اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں رہا کہ بھارت پاکستان سے جنگ ہارنے کے بعد پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے ہر حد کو کراس کرے گا، اس کے لیے وہ آبی جارحیت بھی کر چکا، پاکستان مخالف تنظیمیں جو بھارتی فنڈڈ ہیں، انہیں مزید متحرک کر چکا۔ اور رہی سہی کسر پاکستان میں چند ایک بکاؤ شخصیات کے ذریعے پاکستان کو توڑنے کی کوشش کرنے لگا ہے، اس کے لیے وہ ہر قسم کی لامحدود فنڈنگ کے لیے بھی تیار ہے۔ اس کی حالیہ دنوں میں ایک مثال دیکھ لیں کہ ’’پشتون مزاحمت اور ریاست‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب منظر عام پرلائی گئی ہے، جس کے سرورق پر غلط پاکستانی نقشہ چھاپا گیا ہے اس کے اوپر پشتون پگڑی رکھی گئی ہے، پورے نقشے پر ڈالر بکھرے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا پر خون کے دھبے ہیں۔ جبکہ حد تو یہ ہے کہ نقشے سے کشمیر ہی غائب ہے، بالکل اسی طرح جس طرح بھارت پاکستان کے نقشے سے کشمیر کو غائب دکھاتا ہے۔ اگر آپ انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہیں تو آپ جب بھی پاکستانی نقشے کو سرچ کرتے ہیں تو بھارتی ویب سائٹ سے حاصل ہونے والا نقشہ بغیر کشمیر کے دکھایا جاتا ہے، اور وہی نقشہ اس کتاب کے سرورق پر شائع کیا گیا ہے۔ میرے لیے حیرت کی بات یہ بھی ہے، کہ یہ کتاب لکھنے والے بھارتی نہیں بلکہ پاکستانی مصنف ایمل خٹک ہیں، جنہیں پاکستان کے قانون کے کا بھی اچھی طرح علم ہے اور نقشے وغیرہ کا بھی بخوبی علم ہے، اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق غیر سرکاری اور مسخ شدہ قومی نقشہ شائع کرنا جرم ہے، اور اس جرم کے سرزد ہونے پر 5 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن پھر بھی موصوف نے ضمیر کو بیچا اور اسی بھارت کے سامنے بیچا جو وطن عزیز کا اصل دشمن ہے۔ اب اسے آپ غداری کہیں یا کچھ اور یہ میرا کام نہیں بلکہ اسے دیکھنا اداروں کا کام ہے۔۔۔ لیکن تف ہے ایسے پبلشرز پر بھی جو پاکستان میں ایسے نقشوں اور ایسی ملک دشمن تحریروں کا شائع کرتے ہیں۔
بہرحال میں سمجھتی ہوں کہ ریاست اس وقت ملک کے اصل دشمنوں کو تلاش کرے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بکاؤ مال ہیں، اور پاکستان کو خدانخواستہ توڑنے کی سازشوں میں پیش پیش ہیں۔ ان میں اگر آپ نمایاں فتنوں کی بات کریں تو بلوچستان میں ماہ رنگ بلوچ جس کا ذکر بعد میں کروں گی، پہلے کے پی کے جنوبی وزیر ستان میں مفتی کفایت اللہ کے حالیہ بیانات کو دیکھ لیں، آپ کو خود سمجھ آ جائے گی کہ وہ کن کی زبان استعمال کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اللہ آپ کو دشمن بھی دے تو وہ بھی نسلی دے۔ خیر بات ہو رہی تھی مفتی کفایت اللہ کی تو موصوف کے حالیہ بیانات محض ایک سیاسی نعرہ بازی نہیں بلکہ پاکستان کے آئین، اسکی شہادتوں اور
بالخصوص پشتونوں کی وحدت کیخلاف کھلی سازش ہیں جس کا سیدھا سادہ مقصد پاکستان کی قومی سلامتی اور وحدت کو نقصان پہنچانا ہے۔ تفصیل اس سارے معاملے کی کچھ یوں ہے کہ مفتی کفایت اللہ نے نام نہاد شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور ان دہشت گردوں کو ’شہید‘ قر ار دیا جو پاک فوج اور پاکستانی عوام کیخلاف ہتھیار اٹھا کر معصوم جانوں کے قاتل بنے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہے کہ وہ کون سی شریعت چاہتے ہیں؟ پاکستان کا آئین پہلے ہی اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتا ہے اور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔ اس ضمن میں وفاقی شرعی عدالت، اسلامی نظریاتی کونسل اور پیغامِ پاکستان کا متفقہ فتویٰ اس بات کو دو ٹوک انداز میں واضح کر چکے ہیں۔ اسکے باوجود اگر کوئی دہشت گردوں کی مسلط کردہ شریعت کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب صرف اور صرف فتنہ و فساد ہے۔
یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ طالبان اور فتنہ الخوارج نے جس نام نہاد شریعت کے ذریعے پشتون بیٹیوں کے سکول جلائے، مساجد اور بازار اڑائے، جرگوں میں بزرگوں کو شہید کیا اور آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کو خون میں نہلایا، وہ کسی طور شریعت نہیں بلکہ ’فساد فی الارض‘ ہے۔ پیغامِ پاکستان، جس پر تمام مکاتب فکر کے 1800 سے زائد علما نے دستخط کیے، اسی سوچ کو خوارج قرار دیتا ہے اور اسے حرام قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس شہادت کا درجہ ان لوگوں کو حاصل ہے جو اسلام، پاکستان اور بے گناہ جانوں کے دفاع میں قربانی دیتے ہیں۔ دہشت گردوں کو شہید کہنا ان 94 ہزار پاکستانی شہدا کی توہین ہے جنہوں نے ملک کی سلامتی کیلئے جان دی۔ یہ ان اے پی ایس ماؤں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جنہوں نے اپنے جگر گوشے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتے دیکھے۔ اس خطر ناک سوچ کو ہوا دینے میں پشتون نیشنل جرگہ (PNJ) اور پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کا کردار بھی کھل کر سامنے آتا ہے۔
اگر مذکورہ بالا تنظیموں کے نام آئیں اور ماہ رنگ کا نام نہ آئے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ ماہ رنگ ہی بلوچستان میں وہ کردار ہے جو بی وائے سی، بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی کالعدم تنظیموں کو سپورٹ کرتی ہے۔ یہ وہ خاتون نما دہشت گرد ہے جو جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ کے بعد BLA کے ایک دہشت گرد کی لاش چھین لیتی ہے، جو جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ اور اس میں مارے جانے والے بے گناہ افراد کی مذمت بھی نہیں کرتی۔ یہ اصل سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں موند لیتی ہے۔ یہ ان افراد کو ’’لاپتا‘‘ افراد گردانتی اور ان پر احتجاج کرتی ہے جن کی شناخت خود کش بمبار کے طور پر ہو چکی ہو۔۔۔ اس کی مثال مچھ حملے کے خود کش حملہ آور کی ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ ماہ رنگ نے مچھ اور گوادر پورٹ حملوں میں مارے گئے BLA دہشت گردوں کی لاشیں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ اس کا اپنا کزن اور باڈی گارڈ، سہیب لانگو، جولائی 2025 میں تربت میں ایک BLA سرمچار کے طور پر مارا گیا۔
قصہ مختصر کہ یہ چند گنی چنی شخصیات جنہیں پاکستان مخالف لابیاں سپورٹ کر رہی ہیں، اور یہ عام لوگوں کو جھانسے میں لا کر ریاست مخالف کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دراصل یہ اینٹی پاکستان، اینٹی ڈویلپمنٹ ایجنڈا رکھتے ہیں، یہ سی پیک اور گوادر پورٹ آپریشنز کو سبوتاژ کرنے کے لیے میدان میں ہیں۔ یہ لوگ خصوصاً ماہ رنگ جیسی شخصیات بیرونِ ملک جاتی ہے، جیسے یورپ وغیرہ جہاں اپنے ہینڈلرز سے ملاقات کرتی ہے اور فنڈز لیتی ہے تاکہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلائے اور ترقی روکے۔ دراصل ان پاکستان مخالف تنظیموں کی ڈوریاں ایک ہی طرف سے ہلائی جا رہی ہیں اور وہ جگہ ہے بھارت۔
لہٰذا اگر آپ پاکستان میں حقیقی امن چاہتے ہیں، تو ان چہروں کو بے نقاب کرنا ہو گا، ان کے خلاف اقدامات کرنا ہوں گے، انہیں گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دینا ہوگی۔ اگر حکومت جانتی ہے کہ ان کے تانے بانے ہمسایہ ممالک سے ملتے ہیں تو وہ انہیں سامنے لائے، ورنہ یہ لوگ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جائیں گے۔ اور یہ ایک مضبوط نیٹ ورک بنا لیں گے، جیسے اندر کھاتے یہ تنظیمیں اور شخصیات ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پی این جے نے مفتی کفایت اللہ جیسے شخص کو سٹیج دیا اور بعد میں انکے بیانات کو ذاتی رائے قرار دے کر بری الذمہ بننے کی ناکام کوشش کی، اگر یہ صرف ذاتی رائے تھی تو اسے پلیٹ فارم کیوں دیا گیا؟ یہی منافقت دراصل پی این جے کا اصل چہرہ ہے جو ایک طرف انتہا پسندوں کو آواز دیتا ہے اور دوسری طرف بے گناہی کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ برکت آفریدی کا یہ دوغلا پن اسی ڈبل گیم کی علامت ہے جس میں انتہا پسندانہ بیانیے کو جگہ دے کر پھر اظہارِ رائے کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ یہی انداز پی ٹی ایم بھی اپناتی ہے۔ عمر پشتین نے مفتی کفایت اللہ کے دفاع میں اسے پشتونوں کے حقوق کا علَم بردار قرار دیا اور ’شریعت‘ کے مطالبے کو عوامی خواہش بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ یہ دراصل دہشت گردوں کے بیانیے کو سیاسی رنگ دینے کی مکروہ کوشش ہے۔ مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ایف اے کے اور ٹی ٹی پی کوئی آزادی کے متوالے نہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو غیر ملکی ایجنسیوں کے آلہ کار ہیں۔ وہ پشتون شناخت کا سہارا لے کر پشتونوں ہی کو قتل کرتے ہیں، ان کے دیہات اجاڑتے ہیں اور ترقی کی راہیں مسدود کرتے ہیں۔۔۔ اور نام ہمارے اداروں کا لگاتے ہیں تاکہ یہاں بد امنی پیدا ہو!۔