Wed, September 16, 2026

معصوم ارتضیٰ عباس تم نے جاتے جاتے کس کس کو پکارا ہوگا؟

معصوم ارتضیٰ عباس تم نے جاتے جاتے کس کس کو پکارا ہوگا؟

مسلم خون کے پیاسے بھارتی گجرات کے حرامی پلے مودی نے چھ اور سات مئی 2025ءکی درمیانی شب کو پاکستانی غیور اور بہادر قوم اور اس کی عظیم افواج کو للکارا اور ہم پر رات کے اندھیرے میں بزدلانہ اور سفاکیت کا مظاہرہ کرتے بہاولپور، مریدکے اور دوسرے شہروں پر میزائل داغتے ہوئے جہاں بے گناہوں کو شہادت کا مقام دلوایا وہاں اس نے معصوم بچوں کو بھی اپنی بربریت کا نشانہ بنایا اور پوری دنیا میں ذلت اٹھائی۔ اس شب خون حملے میں چار معصوم شہیدوں کو جو میرے بھی جگر گوشوں سے کم نہیں تھے۔ وہ قوم کے پھول تھے جسے مودی نے کھلنے سے پہلے ہی سرسبز ٹہنی سے توڑ دیا.... اے سات سالہ ارتضیٰ عباس قوم تیرے لحد کے صدقے جائے تم نے تو ابھی پھول بننا تھا۔ اپنے باپ کی وردی پہن کر سرحدوں پر مودی جیسے سوروں کا مقابلہ کرنا تھا یہ چھ اور آٹھ مئی کی شب کا واقعہ ہے جب میری ان گنہگار آنکھوں نے ٹی وی کی سکرینوں پر سات سالہ ارتضیٰ عباس شہید کے معصوم بدن کو سرخ خون میں لت پت دیکھا تو مجھے 16دسمبر 2014ءکی وہ خونی صبح یاد آ گئی جب سفاک مودی کی ذہنیت کے دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول کے معصوموں پر جو صبح سویرے اپنی ماﺅں کے ہاتھوں کے پکے پراٹھے اور جلدی جلدی میں کئے ناشتے کے ساتھ جب سکول پہنچے تو انہیں کیا خبر تھی کہ ان کی دھاک میں بیٹھے سفاک دہشت گرد یہ ان کے لئے آخری صبح کا پیغام لے کر آتے ہیں اور آج وہی 6مئی کی رات، وہی ماحول تھا۔ معصوم ارتضیٰ عباس اور چار بچے جو اس اچانک ہم پر کی گئی وار میں جام شہادت نوش کر گئے۔ ار تضیٰ تم کتنے خوبصورت اور تمہاری آنکھیں کتنی خوبصورت تھیں، سفید بدن میں جب تمہیں سفید کفن پہنایا ہوگا تو اس وقت تو شاید فضاءبھی آنسو بہا رہی تھی۔ آج کے سیاہ دن کی طرح 16دسمبر کا دن 2014ءبھی پاکستان کی تاریخ کے سینے پر پیوست وہ زہریلا تیر تھا جس کا درد صدیاں گزر جانے کے بعد بھی تازہ ہی رہے گا اور ستم تو یہ ہے کہ ہمارے سینے میں اترے اس زہر آلود تیر کی موجودگی کا ادراک دشمن کو ہم سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔ اس سے پہلے 16دسمبر 1971ءہمارے ہی نااہل حکمرانوں کے دیئے سقوط ڈھاکہ کے زخم ابھی مٹے نہیں تھے کہ اسی سیاہ تاریخ یعنی 16دسمبر 2014ءکو پشاور میں آرمی پبلک سکول میں حصول علم کیلئے آنے والے ننھے منے معصوموں کو موت کے گھاٹ اتار کر ایسی خوفناک سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا کہ ایک بار تو انسانیت بھی خوف سے کانپ اٹھی تھی۔ سانحہ مشرقی پاکستان اپنوں اور غیروں کی سازش سے رونما ہوا اور پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کے تشخص سے محروم کر دیا گیا۔ اس عظیم سانحہ کے ٹھیک 48سال بعد ایک مرتبہ پھر پاکستان کو ایک ایسے ہی سانحے کا سامنا کرنا پڑا جب 16دسمبر 2014ءکو صبح سویرے آرمی پبلک سکول میں ظلمت کی تاریخ رقم کی گئی اور 7مئی 2025ءاور جنگی سانحہ ہماری تاریخ کے اس ورق کو اور سیاہ کر گیا۔ 
کسے خبر تھی کہ جمعہ اور سات مئی کی کالی رات شام سفر شہادت کی ہے.... کس قدر بے رحم یہ ظلمت کی رات ہوگی.... جب مودی کے دہشت گردوں نے کتنی بے رحمی اور کتنی بے دردی کے ساتھ ان معصوموں کے سینوں میں میزائلوں سے شہید کرکے لحد کے حوالے کر دیا .... صدیوں میں ظلمت کی ڈھلتی تاریخ کو جھنجھوڑتی رہے گی جو اس جنگی جنون کا کا سبب بنی.... آج میں کیسے ان چاروں کی ماﺅں کے آنسو پونچھو.... کہ ان ماﺅں کو تو اب ساری عمر آنسو بہانے ہیں.... آج قوم کا سلام ہے ان معصوم شہیدوں کو....جو آج ہم میں نہیں ہیں.... سلام ہے ان کی مقصد حیات کو....سلام ہے ان کے تقدس اور خوبصورت چہروں کو....سلام ہے ان ماﺅں کو جن کے وہ جگر گوشے تھے.... وہ تو حسینؓ تھے.... معصوم تھے.... وہ اپنے والدین کے سہارا اور اپنی بہنوں کے دُلارے تھے.... ایک وہ کربلا تھی اور.... چھ اور سات مئی کی شب ایک یہ کربلا بھی ہے.... ایک وہ میدان مقتل تھا اور ایک یہ بہاولپور کا میدان حشر.... جب ان پر ظلمت کی رات ڈھائی جا رہی تھی اور خون سے معصوموں کو نہلایا جا رہا تھا....جنگی جنونیت نے کیوں اس گھر پر اتنا ستم ڈھایا .... کیوں امیدوں کا تاراج کیا گیا.... کیوں ریت پر معصوم بدن گرائے گئے....ڈھائے گئے اور اس رات کو کس کس نے اپنی آنکھوں کے سامنے خون سے نہاتے دیکھا ہوگا.... کس کس نظر نے معصوموں کے سینوں پر میزائل کی گولیوں کو ان کے سینوں میں پیوست ہوتے دیکھا ہوگا.... وہ کیا دردناک فضاءہوگی.... ماحول ہوگا.... لمحہ شہادت ہوگا.... وہ زخمی ماں، زخمی بہن، بھائی جنہوں نے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ ان معصوموں کو اٹھایا ہوگا.... جہاں ہر طرف موت بکھری پڑی تھی.... وہ قیامت صغریٰ تھی.... وہ قیامت کربلا تھی.... جہاں موت دندنا رہی تھی.... جب موت ہر طرف لپک رہی تھی.... جب شہادت کا وقت آیا ہوگا....؟ ماﺅں کے ان لالوں نے کس کس کو پکارا ہوگا....؟ کس کس کو آواز دی ہوگی.... جب موت کے بے رحم پنجے نے ان کے سینوں میں گاڑا گیا ہوگا....
پیارے پڑھنے والو.... آج پھر میرے اندر کا درد تازہ ہو رہا ہے.... آج پھر ان معصوم شہیدوں کے لئے جنہیں جنگی دہشت گرد مودی نے بارود بھری گولیوں سے ان کے سینوں میں اتارا گیا.... یہ بچے مجھے بھول نہ پائیں گے۔ آج سوچ رہا ہوں کہ بالآخر ہم سب نے خاک میں مل جانا ہے، یہ بازاروں کی رونقیں، یہ جوانی کی عیاشیاں اور نہ ان دریاﺅں کی لہریں ہمیشہ بل کھائیں گی، نہ سمندر زور آور ہوں گے، نہ بہاریں نوارد ہوں گی کہ جب نقارہ بجتا ہے تو پھر جانے والے رستوں کی طرف دیکھتا ہے، نہ اشکبار آنکھوں کی طرف....کل ان معصوموں کو لحد کے حوالے کر دیا گیا۔ سوگوار منظر سوگوار آنکھوں سے بہتے آنسوﺅں اور سوگوار دلوں کے ساتھ.... خدا حافظ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی لحدوں پر شبنم افشانی کرے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ 
اک نہ اک دن ہم کو چلے جانا ہے
کسی کو ذرا پہلے، کسی کو ذرا دیر بعد

ٹیگز: