Wed, September 16, 2026

حرم امام علیؓ میں

حرم امام علیؓ میں

نجف شہر میں ہوٹل خورنق سے نکل کر ہم نے جہاں جہاں بھی قدم دھرنا تھے ہمارے لمحات امر ہونے والے تھے۔ ہمارے دوست، شاعر اور مصنف علی اکبر ناطق پہلے سے یہاں موجود تھے۔ ان سے بات ہوئی تو وہ بصرہ گئے ہوئے تھے۔ شام سے کچھ پہلے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ بارہ رجب کا دن اپنے آخری پہر کو گزار رہا تھا اور تیرہ رجب کی شام اپنے نیلگوں چاند کی انگلی پکڑ کر صحن کعبہ میں اترنے والی تھی کہ ہماری گاڑی ہوٹل کے قریب پہنچ گئی۔ دس سے پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد ہم شاہراہ زین العابدین پر اتر گئے اور حرم مولا علیؓ کی جانب چلنے لگے۔ پورا علاقہ روشنیوں سے نہایا ہوا تھا اور لنگر تقسیم کرنے والے جوان یہاں سے گزرنے والے زائرین کو پکڑ پکڑ کر کھانے پر مجبور کر رہے تھے۔ حرم کی حدود جیسے جیسے قریب آتی جاتی تھی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوتی جاتی تھی۔
حرم امام علی علیہ السلام کی طرف جاتی گلیاں ان تمام مرکزی دروازوں سے الگ تھیں جہاں سے آسانی سے جایا جا سکتا تھا مگر ہم نے ان گلیوں کا انتخاب اس لیے کیا کہ ہمیں ڈرائیور نے شاہرائے زین العابدین کے چوک پر اتارا تھا۔ ابھی تیرہ رجب کی شام اترنے میں کچھ ہی دیر باقی تھی مگر ان سڑکوں پر رش معمول سے بہت زیادہ ہو گیا تھا اور گلیوں میں حرم کی طرف جانے والے زائرین مغرب کی اذان سے قبل حرم کے اطراف میں قائم مساجد تک پہنچنا چاہتے تھے۔
ہم اس چھوٹے دروازے سے حرم کے اندر 
داخل ہوئے جہاں داخلی راستے کے دائیں جانب وضو خانہ تھا اور بائیں طرف گم شدہ چیزوں اور بچوں کے حوالے سے راہنمائی فراہم کرنے والا دفتر تھا۔ حرم علی علیہ السلام کتنے زمانوں سے کئی مراحل سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا۔ چالیس ہجری میں حضرت علیؓ کی تدفین ہوئی تو وصیت کے مطابق امام حسن و امام حسین رضوان اللہ اجمعین نے امیرالمومنینؓ کی قبر کو لوگوں پر آشکار نہ کیا۔ پہلی بار 135ھ میں منصور عباسی کے دور حکومت میں امام جعفر صادقؒ نے مولا علیؓ کی قبر کو لوگوں پر آشکار کیا۔ سن 165ھ میں ہارون عباسی کے دور اقتدار میں سفید پتھر سے ضریح بنائی گئی اور پہلی بار مزار پر گنبد تعمیر کیا گیا۔ 236ھجری میں حکمران متوکل عباسی نے مولا علی علیہ السلام کے مرقد کو مسمار کر دیا۔ پھر 283ھجری میں موصل کے حاکم ابو الھیجا نے مزار اور گنبد کو عالیشان انداز میں تعمیر کرایا اور ساتھ ساتھ صحن حرم کا فرش بھی پختہ کرا دیا۔
285ھ میں طبرستان کے بادشاہ محمد بن زید نے مرقد کو مزید شاندار تعمیر کا نمونہ بنواتے ہوئے صحن میں ستر حجرے بنوائے۔ سال 363ھجری میں آل بویہ کے حاکم عضدالدولہ نے حرم کی عمارت کو مزید وسعت دے دی۔ پھر 434ھجری میں شیخ طوسی نے بغداد سے نجف ہجرت کی اور حوز علمیہ کی بنیاد رکھی۔ سن 676ھ میں صاحب دیوان ایلخانان عطا ملک جوینی نے سرنگیں کھدوا کر نجف تک پانی پہنچایا۔ حرم میں آگ لگنے کا واقعہ سات سو پچپن ھجری میں پیش آیا جب حرم مبارک میں لگی نفیس اور قیمتی لکڑی جل کر راکھ ہو گئی جس کے بعد سن 760ھجری میں سلطان اویس جلابری نے حرم کی تعمیرات دوبارہ کرائی۔ سال 1033ھ میں شاہ عباس صفی نے گنبد بنوائے اور 1067ھجری میں شاہ صفی نے اپنے وزیر میرزا تقی مازندرانی کو حکم دیا کہ حرم کی مزید توسیع کی جائے۔ سال 1151ھ میں نادر شاہ افشار نے کاشی گری اور گنبدوں پر سونے کا پانی چڑھایا۔ سن بارہ سو گیارہ میں آقا محمد خان قاچار نے مرقد مطہر پر چاندی کی ضریح چڑھائی۔ فتح علی شاہ نے بھی 1236ھجری میں تعمیرات کو جدت سے ہم آہنگ کیا۔ 1424ھجری میں صدام نے جو حرم مقدس کی بربادی کی تھی اس کے بعد سے اب تک بہت شاندار تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔
ہم جنوری دو ہزار چھبیس میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ کس قدر عالی شاہ حرم و مقبرہ بن چکا تھا۔ الگ الگ وضو خانے، راہنمائی کرتا سٹاف، مساجد کی شاندار صف بندی، ہر طرف دل کش کشیدہ کاری و کاشی گری اور حرم مقدس کی وسعت بے پناہ رش کو بھی شکست دے رہی تھی۔ صاحب مرقد کے علم و حلم کی طرح ماحول میں بھی تنگ دامنی نہیں تھی۔ جشن تیرہ رجب شروع ہو چکا تھا۔ سرکار دو عالم محمد مصطفیؐ اور ان کی آل کی شان اقدس میں قصیدے عربی و فارسی اور مختلف مقامی زبانوں میں پڑھے جا رہے تھے۔ ہم نے اب اس گنبد کے سائے تلے پہنچ کر سلام پیش کرنا تھا جہاں زمین پر خدا تعالیٰ کے پہلے خلیفہ اور پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام بھی دفن ہیں اور مولا علی علیہ السلام بھی۔ ہماری خوش بختی تھی کہ ہم سر زمین عشق پر تھے اور جشن ولادت علیؓ کی شب دنیا کی بہترین شاعری سن رہے تھے۔

ٹیگز: