دنیا دم سادھے بیٹھی تھی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔ عالمی منڈیاں یقینی اور غیر یقینی پنڈولم میں جھول رہی تھیں ۔ جوہری تصادم محض چندگھنٹوںکی دوری پر تھا ۔ خوف اور ناامیدی کی فضاءمیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کارِ خیر کے لیے پاکستان کو منتحب کر چکا تھا ۔فخر وتکبرفرعونیت ، انا زمین بوس ہونے کو تھی ۔ تب اچانک آسمانوں سے فیصلہ صادر ہوا۔ اور چند لمحوں میں ہی پاکستان دنیا بھر کی تشکر بھری نگاہوں کا مرکز بن چکا تھا۔اپنے تو اپنے جس نے دشمنوں کو بھی چونکاں دیا ۔شدید معاشی ، سیاسی اور جغرافیہ دباﺅ کے درمیان سفارتی بنیان مرصوص نے صہیونی توسیع پسندانہ عزائم کو روک لگا دیا ۔ اس تمام کاوش کو ”سفارتی بنیان مرصوص“ کا نام دینا بے جا نہ ہو گا۔پیغام الہی ہے ” جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی ، اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی “۔ سفارتی بنیان المرصوص میں ایک انسان کی نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائی گئیں ۔ دنیا کو ایک یقینی تباہی سے بچانے کے لیے سول ملٹری الائنس کا ایسا دلیرانہ و دانشمندانہ کردارانسانی تاریخ میں شادونادر ہی ملتا ہو۔عالمی رہنما، برادری اور میڈیا پاکستان کے مثبت کردار کو بڑے پیمانے پر سراہا رہے ہیں ۔ پڑوسیوں کی بدنیتی سے ایف اے ٹی ایف سے شروع ہونے والا سفر صبر ، استقامت اور لازوال قربانیوں کے بعد بالآخر ” پیس میکر پاکستان“ پر آکر رکا۔جب بھی پاکستان کو مٹانے کے لیئے ابلیسی قوتیں حرکت میں آئیں۔ رب السماوات والارض کا فیصلہ بھی فوراََ آیا ۔ 28 مئی1998کو ایٹمی دھماکے، ثلاثہ کے خلاف مئی 2025کی فتح مبین اور اب پاکستان کو گھیر کرتباہ کرنے کی سازش بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔ کوئی تو ہے جو نہ صرف پاکستان کو بیچ منجدھار سے بچ بچاکر نکال رہا ہے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور عزت و شرف بھی بخش رہا ہے ۔ جس میں عقل رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔
پاکستان کو ملنے والی عزت و تکریم سے بدنیت پڑوسی اپنے ہی حسد میں جل بھون رہا ہے۔ وہاں پر ایک سوگ سی کیفیت طاری ہے۔”بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلت دے“ ۔بدفطرت پڑوسی کا فرسٹریشن شدید خوف میں convert ہوتا جارہا ہے۔ اس خوف کا پہلا نتیجہ منظر عام پر آچکا ہے ۔ عالمی امن کے لیے کیے گے معاہدہ کے چوبیس گھنٹوں بعد بھارت کی ریاست بہار میں بی جے پی کے ایک دہشت گرد نے دن یہاڑے سڑک پر مسلمان کا سر کاٹ کر دھڑ سے الگ کر دیا ۔سرحد پار سے ملنے والے باوثوق ذرائع کے مطابق مودی حکومتی و انتہا پسند مذہبی حلقوں میں ایک ہی موضوع زیر بحث ہے ۔ کہ پاکستان کو ملنے والے شرف سے اگر بھارتی مسلمانوں کی حمیت بیدار ہو گئی ۔ تو بھارت میں ایک اور پاکستان بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔
دنیا بھر میں امن سے محبت کرنے والوں کی دیرینہ خواہش تو یہی ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل جنگ کے خاتمے کا سبب بن جائے ۔ لیکن اس سارے منظر نامے کا دوسرا رخ بھی ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں جنگوں کو ترتیب دینے و دجالی بیانیہ کو جاری رکھنے والوں کو عالمی امن کے لیے کیا گیا ثالثی کا کردار اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہو گا ۔ عیاروبزدل دشمن اپنی بدفطرتی کی بناءپر موقع ملنے پر وار کرنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔
بہرحال یہ خدشات موجود ہیں۔اعلان بالفور، خلافت عثمانیہ کے خاتمے، پاکستان کو دولخت کرنے، مشرق وسطیٰ میں ”تہذیبوں کے تصادم“ کی آڑ میں شروع ہونے والی خون ریزتبدیلیوںکی نوعیت روایتی جنگوں سے ہمیشہ مختلف رہی ہیں۔یہ ایک ایسے بیانیہ کی جنگوں کا سلسلہ ہے ۔ جس میں ایک دھتکاری ہوئی قوم اپنے خاتمے سے بچاﺅ کے لیے پوری دنیا کے امن کو نیست ونابود کرنے سے دریغ نہیں کررہی ۔ جب تک قرآن وسنت کی رہنمائی اور گذشتہ صدی کے دوان ہونے والے جغرافیائی ، سیاسی ، معاشی تبدیلیوں کا تزویراتی مشاہدہ نہیں کیا جائے گا ۔اس وقت تک موجودہ سنگین منظرنامے کو سمجھنا محال ہے ۔ ایک طرف امن کی پیش رفت کی امید ، دوسری طرف کشیدگی کا خوف تو تیسری طرف پراکسی قوتوں کی فعال موجودگی سمیت بیانیہ کے خاتمہ کے خوف نے اس ساری صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے گذشتہ تین سال کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد حوصلہ افزا آثار نظر نہیں آرہے۔حزب اللہ کے چیف نعیم قاسم کے بھتیجے وپرسنل سیکرٹری علی یوسف حارشی کی شہادت کے دعویٰ سمیت بیروت میں تازہ ترین حملوں میں سینکڑوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں، ٹرمپ و نیتن یاہیوکی جانب سے حزب اللہ پر حملے جاری رکھنے پر اصرار ،فریقین کی جانب سے لبنان کو معاہدہ میں شامل کرنے، نہ کرنے پر زور راقم کے موقف کی تائید ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والا تصادم چھٹی بڑی جنگ تھی۔ جس کی پہلی عارضی جنگ بندی نومبر2023 میں ہوئی ۔ پھر ایک ہفتہ بعددوبارہ خوفناک جنگ کا آغازہوا۔ دوسری دفعہ جنگ بندی کا معاہدہ جنوری 2025 میں ہوا ۔ اس کے باوجو د غزہ پر بمباری اور قتل وغارت کا سلسلہ نہ صرف جاری وساری ہے، بلکہ غزہ و مغربی کنارے کے بہت سے حصوں پر قابض ہو کر وہاں پر یہودیوں بستیاں بسانے کی حتمی منظوری دے گی گئی ہے۔ جو درحقیقت خطے میں اشتعال انگیزی کو مزید موقع فراہم کرے گا۔ جون 2025 میں ایران اسرائیل کے درمیان تصادم اور 12 روز بعد جنگ بندی۔ 28 فروری 2026 کو اسی جنگ کا دوبارہ ہولناک آغازاور 7 اپریل کو دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ۔اس دوران مئی 2025 کو بھارت کا پاکستان پر حملہ۔ بالآخر بھارت کی دہائی پر جنگ بندی ہوئی ۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں میں اب بھی شدید تناﺅ جاری ہے۔ ایران اسرائیل جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں سمیت سعودی عرب و پاکستان کو ملوث کرنے کی ہولناک سازش خوف زدہ بیانیہ کا ہی تسلسل ہے ۔مشرق وسطیٰ میںگذشتہ کئی دہائیوں سے جاری جنگوں کی بار بار عارضی جنگ بندیوں کا توڑنا اور نئے سرے سے جنگوں کی پیش بندیاں کرنا ان خدشات کو جنم دے رہے ہیں ۔کہ ثالثی کی مستقل جنگ بندی کی بیل منڈھے چڑھتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی۔ راقم کی رائے میں ہمارے اسٹیک ہولڈرز اور تھنک ٹینک دجالی خوف زدہ بیانیہ ،زمینی حقائق اور موجودہ و مستقبل میں کسی بھی غیر متوقع جنگی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ٹھوس بنیادوں پر فکری، نظریاتی ، معاشی اور عسکری منصوبہ بندیاں اور پالیسیاں مرتب کر یں۔