Wed, September 16, 2026

ماسٹر غلام حیدر کو دنیا سے رخصت ہوئے 72 برس گزر گئے

ماسٹر غلام حیدر کو دنیا سے رخصت ہوئے 72 برس گزر گئے

لاہور : پاکستان اور بھارت کی فلمی موسیقی کی تاریخ کے عظیم ترین موسیقاروں میں سے ایک، ماسٹر غلام حیدر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 72 سال ہو گئے ہیں۔ وہ وہ شخصیت تھے جنہوں نے نہ صرف موسیقی میں نیا رنگ ڈالا بلکہ پنجاب کی روایتی لوک دھنوں کو اپنے گیتوں کا حصہ بنا کر ایک انقلابی قدم اٹھایا۔

ماسٹر غلام حیدر 1906ء میں حیدرآباد سندھ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں موسیقی کا شوق تھا اور ہارمونیم بجانے میں خاص دلچسپی تھی۔ یہی شوق انہیں لاہور لے آیا، جہاں 1932 میں وہ ایک مشہور ریکارڈنگ کمپنی سے جڑ گئے اور اپنے زمانے کے بڑے موسیقاروں جیسے استاد جھنڈے خان، پنڈت امرناتھ اور جی اے چشتی سے سیکھا۔

1933ء میں فلم ساز اے آر کاردار نے انہیں اپنی فلم ’’سورگ کی سیڑھی‘‘ کے لیے موسیقار مقرر کیا، اور اس کے بعد ان کی شہرت نے مزید پرواز کی۔ فلم ’’گل بکاؤلی‘‘ کی موسیقی نے ان کے کیریئر کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، اور اس کے بعد انہوں نے لاہور کے مختلف نگار خانوں کی فلموں کے لیے بھی موسیقی دی۔

1944ء میں ماسٹر غلام حیدر ممبئی منتقل ہو گئے اور وہاں بھی کئی کامیاب فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ 1948ء میں واپس لاہور آ گئے اور یہاں ’’بے قرار، اکیلی، غلام اور گلنار‘‘ جیسے ہٹ گانوں سے فلمی صنعت میں اپنی چھاپ چھوڑی۔ انہوں نے اپنی موسیقی کے ذریعے میڈم نور جہاں، شمشاد بیگم، زینت بیگم اور لتا منگیشکر کو فلمی دنیا میں متعارف کروایا۔

ماسٹر غلام حیدر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے پہلی بار پنجاب کی لوک دھنوں کو فلمی گیتوں میں شامل کیا، جو آج بھی ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔

9 نومبر 1953ء کو ماسٹر غلام حیدر کا انتقال ہوا اور وہ لاہور میں دفن ہوئے۔ ان کی موسیقی آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے، اور ان کی تخلیقات ہمیشہ کے لیے موسیقی کی تاریخ کا حصہ رہیں گی۔

ٹیگز: