری اور غیر سرکاری چارج شیٹ موجود ہے۔ لیاقت علی خان سے شہباز شریف تک اہلِ سیاست، جنرل (ر) ایوب خان سے جنرل (ر) باجوہ تک جرنیل، اور ان سب کے پیچھے وہ بیوروکریسی جس نے ہر دور میں سب سے بڑے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ اس پر بے شمار کتابیں، خود بیوروکریٹس کی آپ بیتیاں اور سینہ بہ سینہ داستانیں معلوم تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود ہم اپنے سیاسی اور معاشی حقوق غصب کرنے والوں کو اپنی سیاسی وابستگیوں، فرقہ وارانہ عینکوں اور ذاتی مفادات کی نظرسے تلاش کرتے ہیں۔ اسی مخصوص رویے کی وجہ سے ہمیں اصل مجرم ملتے نہیں اور ملیں گے بھی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب ہوا کیسے؟ اصل جرم فکر کا قتل ہے۔ نظام دو چیزوں سے بنتا ہے۔ ایک فکر و فلسفہ، اور دوسرا اسے چلانے والے افراد یا جماعت۔ پاکستان میں روزِ اول سے بلکہ قیام سے بھی قبل موجودہ نظام چلانے والوں نے اس بات کا خاص اہتمام کیا کہ اس قوم کو خوشنما نعرے تو دیے جائیں، مگر کسی عملی فکر و نظر سے مکمل طور پر دور بھی رکھا جائے۔ تاکہ یہ قوم اور اس کی آنے والی نسلیں موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح مایوسی، بے عملی اور غلامی کی وادیوں میں بھٹکتی رہیں۔ ''اسلام کا قلعہ'' مل گیا بس یہی کافی ہے۔ اب یہ نہ پوچھو کہ اس قلعے کو کون چلا رہا ہے، کس فلسفے پر چلا رہا ہے اور کس کے مفاد میں چلا رہا ہے۔ عوام بس ریوڑ کی طرح ہوں جنہیں مذہب، وطنیت اور فرقہ واریت کی سیٹیوں پر جیسے چاہے ہانکا جائے۔
اس منصوبے میں ہمارے پروفیسرز اور علما بھی برابر کے شریک ہیں۔ مدارس اور خانقاہوں کو سرمایہ داریت کے حق میں فتووں اور حمایت کے عوض چندوں، فنڈز اور مذہبی اجارہ داری کی اجازت دے کر رام کر لیا گیا۔ اسی طرح یونیورسٹیوں اور کالجوں کے پروفیسروں کو مفاداتی سوچ کے تابع کر کے انہیں ذاتی مراعات اور ذاتی ترقی کے گرد گھومنے پر مجبور کر دیا گیا۔ نتیجتاً جن افراد نے قومی سوچ کے حامل رجالِ کار پیدا کرنے تھے، وہ خود کردار سے عاری ہو گئے۔ کیونکہ سیاستدان ہو، بیوروکریٹ ہو، جرنیل ہو، جج ہو، صحافی ہو یا کسی بھی شعبے کا ماہر ہر ایک انہی دو ادھوری چھننیوں سے گزر کر آتا ہے۔ مگر ان میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ پاکستان کس فکر و فلسفے کے تحت چلنا چاہیے اور ایک قومی و فکری سوچ رکھنے والی جماعت کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں۔ نتیجہ وہی مایوسی ہے کہ کچھ نہیں ہو سکتا۔
ہمارے پروفیسرز اور علما اس بات کے بھی ذمہ دار ہیں کہ انہوں نے نوجوانوں کو دینِ اسلام کے ان بنیادی اصولوں سے متعارف نہیں کرایا جس نے تقریباً بارہ سو برس تک پوری دنیا کو ایک بہترین نظامِ انصاف فراہم کیا۔ دنیا میں موجود سرمایہ دارانہ نظام اور سوشلسٹ نظام کے مقابلے میں دینِ اسلام کا فکر و عمل کتنا جامع اور مکمل حل پیش کرتا ہے۔ یہ بات آج کی نسل کو بتائی ہی نہیں گئی۔ وہ نظام جسے قائم کرنے والی جماعتِ اولیٰ کی سربراہی و رہنمائی حضور اکرم ﷺ نے خود فرمائی تاکہ جب بھی نظام بگڑے اور جاہلیت کی پرانی حالت لوٹ آئے تو اس نمونہ ہدایت سے رہنمائی لی جا سکے۔
اور اب ایک پوری نسل اس نظام کی قیمت چکا رہی ہے۔ نوجوانوں کو ''جین زی'' اور ''الفا'' کے لیبل لگا کر غیر ذمہ دار، سست اور بے پروا قرار دینا دراصل اسی پرانے کھیل کا نیا ورژن ہے۔ وہی طاقتیں جو اس سے پہلے مختلف انداز میں استحصال کرتی آئی ہیں، آج یہ بیانیہ گھڑ رہی ہیں۔ یہ نسل ضائع نہیں ہوئی ضائع کی جا رہی ہے۔ یہ مایوس نہیں ہوئی مایوس کی جا رہی ہے۔ یہ نسل اپنے سیاسی، معاشی اور اخلاقی حقوق کی منتظر ہے ایسے حقوق جن کے نتیجے میں وہ اس دنیا میں بھی خوشحال اور معزز ہوں، اور آخرت بھی سنور جائے۔ انہیں تقسیم در تقسیم رکھنا، پرانے طریقوں سے ضائع کرتے رہنا اور حقوق سے محروم رکھنا ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، طاقت نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ یہ طریقے تادیر نہیں چلتے۔ غیر منظم، منتشر الذہن اور حقوق سے محروم نوجوان ریاست کے لیے نقصان کا باعث ہیں۔ یا تو یہ نظام خود ایک درست لائحہ عمل کے ذریعے نئی نسل کو ان کے حقوق منتقل کرے یا پھر وقت کا دھارا اپنی انقلابی سمت خود متعین کر لے گا۔ قرونِ اولیٰ کا وہ روشن نمونہ آج بھی موجود ہے، جہاں فکر، کردار اور ایک منظم جماعت نے مل کر دنیا کا نقشہ بدلا تھا۔ آج بھی ضرورت اسی فکر پر کھڑی، قومی سوچ کی حامل ایک جماعت کی ہے۔ جو اقتدار کی نہیں، تبدیلی کی طالب ہو، جو مایوسی نہیں، سمت دیتی ہو۔ انتخاب ابھی بھی موجود ہے۔ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: