”عدل کسی بھی سلطنت کی وہ بنیاد ہے جس پر آسمان بھی قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم وہ دراڑ ہے جو مضبوط ترین دیواروں کو بھی اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔“ریاستیں صرف زمین کے ٹکڑوں کا نام نہیں ہوتیں۔ وہ قوموں کے اجتماعی کردار کی زندہ تصویریں ہوتی ہیں۔ ان کا اصل جغرافیہ ان کے نقشوں میں نہیںاُن کے انصاف میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ سرحدیں توپوں سے محفوظ کی جا سکتی ہیں مگر ریاست کی عزت صرف عدل سے محفوظ رہتی ہے۔ پرچم ہوا میں لہرانے سے نہیں انصاف کے ایوانوں میں سربلند ہونے سے وقار پاتا ہے۔تاریخ کی الماری میں رکھی ہوئی سلطنتوں کی گرد آلود کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ قومیں ہمیشہ دشمن کی تلوار سے نہیں مرتیں اکثر وہ اپنے ہی ظلم کے بوجھ تلے دم توڑ دیتی ہیں۔ کبھی ایک بے گناہ کا خون، کبھی ایک مظلوم کی آہ، کبھی ایک بچی کی چیخ اور کبھی ایک مہمان عورت کی بے بسی، پوری سلطنت کے ماتھے پر ایسا سیاہ حرف لکھ دیتی ہے جو نسلوں تک مٹ نہیں پاتا۔قرآن کریم ظلم کے بارے میں تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے بے خبر ہے۔“
یہ آیت صرف افراد کے لیے نہیںبلکہ ریاستوں کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔آج دنیا ایک گلوبل ولیج ہے۔ خبر اب سرحدوں پر پاسپورٹ نہیں دکھاتی۔ ظلم کا دھواں کسی ایک شہر سے اٹھتا ہے مگر اس کی بو پوری دنیا محسوس کرتی ہے۔ موبائل فون کی سکرین پرتصاویر یا ویڈیوز نہیں ایک ریاست کا اخلاقی امتحان منعقد ہو جاتا ہے۔ اب دنیا یہ نہیں پوچھتی کہ جرم کہاں ہوا؛ دنیا صرف یہ پوچھتی ہے کہ ”ریاست کہاں تھی؟“۔
جب کسی ملک میں بیرونِ ملک سے آئی ہوئی مہمان خواتین اغوا ہو جائیں تو اغوا صرف چند انسانوں کا نہیں ہوتا، اس دن اس ریاست کی تہذیب بھی اغوا ہو جاتی ہے۔ مہمان ہمیشہ کسی قوم کے اخلاق کا امتحان ہوتے ہیں۔ اگر مہمان خوف کے ساتھ واپس لوٹیں تو دنیا اس سرزمین کی مہمان نوازی پر نہیں، اس کے حفاظتی نظام پر سوال اٹھاتی ہے۔ جب کسی معصوم بچی کی جان انہی ہاتھوں سے چلی جائے جنہیں ریاست نے اس کی حفاظت کے لیے ہتھیار، اختیار اور وردی دی تھی، تو قاتل صرف ایک انسان نہیں رہتا، بلکہ اُس ادارے کا چہرہ بھی لہولہان ہو جاتا ہے۔ اس دن
پولیس کی وردی عزت کا استعارہ نہیں رہتی بلکہ سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
ریاست کا سب سے بڑا سرمایہ سونا، تیل، گیس یا اسلحہ نہیں ہوتا؛ ریاست کا سب سے قیمتی سرمایہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ اور اعتماد شیشے کی مانند ہوتا ہے؛ ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ جڑ بھی جائے تو اس کی دراڑیں باقی رہتی ہیں۔اقبال نے شاید ایسے ہی لمحوں کے لیے کہا تھا:
”جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ ءگندم کو جلا دو“
یہ صرف معاشی نظام پر تنقید نہیں بلکہ ہر اس نظام کے خلاف اعلانِ جہاد ہے جو انسان کی عزت کی حفاظت نہ کر سکے۔دنیا ریاستوں کی تعریف ان کے اشتہارات سے نہیں بلکہ ان کے اُس ردِعمل سے کرتی ہے جو کسی جرم کے سرزد ہونے کی صورت میںریاست کی طرف سے آتا ہے۔ جرم ہر معاشرے میں ہوتا ہے مگر مہذب ریاست اور ناکام ریاست میں فرق جرم سے نہیں بلکہ انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔ جہاں جرم کے بعد سچ کو دفن کر دیا جائے، جہاں ثبوت بدل دیئے جائیں، جہاں طاقتور احتساب سے بالاتر ہو جائے، وہاں عدالتوں کی عمارتیں بھی کبھی کبھی خاموش قبرستان محسوس ہونے لگتی ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ بعض ریاستیں جرم سے زیادہ اس کی پردہ پوشی میں توانائی صرف کرتی ہیں۔ پہلے انکار، پھر تاخیر، پھر کمیٹی، پھر فائل، پھر خاموشی۔ یوں انصاف ایک سرکاری کارروائی بن جاتا ہے اور مظلوم صرف ایک شماریاتی عدد۔مگر دنیا کے حافظے میں فائلیں نہیں، لاشیں محفوظ رہ جاتی ہیں۔سرمایہ کار سرمایہ اٹھا لیتے ہیں، سیاح راستے بدل لیتے ہیں، بین الاقوامی ادارے اپنی رپورٹس میں سخت زبان استعمال کرنے لگتے ہیں، سفارت کار محتاط ہو جاتے ہیں، اور بیرونِ ملک رہنے والا ہر شہری اپنے وطن کے نام کا غیر مرئی بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے لگتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ریاست کی بدنامی صرف سفارتی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ قومی المیہ بن جاتی ہے۔غالب کا ایک شعر ایسے مواقع پر غیر معمولی معنویت اختیار کر لیتا ہے:
”ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگِ ناگہانی اور ہے“
کسی قوم کی اصل ترقی اس کے پلوں، موٹرویز، میٹروز یا فلک بوس عمارتوں سے نہیں ماپی جاتی۔ ترقی کا سب سے معتبر پیمانہ یہ ہے کہ ایک بچہ سکول سے بخیر و عافیت گھر لوٹے، ایک عورت خوف کے بغیر سفر کرے، ایک مہمان خود کو محفوظ محسوس کرے، اور ایک غریب شہری تھانے میں داخل ہو کر یہ یقین رکھے کہ وہاں اس کی عزت محفوظ رہے گی۔اگر ایسا نہ ہو تو ترقی کے تمام دعوے شیشے کے محل ثابت ہوتے ہیں جن کی بنیاد ریت پر رکھی گئی ہوتی ہے۔
ضرورت صرف قانون بدلنے کی نہیں، ریاستی مزاج بدلنے کی ہے۔ پولیس کو طاقت کی علامت نہیں بلکہ خدمت کی علامت بنانا ہوگا۔ تفتیش کو تشدد سے نہیں، سائنس سے جوڑنا ہوگا۔ احتساب کو نمائشی نہیں بلکہ بے رحم بنانا ہوگا، تاکہ کوئی وردی، کوئی منصب اور کوئی طاقت قانون سے بڑی نہ رہے۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا ریاستوں کو ان کی معیشت سے پہلے ان کی اخلاقیات کے پیمانے پر پرکھتی ہے۔اور آخر میں...ریاست کی پیشانی پر سب سے خوبصورت زیور سونے کا تاج نہیں بلکہ انصاف کے نور کا ہوتا ہے۔ جب یہ نور بجھ جاتا ہے تو محل روشن رہتے ہیں مگر قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے۔
ریاستیں اس دن تباہ نہیں ہوتیں جب ان کی سرحدوں پر دشمن کھڑا ہو؛ ریاستیں اس دن ٹوٹنا شروع ہوتی ہیں جب ایک مظلوم کی فریاد ایوانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جائے، جب ایک ماں اپنے بچے کی لاش اٹھائے اور قانون خاموش کھڑا رہے، جب ایک مہمان خوف کے ساتھ رخصت ہو، اور جب انصاف کی قبر پر ترقی کے بینر لگا دیئے جائیں۔ اس دن صرف ایک انسان نہیں مرتا... اس دن ریاست کے آئینے میں اس کا اپنا چہرہ مر جاتا ہے۔ اور جس قوم کا چہرہ مر جائے، دنیا اسے زندہ ریاست نہیں بلکہ چلتی پھرتی جغرافیائی لاش سمجھنے لگتی ہے۔
پاکستان ہم سب کا ہے اس ریاست کا خوبصورت چہرہ بنانے اوردکھانے کیلئے ہم نے ہزاروں تحریریں لکھیں لیکن صرف ایک بُرا واقعہ ہزاروں تحریروں کو نیست و نابود اور تاراج کرتا ہوا اپنے شوق حکمرانی اور طاقت کے زعم میں برباد دیتا ہے۔ جرم روزِ ازل سے انسان کی سرشت میں ہے لیکن ایک اچھی ریاست مجرموں کو کیفرِ کردار پرپہنچا کر نئے مجرموں کو اُن کا انجام دکھادیتی ہے لیکن ایک برُی ریاست مدعی کے یا مظلوم کے ساتھ کھڑاہونے کے بجائے ملزمان یا مجرموں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔سب سے پہلے پاکستان ہے اوراس سے افضل ومحترم کوئی نہیں ۔بس خدارا اس کاچہرہ نہ بگڑنے دیں۔