اسلام آباد:وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے پچھلے چند برسوں میں ایک ایسا تجربہ جھیلا جو ملکی تاریخ ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا بھیانک ترین تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو ملک کی باگ ڈور دے دی گئی جس نے کبھی یونین کونسل تک نہیں چلائی، اور اس فیصلے نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک جیسے بڑے منصوبے میں دنیا بھر کے سرمایہ کار دلچسپی لے رہے تھے، مگر ہم نے خود اپنی ترقی کے راستے بند کر دیے۔ چین جیسے مخلص دوست کو بھی بدعنوانی کے الزامات لگا کر بدظن کیا گیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ چینی سرمایہ کار ویتنام جیسے دوسرے ممالک کا رُخ کرنے لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپریل 2022 میں حالات اتنے خراب تھے کہ لوگ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کر رہے تھے، لیکن بروقت فیصلوں کی وجہ سے ہم بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
احسن اقبال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کو سنجیدہ میدان کے بجائے سوشل میڈیا کا کھیل بنا دیا گیا ہے، جہاں بیانیے حقیقت پر غالب آ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ ہم اپنی اصل صلاحیتوں پر توجہ دیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے "اُڑان پاکستان" کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں مہارت دینا ہے۔ احسن اقبال کے مطابق پاکستان نے 2016 میں ہی مصنوعی ذہانت کے قومی مرکز (National Center for Artificial Intelligence) کی بنیاد رکھ دی تھی۔