Wed, September 16, 2026

ڈرامہ نگاری اور ناول نگاری کی دنیا کا بڑا نام، فاطمہ ثریا بجیا، ہمیں چھوڑے 10 برس گزر گئے

 ڈرامہ نگاری اور ناول نگاری کی دنیا کا بڑا نام، فاطمہ ثریا بجیا، ہمیں چھوڑے 10 برس گزر گئے

لاہور : ڈرامہ نگاری اور ناول نگاری کی دنیا کا بڑا نام، فاطمہ ثریا بجیا، ہمیں چھوڑے 10 برس گزر چکے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ٹیلی ویژن بلکہ ریڈیو اور سٹیج پر بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔ سماجی کاموں اور فلاحی خدمات میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا، اور ان کا خاندان بھی ادبی دنیا میں اہم مقام رکھتا ہے۔

فاطمہ ثریا بجیا یکم ستمبر 1930ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں۔ ان کے لکھے گھریلو ڈرامے ہمیشہ سے سب کی پسند رہے ہیں، جیسے شمع، افشاں، عروسہ اور انا، جو خاندانوں اور ان کے مسائل کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں انارکلی، زینت، آگہی، بابر اور سسی پنوں شامل ہیں۔

ان کی ٹیلی ویژن کی دنیا میں آمد ایک اتفاقی واقعہ تھا۔ 1966ء میں جب ان کی کراچی جانے والی فلائٹ کی روانگی میں تاخیر ہوئی، تو وہ اسلام آباد پی ٹی وی سینٹر گئیں۔ وہاں سٹیشن ڈائریکٹر آغا ناصر نے انہیں اداکاری کے لیے موقع دیا، جس کے بعد انہوں نے ڈرامہ نگاری میں اپنا سفر جاری رکھا۔

فاطمہ ثریا بجیا کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے 1997ء میں تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا، اور انہیں جاپان کا اعلیٰ سول ایوارڈ بھی ملا۔ 2012ء میں صدر پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز سے نوازا۔ وہ سندھ حکومت میں مشیر برائے تعلیم بھی رہیں۔

ان کا خاندان بھی ادبی میدان میں اہم شخصیات سے بھرا ہوا ہے، جن میں ان کے بھائی احمد مقصود اور انور مقصود، اور بہنیں سارہ نقوی، زہرہ نگاہ اور زبیدہ طارق شامل ہیں۔

فاطمہ ثریا بجیا 10 فروری 2016ء کو گلے کے کینسر کے باعث 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، لیکن وہ اپنی تحریروں کے ذریعے ہمیشہ ہمارے درمیان رہیں گی۔ ان کی تحریریں اور انسانیت کے لیے ان کا پیغام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ٹیگز: