پاکستان پر یلغار، بی ایل اے کی شیطانی چال، دھرنے والوں کا برا حال، مظلوموں کے حقوق کے نعرے، غیر ملکی مداخلت، گھنائونی سازش یا خدانخواستہ علیحدگی کی تحریک، بلوچستان کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر بلکہ سنگین ترین ہوتی جا رہی ہے ’’قصہ ہے یہ 30 برس کا دوچار دنوں کی بات نہیں‘‘ شور شرابا پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے اور بقول خان اسے تین ٹکروں میں بانٹنے کے عالمی منصوبہ کا شاخسانہ، مسنگ پرسنز کے بینر اٹھا کر منظر عام پر آنے والی ماہ رنگ بلوچ نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا، تین لاشیں رکھ کر دھرنے پر بیٹھ گئی تھی۔ صوبائی حکومت نے 3 ایم پی او کے تحت ایک ماہ کے لیے نظر بند کردیا، بظاہر معمولی الزامات دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور اسپتال سے لاشوں کی چوری، دونوں قابل ضمانت لیکن خاتون پر بی ایل اے کی رکن اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مدد سے ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام، ذرائع لمبی قید کی خبر دے رہے ہیں، خاتون کے والد غفار لانگو بھی بی ایل اے کے سکہ بند دہشتگرد تھے، بد قسمتی ریاست کے وظائف اور فیس معافی کی مراعات کی بنیاد پر ڈاکٹر بننے والی غیور قوم کی بیٹی بھی والد کے رستے پر چل پڑی، بی بی سی پر والدہ کے کپڑے اور زیورات بیچ کر فیسیں بھرنے کا ڈرامہ فلاپ، مبینہ طور پر 20 کروڑ کے بنگلے کی مالک، کروڑوں کا بینک بیلنس اور بھارتی پاسپورٹ پر دنیا بھر کی سیر، مادہ مگر مچھ کے آنسو بہانے کا فائدہ، الزامات کی فہرست طویل، صوبہ میں ہنگامہ آرائی، دھرنے اسلام آباد تک لانگ مارچ، اشتعال انگیز تقریریں، جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی حمایت، خود کش بمبار خواتین کے ذریعے صوبہ میں تباہی پھیلانے کے منصوبے اور لاشوں کی چوری، گمراہی کے رنگ دہشتگردی کے سنگ، بھارتی یو ٹیوبرز نے خاتون کو بلوچستان کی ’’وزیر اعظم‘‘ قرار دے دیا، ’’اے بسا آرزو کے خاک شدہ‘‘ بھارت کے یوم جمہوریہ پر اسے چیف گیسٹ کے طور پر مدعو کرنے کا اعلان نوبل پرائز کے لیے نامزدگی کی اوٹ پٹانگ خبریں رقبہ کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ کو دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے والوں کا برا انجام، ایک ہی دن میں 9 دھماکے، قلات اور اوڑہ میں شناختی کارڈ دیکھ کر صادق آباد کے 9 مزدوروں کا قتل، ماہ رنگ کی گرفتاری کے بعد اختر مینگل نے جھنڈا اٹھا لیا، شٹر ڈائون کی کال دی، جسے محب وطن عوام نے مسترد کردیا، بلوچ علاقوں میں چند دکانیں بند رہیں، پشتون اور ہزارہ برادریوں کے علاقے کھلے رہے، ہڑتال ناکام ہونے پر دہشتگرد کارروائیاں، قلات، تربت، گوادار اور دیگر شہروں میں فائرنگ، یوریا کھاد لے کر آنے والی گاڑیوں اور ٹرکوں کو آگ لگا دی گئی۔ کروڑوں کا نقصان چیک پوسٹوں پر حملے، پاک فوج کے جوانوں نے تربت شہر پر قبضہ کی کوشش ناکام بنا دی، مختلف علاقوں میں 24 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا اور دہشتگردوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا،سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل نے لانگ مارچ شروع کیا مگر سوا کروڑ کے صوبہ میںتین چار سو بلوچوں کے سوا عوام کو گھروں سے نہ نکال سکے۔
اڈیالہ جیل میں اپنے خان کا کیا حال ہے؟ قید کے 6 سو دن پورے ہوگئے عید پر رہائی کی خبریں اڑائی گئیں، عید گزر گئی، خان نے عید کے جوڑے جیل میں منگوا لیے تھے۔ کوئی خوشخبری کوئی پیغام، ہر طرف مکمل خاموشی جنید اکبر نے عید کی چھٹیوں میں جیل کے سامنے چار پانچ ہزار افراد کے دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ پانچ افراد بھی دستیاب نہ ہوئے عید سے پہلے ہی تجویز واپس لے لے گئی۔ باہر بیٹھے شہباز گل نے نئی در فنطنی چھوڑی کہ عمران خان کو ’’جمہوری خدمات‘‘ پر نوبل پرائز کے لیے نامزد کردیا گیا ہے۔ پیارے خان جمہوریت کے قائل ہی نہیں ان کی پوری جدوجہد صدارتی نظام حکومت کے لیے تھی۔ جمہوریت کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار میں نہیں آئے تھے۔ تھرڈ ایمپائر کی انگلیوں پر ناچتے رہے گھنگھرو ٹوٹے تو جیل کے حوالے کر دیے گئے۔ اتنی سی کہانی ہے اتنا سا فسانہ ہے۔ سینئر تجزیہ کار اور ویلاگر منصور علی خان نے نوبل پرائز کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اصل کہانی بیان کردی کہ اکتوبر 2024ء میں شہباز گل ناروے گئے اپنی ویڈیو شیئر کی، ٹائی
درست کرتے گاڑی سے اترے ناروے کی انتہائی چھوٹی سی پارٹی جسے انتخابات میں زیرو پوائنٹ ٹو فیصد ووٹ ملے تھے۔ پارلیمنٹ میں کوئی سیٹ نہیںہے سینٹرم (سینٹرل) نامی پارٹی کے رہنما سے ملاقات کی نوبل پرائز میں خان کی نامزدگی کی تجویز دی اور چلے آئے بعد میں اسی چھوٹے سے لیڈر نے جس کا نوبل پرائز کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں اپنی 43 سیکنڈ کی ویڈیو میں خان کی نامزدگی کی سفارش کی۔ حالانکہ اس قسم کی سفارش کی آخری تاریخ 31 جنوری تھی شہباز گل کو مارچ کے آخر میں ہوش آیا، نوبل پرائز کے لیے 338 نامزدگیاں ہوچکی ا ن میں 244 افراد 94 تنظیمیں شامل ہیں، 10 اکتوبر کو جیتنے والوں کو اعلان ہوگا، 10 دسمبر کو انعام دیے جائیں گے۔ خان کا افسانے میں دور دور ذکر نہیں، سوشل میڈیا پر اچھل کود آدمی کا بڑا ذریعہ،سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی میں سب اچھا نہیں جس کا دائو لگتا ہے وہ پہلے سے موجود لیڈروں کو دھکے دے کر خود آگے آجاتا ہے۔ گویا پی ٹی آئی کے گھر کے بھیدی ہی لنکا ڈھا رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر شریف اور مہذب شخص منظر سے غائب۔ سلمان اکرم راجہ کا راج، جو نام دیں گے وہی جیل میں خان سے ملاقات کرسکے گا۔ فیصل چوہدری بریک پر پائوں رکھے بغیر بے نقط بولنے والے وکیل کو لیگل ٹیم سے نکال دیا گیا۔ شیر افضل مروت کے بعد فیصل چوہدری نشانہ، گنڈا پور بھی خاموش، گرینڈ الائنس میں رکاوٹ قرار، 5 دن اسلام آباد میں بیٹھے رہے ملاقات نہ ہوسکی۔ جیل ملاقاتوں پر پابندی، وقاص اکرم شیخ عید بعد گرینڈ الائنس (ڈیڑھ پارٹی اتحاد) کے لیے سرگرم، مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں فارم 45 اور 47 کا پھڈا ڈال دیا۔ شیر افضل مروت نے قومی اسمبلی کے 16 اور کے پی اسمبلی کے 36 ارکان کے فارورڈ بلاک کی خبر سنا دی۔ 16 ارکان کی حمایت سے حکومت کو دوتہائی اکثریت مل جائے گی۔ اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے اجلاس میں دہشت گردوں اور سہولتکاروں کے خاتمہ کے لیے فوج کو مزید اختیارات دینے اور ہارڈ اسٹیٹ کی کامیابی کے لیے قانون سازی پر اتفاق کیا گیا۔ 7 اور 8 اپریل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاسوں میں 27 ویں ترمیم پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ خان اس صورتحال سے ڈسٹرب ہیں رانا ثناء اللہ کے بقول خان کے 2030ء سے قبل باہر آنے کا امکان نہیں۔ ’’لگتا ہے سختیوں کے بعد نئی پی ٹی آئی جنم لے گی۔‘‘