ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کا دوسرا دن تھا کہ اسرائیل پر سو میزائل برسائے گئے، جنہوں نے قیامت برپا کر دی۔ اس حملے میں تل ابیب، بیرشیا، حیفہ اور اسرائیل کے چوتھے اہم شہر اشکلون کو نشانہ بنایا گیا۔ ہر شہر پر اوسطاً پچیس میزائل گرے جنہوں نے اہم دفاتر اور اہم ترین عمارات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل اس حملے سے بوکھلا گیا کیونکہ اس نے گزشتہ برس جنگ کی نسبت اپنی دانست میں اپنے بچائو کے بہتر انتظامات کئے تھے۔ اس حملے سے قبل نیتن یاہو امریکہ گئے تو انہوں نے امریکی صدر کو حملے میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے انہیں کہا کہ اسرائیل اس مرتبہ سات سو ایرانی میزائلوں کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکتا ہے لیکن ان کا اندازہ غلط نکلا۔ پہلے برسائے گئے سو میزائلوں نے اسرائیل کا منہ پھیر دیا۔ آئندہ چار روز میں امریکہ کے خلیج میں تمام اہم فوجی اڈے تباہ ہوئے تو امریکی صدر کے بھی ہاتھ پائوں پھول گئے۔ انہی لمحات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کچن کیبنٹ کو اکٹھا کیا اور ان سے پوچھا کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔ سویلین شخصیات کے پاس کسی سوال کا جواب نہ تھا لیکن سب انہیں تسلیاں دیتے رہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن جب سے اب تک وہ دن طلوع نہیں ہوا جب امریکہ کے لئے سب کچھ ٹھیک ہو جانے کی خبر کسی طرف سے آئی ہو۔ ہر طلوع ہونے والا دن بتاتا ہے کہ فلاں امریکی اڈے پر دوسرا حملہ ہوا ہے فلاں ریڈار سسٹم اندھا ہو گیا ہے اور فلاں اڈہ مکمل طور پر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایسی ہی خبریں اسرائیل سے آئیں جہاں تل ابیب میں موساد ہیڈکوارٹرز اور اسرائیلی وزیراعظم کے دفاتر میزائل حملوں میں تباہ ہو گئے اور امریکہ و اسرائیل سے باہر محفوظ سمجھے جانے والے اڈوں میں موجود سیکڑوں امریکی و اسرائیلی فوجی مارے گئے۔ امریکی طیاروں کے گرائے جانے اور ائیرکرافٹ کیرئیر پر متعدد میزائل گرنے کی خبروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا بلڈ پریشر ڈائون کر دیا، انہیں سنبھالنے کے لئے ان کے میڈیکل یونٹ کے ڈاکٹر حرکت میں آئے لیکن انہیں کوئی بڑی کامیابی نہ ملی جس پر ان کے پنج پیادوں میں سے ایک نے روحانی علاج کا مشورہ دیا جس پر جنگی بنیادوں پر عمل کرتے ہوئے چرچ کے پادریوں کو طلب کیا گیا جنہوں نے اوول آفس پہنچ کر دعائیں پڑھیں۔ پانی پر دم کر کے پورے اوول آفس میں اس کا چھڑکائو کیا، اس موقع پر ایک خصوصی تصویر ریلیز کی گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ دفتر میں اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں، ان کے دونوں طرف ان کے وزیر مشیر کھڑے ہیں جنہوں نے امریکی صدر کو یوں تھام رکھا ہے جیسے انہیں اس بات کا خطرہ ہو کہ ابھی دفتر کی چھت پھٹے گی اور کوئی ڈونلڈ ٹرمپ کو اٹھا لے جائے گا۔ ٹرمپ اس قدر گھبرائے ہوئے تھے کہ انہوں نے بیان جاری کر دیا کہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے یوں لگتا ہے جیسے انہوںنے ٹروتھ سوشل پر شاید ملک الموت کا کوئی ٹویٹ پڑھ لیا ہے جس میں عزرائیل نے اپنی روانگی کی اطلاع دیتے ہوئے اپنی لینڈنگ کے وقت سے بھی مطلع کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پلیٹ لیٹس کتنے کم ہو چکے ہیں اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں لیکن ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ہیجانی کیفیت میں ہیں، ان کی نیند اڑ چکی ہے، وہ دوائوں کے سہارے بمشکل دو گھنٹے سوئے ہیں اور اس کچی نیند میں بھی ایک دو مرتبہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے ایران پر حملے کے پہلے روز بیان جاری کیا تھا کہ دو روز میں مشن ایران مکمل ہو جائے گا، اس کے بعد وہ اطمینان سے گالف کھیل سکیں گے لیکن ان کی حماقتوں کے سبب ایران ہر روز سیکڑوں میزائل امریکی اڈوں کی طرف اچھالتا ہے جس کے نتیجے میں وہ گالف کا کھیل بھول چکے ہیں اور شاید اب کبھی اپنے عشرت کدے میں بنائے گئے مارولاگو گالف کورس میں نظر نہ آئیں۔
امریکی صدر نے اپنے جرنیلوں اور خفیہ ایجنسیوں کے افسران کو جمع کر کے ان سے پوچھا کہ ایرانیوں کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمارے کس فوجی اڈے پر کتنے فوجی ہیں اور ہمارے کتنے فوجی کس ہوٹل کی منزل پر رہائش پذیر ہیں۔ ٹرمپ کی اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا۔
ان کے جنرل انہیں کیا کہہ کر تسلی دیتے ہیں یہ تو وہی بتا سکتے ہیں لیکن اس کا جواب نہایت سادہ ہے۔ ایرانیوں کو یہ اطلاعات اسی طرح ملتی ہیں جیسے امریکہ اور اسرائیل کو اطلاعات ملیں کہ ایرانی قیادت کب اور کہاں موجود ہو گی۔ ایرانی جنرل کب اور کہاں کس میٹنگ میں جمع ہوں گے جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر خاطر جمع رکھیں۔ کچھ عجب نہیں جب انہیں بذات خود اسرائیلی وزیراعظم کی موت کی تصدیق کرنا پڑے۔
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے رجیم چینج، مقامی افراد کی بغاوت، ایرانی سپاہ کی طرف سے وینزویلا سٹائل میں سرنڈر، دو روز میں ایران کو فتح کرنے کا خواب، سعودی عرب اور ایران میں جنگ شروع کرانے کا مکروہ منصوبہ اور ایرانی میزائل طاقت کو چند روز میں ختم کرنے کی ہر منصوبہ بندی ناکام ہو چکی ہے۔ اب انہیں ایران میں اپنی فوج اتارنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کا خاندان مختلف قسم کے کاروبار سے منسلک ہے۔ اس میں فاسٹ فوڈ بزنس بھی ہے لیکن انہوں نے مشرقی سٹائل میں چکن تکہ یا دنبے کی سجی بنتی نہیں دیکھی ہو گی۔ اس پکوان کی تیاری جس طرح کی جاتی ہے ہم آپ تو اس سے بخوبی واقف ہیں لیکن ٹرمپ یقینا ناواقف ہیں، ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے دنبے یا مرغ کو پہلے ضروری مرچ مسالا لگا کر اس کے زیریں حصے سے سلاخ ڈال کر بالائی حصے سے نکال لی جاتی ہے۔ یوں وہ سان پر چڑھ جاتا ہے پھر اسے دہکتے ہوئے کوئلوں کی بھٹی پر کافی دیر الٹ پلٹ کیا جاتا ہے جبکہ دنبے کو سلاخ میں پرونے کے بعد تندور میں لٹکا دیا جاتا ہے جہاں وہ اس قدر گل جاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی عمر کا بغیر دانتوں کے کوئی بھی ’’میٹ لور‘‘ اسے باآسانی کھا سکتا ہے اور ہضم کر سکتا ہے۔ اسے ہاضمے کی گولی یا شربت کی حاجت نہیں رہتی۔
امریکی فوج کی ایک بٹالین اتاریں یا ایک بریگیڈ، ایرانی فوج اور ایرانی عوام اس کا وہی حشر کر دیں گے جو چکن یا دنبے کا ہوتا ہے۔ عید قریب ہے ایک طرف تو چکن تکہ اور دنبہ سجی تیار ہو رہی ہو گی، دوسری طرف امریکی اور اسرائیلی فوجی نشان عبرت بن رہے ہوں گے۔ باقی رہا دماغ میں ایٹم بم چلانے کا خلل تو عرض ہے امریکی صدر یاد رکھیں۔ ایٹم بم صرف امریکہ کے پاس نہیں ہے۔ یہ امریکہ مخالف چار ممالک کے پاس ہے۔ امریکی اور اسرائیلی اپنی فرضی جنگی کامیابیوں کی کہانیاں سنانے سے پہلے ذرا آزاد میڈیا کو اسرائیل میں کوریج کی اجازت دیں تاکہ جھوٹ اور سچ سامنے آسکے۔ اسرائیل سے نکالے جانے والے آزاد میڈیا نمائندگان بتاتے ہیں اسرائیل کے چار بڑے شہر مکمل منہدم ہو چکے ہیں یہاں لاشوں کے انبار اور دھویں کے سوا کچھ باقی نہیں۔