بھارت وہ ملک ہے جہاں اقلیتوں کی زندگی اجیرن ہے جہاں گوشت کو گائے کا گوشت قرار دیکر مسلمانوں کا قتل کرنا معمولی بات ہے جس کا برملا اظہارسابق انڈین جج جسٹس مارکینڈے کاٹجو بھی کر چکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ ریاست جمہوری ریاست نہیں کہلاتی جہاں انتہاپسند افراد قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اورگائے کے گوشت کے نام پر مسلمانوں کو موت دیتے ہیں بھارت میں آر ایس ایس حکومت کرتی ہے بھارت میں بی جے پی حکومت کرتی ہے جو مودی قاتل کی طرح مکار ہے غنڈہ گرد ہے دہشت گرد ہے ہمسایوں کوتنگ کرنا معمول ہے مودی پاکستان دشمنی میں اندھا ہو چکا امریکہ اور اسرائیل بھارت کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں اگر یوں کہہ لیں کہ اسرائیل اور بھارت ایک سکے کے دو رُخ ہیں ایک گریٹر اسرائیل اور دوسرا گریٹر بھارت کیلئے سرگرم عمل ہیں اس خواب کو حقیقت میں بدل دینے سابقہ آپریشن بیان مرصوص میں بھارت کی شکست اور حالیہ ایرانی اسرائیلی سیز فائر اس کی تازہ مثال ہیں، بھارت اسرائیل کی حمایت میں75فیصد سے زیادہ ہے جو امریکہ کی حمایت سے زیادہ ہے اسطرح اسرائیل بھی بھارت کی حمایت 70فیصد سے زائدہے جو امریکہ کی حمایت سے زیادہ ہے حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھی زیادہ ڈرون اسرائیلی ہی نکلے ان تمام حقائق کی روشنی میں مودی کی پاکستانی دشمنی میں نتن یاہو بھی برابر کا شریک ہے کیونکہ دونوں اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں پاکستان کو رکاوٹ سمجھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے حق میں بھارت میں ریلیاں نکالی گئیں جس سے مسلم دشمنی عیاں ہو گئی حالیہ جنگ میں بری شکست کے بعد اور دنیا بھر میں کتیا کتیا ہونے کے بعد مودی زخمی سانپ کی طرح مختلف حربے آزمانے کی کوشش میں ہے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہے اسی لئے امریکہ کی جانب سے اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹرز رواں ماہ بھارتی فوج کے حوالے کر دیئے جائیں گے، دوسری کھیپ رواں سال نومبر تک متوقع ہے اس سے اندازہ کر لینا چاہیے کو گجرات کا قصائی مودی پاکستان دشمنی میں کس طرح اندھا ہے بھارت کی جب 9اور 10 مئی 2025 کو پاکستان کے ہاتھوں ٹھکائی ہوئی تو بھارتی میڈیا سمیت کوئی ماننے کو تیار نہ تھا کہ پاکستان نے رافیل سمیت 6 طیارے مار گرائے جن پر مودی کو بڑا ناز تھاپھر جب خاک سر میں زیادہ پڑنے لگی تو ہو لی ہولی سب مان گئے جیسے کہ بھارت کے ڈپٹی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے بھی پاکستان سے جنگ میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا،بھارتی ڈپٹی آرمی چیف نے مزید کہا کہ جب پاکستان سے کسی سطح پر بات چیت ہو رہی تھی تو انھوں نے حیران کن بات بتائی کہ پاکستان کو معلوم ہے کہ آپ کا فلاں اہم شعبہ ایکشن کے لیے تیار کھڑا ہے جبکہ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت اور افواج نے ہزیمت سے بچنے کے لیے آپریشن سندور میں ہونے والے نقصانات کو ابتدا میں چھپایا، لیکن اب بھارتی حکومت نے ان ہی چھپی ہوئی ہلاکتوں میں سے 100 سے زائد فوجی اہلکاروں اور پائلٹس کو اعزازات دینے کا فیصلہ کیا ہے، مصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف لائن آف کنٹرول پر بھارت کو 250 سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا، ان میں انڈین ایئر فورس یونٹ کے 7 فوجی، 10 انفنٹری بریگیڈ کے جی ٹاپ میں 5 ہلاک اہلکاراور ہیڈکوارٹر 93 انفنٹری بریگیڈ میں ہلاک ہونے والے 9 فوجی شامل ہیں، جنہیں اب اعزازات سے نوازا جا رہا ہے، بھارتی فضائیہ کے 4 ہلاک پائلٹس، جن میں 3 رافیل طیاروں کے پائلٹس شامل ہیںکو بھی اعزازات دیئے جائیں گے، اسی طرح آدم پور ایئربیس پر مارے گئے جدید ایس 400 دفاعی نظام کے 5 آپریٹرز، ادھم پور ایئربیس اور ایئر ڈیفنس یونٹ پر ہلاک ہونے والے 9 اہلکار، راجوڑی ایوی ایشن بیس میں 2 ہلاک اور اڑی کے سپلائی ڈپو کے او سی سمیت 4 ہلاک فوجی اہلکار بھی اعزازی لسٹ کا حصہ ہیں، انٹیلیجنس فیلڈ سپورٹ یونٹ نوشہرہ میں ہلاک ایک اہلکار اور 12 انفنٹری بریگیڈ اڑی میں 3 ہلاک اہلکاروں کو بھی اعزازات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، پٹھان کوٹ اور ادھم پور سمیت پاکستان کے مؤثر حملوں کے بعد بھارت سیزفائر پر مجبور ہوا، بھارت نے ابتدا میں اپنی رسوائی اور شکست چھپانے کے لیے فوجی نقصانات کو نہ صرف چھپایا بلکہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے پیاروں کی تصاویر بھی شیئر نہ کریں، یہ امر حیران کن ہے کہ بھارت اب انہی ہلاک فوجیوں کو اعزازات دے رہا ہے جن کی ہلاکتیں کبھی تسلیم نہیں کی گئیں، سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بھارتی حکومت نے آپریشن سندور کے دوران فوجیوں کی ہلاکتوں کو تسلیم ہی نہیں کیا تو اب اندرونی دباؤ میں آ کر اعزازات دینے کا فیصلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ بھارت اپنی دفاعی پالیسی میں جارحانہ تبدیلی لا رہا ہے اور اسرائیلی ماڈل کو ایک موثر حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کے تحت حملے کا جواز پیدا کر کے کارروائی کی جاتی ہے،حالیہ اسرائیل ایران کشیدگی کے دوران بھارت نے اسرائیلی کارروائی کو سراہا جس کے بعد خطے میں بھارت کی نیت اور عزائم پر عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوئی ہے، ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی تنازعات کو مکمل روک نہیں سکتی، عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں تو دہرامعیار ختم کرنا ہوگا اور بھارت کو لگام ڈالنا ہو گی اسلحہ کی دوڑامن کی خواہش کیلئے پاکستان دشمنی کیلئے ہے لیکن دشمن یاد رکھے ہمارے سپہ سالار نے گزشتہ روز انتباہ کیا ہے کہ اب کوئی شرارت کی تو جواب مزید سخت ہو گا کیونکہ چہ میگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ بھارت ہزیمت مٹانے کیلئے اکتوبر نومبر میں پہلگام جیسا کوئی ڈرامہ کر سکتا ہے بہر حال پاکستان امن پسند ملک ہے اور امن کو ترجیح دیتا ہے، مگر کسی بھی جارحیت کا سخت، مربوط اور فیصلہ کن جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔