ہڑتال اور اتوار میں کوئی تال میل اگر ہے تو قارئین ہمیں بتا کر شکریہ کا موقع دیں ۔ بسنت اور اتوار میں تو اس لئے تال میل ہے کہ بسنت ہمیشہ سے اتوار کو ہی منائی جاتی رہی ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اتوار کو بسنت ہوتی تھی تو ہفتہ کی رات بسنت نائٹ بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی اور لوگ صبح تک پتنگ بازی سے لطف اندوز ہوتے اور صبح فجر کی اذان کے بعد سوتے اور دوپہر سے پہلے ہی آسمان ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا اور فضا بو کاٹا کی آوازوں سے گونج اٹھتی۔ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے بسنت کے ساتھ ہڑتال کو کیوں موضوع بنایا تو عرض ہے کہ بسنت کا ہڑتال سے بڑا گہرا تعلق ہے ۔ ہڑتال کامیاب تھی یا ناکام اس پر تو بعد میں بات کریں گے لیکن بسنت کے حوالے سے عرض کیا تھا کہ تحریک انصاف نے اتوار چھٹی والے دن ہڑتال کی کال دی ہے تو اگر اس کے باوجود بھی ٹریفک چلتی رہی اور کچھ مارکیٹیں بھی کھل گئیں تو ہڑتال کی کال ناکام ہو جائے گی لیکن بسنت ایک بڑے ٹرمپ کارڈ کے طور پر ان کے ہاتھ آیا ہے اور اگر وہ طریقے سلیقے سے کھیلیں تو ہڑتال کامیاب ہو یا نہ ہو لیکن یہ بسنت کارڈ کو بہتر انداز میں کھیل کر ہڑتال سے بھی زیادہ عوامی حمایت کا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اوریہ کوشش کی بھی گئی لیکن افسوس کامیابی نہیں ملی بلکہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ تحریک انصاف نے کہا تھا کہ پتنگوں پر ’’804‘‘ لکھیں اور حکومت نے اس پر پابندی بھی نہیں لگائی تھی لیکن بحث سے بچنے کے لئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ’’804‘‘لکھنے پر بھی پولیس پکڑ دھکڑ کرتی لیکن تحریک انصاف کے دوستوں کے پاس اس حوالے سے ایک سے زائد آپشن موجود تھے کہ وہ بڑے دھڑلے سے ’’804‘‘ لکھ کر پتنگ اڑاتے اور یقین جانیں کہ کچھ بھی نہ ہوتا ۔ اس لئے کہ اول تو اتوار والے دن لاہور میں لاکھوں پتنگیں آسمان پر اڑ رہی تھیں تو ان میں سے زمین پر پولیس والے کیسے سمجھ سکتے تھے کہ کون سی پتنگ کون سے چھت سے اڑ رہی ہے لیکن فرض کر لیں حکومت ڈرون کی نگرانی سے یہ بھی پتا کر لیتی کہ کون سی پتنگ کون سے چھت سے اڑ رہی ہے تو اندازہ کریں کہ لاکھوں گھروں سے پتنگیں اڑ رہی تھی تو کیا پولیس کے پاس اتنی نفری اور اتنی جرأت تھی کہ وہ لاکھوں نہ سہی لیکن ہزاروں گھروں میں دن دہاڑے سیڑھیاں لگا کر یا دروازے توڑ کر داخل ہوتی ۔ لیکن یہ بھی فرض کر لیں کہ وہ گھروں میں داخل بھی ہو جاتی تو جو بھی ایسی پتنگیں اڑا رہا ہوتا تو وہ اسی وقت ڈور کو کاٹ کر چھوڑ دیتا تو پولیس کیسے ثابت کرتی کہ اس گھر سے ایسی پتنگ اڑ رہی تھی ۔ اب اگر ایسا ہوتا تو ہزاروں نہیں لاکھوں ایسی پتنگیں لاہور کی سڑکوں پر بکھری پڑی ہوتیں تو یقین کریں کہ پاکستان کا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے میڈیا نے ہڑتال سمیت ہر بات کو بھول کر ایسی پتنگوں کو دکھانا شروع کر دینا تھا اور حکومت کو لینے کے دینے پڑ جانا تھے لیکن بلکہ ایک بڑے لیکن کے بعد عرض ہے کہ ایسا تو اس وقت ممکن تھا کہ جب عوامی مقبولیت کے دعوئوں میں کوئی حقیقت ہوتی ۔
اب بات کرتے ہیں کہ ہڑتال کامیاب ہوئی کہ نہیں تو لاہور میں تو بسنت کی وجہ سے ویسے ہی میلے کا سماں تھا اور کہاں کی ہڑتال اور کہاں کی کال لیکن دوپہر کے بعد ہم نے مختلف جگہوں پر اپنے دوستوں کو کالز کرنا شروع کیں اور اس میں یہ خاص خیال رکھا کہ جنھیں کال کر رہے ہیں وہ غیر جانبدار ہوں تو سب سے پہلے ہم نے کراچی میں اپنے بچپن کے دوستوں کو کال کیں تو انھوں نے بڑا واضح کہا کہ رمضان میں چند دن رہ گئے ہیں تو یہاں پر تو عید کی خریداری کے لئے بازاروں میں رش ہے اور کسی طرح کی ہڑتال کا یہاں کوئی ذکر ہی نہیں ہے ۔ اس کے بعد پنڈی میں کال کی تو وہاں سے بھی اسی طرح کا جواب ملا یعنی کوئی ہڑتال نہیں ہے اور تمام مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کر دیں کہ لاہور کے علاوہ پنجاب کے اکثر شہروں میں سرکاری دفاتر تو اتوار کو ہی بند ہوتے ہیں لیکن مارکیٹوں میں چھٹی جمعہ کو ہوتی ہے تو اس طرح راولپنڈی سے بھی ہڑتال کی ناکامی نہیں بلکہ مکمل ناکامی کی خبریں ملیں ۔ کم و بیش یہی حال پنجاب کے دیگر شہروں کا تھااور اندرون سندھ تو تحریک انصاف کا کوئی ذکر ہی نہیں تو وہاں ہڑتال کا وہی انجام ہوا کہ جو کراچی میں تھا ۔
یہ تو سندھ اور پنجاب کی صورت حال ہے لیکن خیبر پختون خوا کہ جسے تحریک انصاف کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یقین کریں کہ ہم شاید یقین نہ کرتے لیکن جب دوستوں نے وڈیو شیئر کیں تو پھر یقین کرنا ہی پڑا کہ پشاور تک میں صبح دکان داروں نے دکانیں کھولیں لیکن پھر حکومتی سر پرستی میں ڈنڈا بردار فورس نے ہر جگہ پہنچ کر مارکیٹوں کو زبردستی بند کروایا اور جب ایک سے زائد ایسی وڈیو دیکھیں تو پھر راولپنڈی کے کچھ دوستوں کو کہ جن کی راولپنڈی میں تو اپنی دکانیں ہیں لیکن پشاور میں بھی ان کے روزانہ کی بنیاد پر کاروباری روابط ہیں ان سے بات کی تو انھوں نے بھی تصدیق کر دی ۔اپریل2022کے بعد احتجاج کی ہر کال کی ناکامی اور علیمہ خان کے اس اعتراف کے بعد کہ عوام بانی کے لئے باہر کیوں نہیں نکلتے کے بعد اس ہڑتال کی کال کی مکمل ناکامی نے عمران خان کی نام نہاد مقبولیت کے بیانیہ کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی ہے ۔