Wed, September 16, 2026

ٹرمپ کے خلاف کیلیفورنیا کا بڑا قدم، نیشنل گارڈز کی تعیناتی پر مقدمہ دائر

ٹرمپ کے خلاف کیلیفورنیا کا بڑا قدم، نیشنل گارڈز کی تعیناتی پر مقدمہ دائر

لاس اینجلس : کیلیفورنیا نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمے کی وجہ ریاستی نیشنل گارڈز کو وفاق کے ماتحت لا کر لاس اینجلس میں تعینات کرنا بنی، جسے کیلیفورنیا نے اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ریاست کے اٹارنی جنرل روب بونٹا نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے گورنر گیون نیوسم کو اعتماد میں لیے بغیر ریاستی فورسز کو استعمال کیا، جو آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات ملک میں مزید اشتعال اور انتشار کا سبب بن سکتے ہیں، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔

گورنر گیون نیوسم نے بھی ٹرمپ کے اقدام کو "غیر قانونی اور غیر اخلاقی" قرار دیا۔ ان کے مطابق کیلیفورنیا میں نہ تو کسی بغاوت کا خطرہ تھا اور نہ کسی بیرونی حملے کا خدشہ، اس لیے مقامی ادارے صورتحال کو خود سنبھال سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گورنر کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا، "ایسا لگتا ہے کہ کیلیفورنیا کے گورنر کو گرفتار کرنا پڑے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید 2000 نیشنل گارڈز تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے خلاف لاس اینجلس سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے، جن کے مزید ریاستوں میں پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ٹیگز: