پاکستان کی 25کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی کا معاشی توازن بگاڑ کا شکا رہے ۔ ملک کی آدھی آبادی یعنی ساڑھے بارہ کروڑ افراد غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ مڈل کلاس طبقہ کل آبادی کا 45 فیصد یعنی گیارہ کروڑ 25 لاکھ افرادپر مشتمل ہے ‘ ایک کروڑ 25 لاکھ افراد اشرافیہ اور امیر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو ہماری آبادی کا محض 5فیصد ہے ۔ہمارے معاشرہ میں مڈل کلاس کی اکثریت سفید پوش ہے‘ یہ ایسے افراد ہیں جن کی آمدنی زیادہ نہیں لیکن وہ اپنی عزتِ نفس اور وقار کو قائم رکھنے کےلئے اپنی معاشی تنگی کا اظہار کسی کے سامنے نہیں کرتے۔ معاشرے میں باعزت سمجھا جانے والا یہ طبقہ مہنگائی کے اس دور میں سب سے زیادہ معاشی دباﺅ میں ہے ۔ اس طبقہ کیلئے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل تر ہو رہا ہے اور المیہ ہے کہ یہ اپنی مجبوری کا کھلم کھلا اظہار بھی نہیں کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں مڈل کلاس ہمیشہ ایک اہم سماجی قوت و اکائی رہی ہے۔ یہی طبقہ تعلیم، روزگار، تہذیب، قومی شعور اور سیاسی رجحانات کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں مڈل کلاس طبقہ کے نظریات و اقدار میں جدید دور کے تقاضوں، ڈیجیٹلائزیشن اور مہنگائی کے باعث تبدیلی آ رہی ہے۔ معاشی دباو¿، ٹیکنالوجی کی یلغار، سوشل میڈیا کے اثرات اور سیاسی کشمکش نے اس طبقے کی سوچ، ترجیحات اور اقدار کو بڑی تیزی سے تبدیل کر دیا ہے۔ یہی تبدیلی آج سیاست کے نئے رخ کا تعین بھی کر رہی ہے۔ ماضی میں مڈل کلاس کی شناخت سادگی، اجتماعی روایات، خاندانی اقدار اور کفایت شعاری ہوا کرتی تھی۔ لوگ چادر دیکھ کر پاو¿ں پھیلاتے تھے، بچوں کو حلال رزق اور اعلیٰ تعلیم دینا ہی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔ یہ طبقہ روایتی سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہتا، قومی اداروں پر اعتماد کرتا اور جذبات کے بجائے استحکام کو ترجیح دیتا تھا مگر اب حالات مختلف ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بےروزگاری، تعلیمی اخراجات، بجلی و گیس کے بلوں اور غیر یقینی معاشی صورتحال نے مڈل کلاس کو شدید ذہنی دباو¿ میں مبتلا کر دیا ہے۔ آج کا متوسط طبقہ روایتی اقدار کے برعکس مادی آسودگی، انفرادیت پسندی اور کیریئر پر مبنی سوچ کو ترجیح دے رہا ہے۔ جب ایک پڑھے لکھے نوجوان کو ڈگری کے باوجود مناسب روزگار نہ ملے تو اس کے اندر بے چینی پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اسی بے چینی نے سیاسی رویّوں کو بھی بدل دیا ہے۔ اب ایک عام شہری بھی قومی معاملات پر فوری تبصرہ کرتا، سوال اٹھاتا اور احتساب چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست میں جذباتی وابستگی کے بجائے پرفارمنس پولیٹکس کا رجحان مضبوط ہو رہا ہے۔
پاکستان کا متوسط طبقہ (مڈل کلاس) اب صرف ایک سماجی اکائی نہیں رہا بلکہ یہ ملک کی سیاست اور بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کا سب سے اہم جزو بن چکا ہے۔ ماضی میں مڈل کلاس کو خاموش تماشائی یا صرف نوکری پیشہ طبقہ سمجھا جاتا تھا جو اقتدار کی جنگ سے دور رہتا تھا، لیکن آج کی مڈل کلاس نے سیاسی شعور اور سماجی رویوں کے بت توڑ دیئے ہیں۔ بدلتی اقدار کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مڈل کلاس اب خاندانی یا روایتی سیاسی وابستگیوں سے آزاد ہوتی جا رہی ہے۔ نئی نسل شخصیت، بیانیے اور ڈیجیٹل موجودگی سے متاثر ہوتی ہے‘ سیاسی جلسوں سے زیادہ سوشل میڈیا ٹرینڈز رائے عامہ پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی مقبولیت اب صرف میدانوں میں جمع ہونے والے ہجوم سے نہیں بلکہ موبائل سکرینوں پر موجود اثرورسوخ سے بھی ناپی جاتی ہے۔ تاہم اس تبدیلی کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ مڈل کلاس کا ایک حصہ سیاسی وابستگی میں اس قدر جذباتی ہو چکا ہے کہ دلیل کے بجائے جذبات کو ترجیح دیتا ہے۔ اس صورتحال نے معاشرے میں تقسیم اور عدم برداشت کو فروغ دیا ہے۔
پاکستان کی مڈل کلاس اس وقت شناخت کے شدید بحران کا بھی شکار ہے۔ معاشی دباو¿ نے اس طبقے کو ایلیٹ (امیر) طبقے کی صف میں شامل ہونے کی دوڑ میں لگا دیا ہے جس کی وجہ سے سوشل گیپ بڑھ گیا ہے۔ نمود و نمائش، برانڈز کلچر اورمادیت پسندی نے مڈل کلاس کے روایتی سماجی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ غریب طبقے کےلئے مڈل کلاس اب ہمدرد نہیں رہی بلکہ وہ خود کو اس سے دور کر کے اپنی الگ مصنوعی ایلیٹ دنیا بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کا خاتمہ اور انفرادیت پسندی اسی بدلتے ہوئے سماجی رویے کا نتیجہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک مڈل کلاس کی خوشحالی کا معیار علم، اخلاقیات اور انسان دوستی کو سمجھا جاتا تھا لیکن آج کی بدلتی ہوئی اقدار میں مالی آسودگی کا پیمانہ زیادہ سے زیادہ خریداری ، برانڈڈ اشیاءکا استعمال اور ایک خاص طرزِ زندگی بن چکا ہے۔ معاشرتی دباو¿ کے باعث دکھاوے کا رجحان عام ہو گیا ہے۔ بڑے گھر، مہنگی گاڑیاں اور بیرونِ ملک چھٹیاں اب متوسط طبقے کی نئی ترجیحات میں شامل ہو چکی ہیں۔ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ مڈل کلاس نوجوان مایوس ہو کر بیرونِ ملک ہجرت کو ہی واحد حل سمجھ رہی ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مڈل کلاس آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی امید ہے۔ اگر یہ طبقہ مثبت سوچ، علمی رویّے، برداشت اور جمہوری اقدار کو فروغ دے تو ملکی سیاست میں حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔ سیاست صرف نعروں، جذبات یا شخصیات کا کھیل نہیں بلکہ قومی ترجیحات، پالیسی سازی اور اجتماعی شعور کا نام ہے۔ ایک باشعور مڈل کلاس ہی ایسی قیادت کو آگے لا سکتی ہے جو ذاتی مفادات کے بجائے قومی ترقی کو ترجیح دے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے نے انگڑائی لی اس کی قیادت مڈل کلاس نے ہی کی۔ پاکستان کا متوسط طبقہ غیر معمولی طور پر باصلاحیت، محنتی اور لچکدار ہے۔ معاشی سختیاں عارضی ہیں لیکن جو شعور اور ہنر اس طبقے نے حاصل کیا وہ مستقل ہے۔ مڈل کلاس کی یہ بدلتی ہوئی اقدار دراصل ایک ارتقائی عمل کا حصہ ہیں اور اگر اس توانائی کو درست سمت مل جائے تو یہی طبقہ پاکستان کی ترقی کا اصل ضامن بنے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ مڈل کلاس اپنی بدلتی اقدار کا رخ تعمیری سوچ کی طرف موڑے۔ سوشل میڈیا کی وقتی جذباتیت سے نکل کر سنجیدہ سیاسی فہم کو فروغ دے کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف حکمران نہیں بلکہ باشعور شہری بھی بدلتے ہیں۔